روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

ایران جنگ سے کون سی امریکی اور اسرائیلی کمپنیاں منافع کما رہی ہیں؟

ایران جنگ سے کون سی امریکی اور اسرائیلی کمپنیاں منافع کما رہی ہیں؟

لاہور(جدوجہد رپورٹ)ایران کے خلاف جاری جنگ کے دوران امریکہ اور اسرائیل کی بڑی دفاعی کمپنیوں کے منافع میں بے پناہ اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اعلیٰ درجے کا اسلحہ بنانے کے حکم کے بعد ملک کی سب سے بڑی دفاعی کمپنیوں نے پیداوار چار گنا تک بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔

’الجزیرہ‘ کے مطابق یہ فیصلہ وائٹ ہاؤس میں ہونے والے اس اجلاس کے بعد سامنے آیا جس میں آر ٹی ایکس، لاک ہیڈ مارٹن، بوئنگ، نارتھ روپ گرومین، بی اے ای سسٹمز، L3Harris میزائل سلوشن اور ہنی ویل ایروسپیس کے سربراہان شریک تھے۔ یہ کمپنیاں اس وقت سینکڑوں ارب ڈالر کے آرڈرز پر کام کر رہی ہیں، جن میں بعض کی مالیت کئی ممالک کی مجموعی قومی آمدنی سے بھی زیادہ ہے۔

امریکہ فوجی اخراجات میں دنیا میں پہلے نمبر پر ہے اور 2025 میں اس نے تقریباً 1 ٹریلین ڈالر دفاع پر خرچ کیے۔ صدر ٹرمپ کا ہدف ہے کہ 2027 تک یہ رقم بڑھ کر 1.5 ٹریلین ڈالر ہو جائے۔ ایران کے خلاف جنگ میں پہلے ہی اربوں ڈالر کے ہتھیار استعمال ہو چکے ہیں، جو اسلحہ ساز کمپنیوں کے لیے بھرپور منافع کا ذریعہ بنے ہیں۔

گزشتہ ہفتے دفاعی کمپنیوں کے شیئرز میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ نارتھ روپ گرومین کے شیئرز میں5فیصد، آر ٹی ایکس کے4.5فیصد اور لاک ہیڈ مارٹن کے شیئر میں3فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

SIPRI کے مطابق 2024 میں دنیا کی ٹاپ 100 دفاعی کمپنیوں نے مجموعی طور پر 679 ارب ڈالر کی آمدنی حاصل کی۔ملکی اعتبار سے امریکی کمپنیوں نے 334 ارب ڈالر، چینی کمپنیوں نے 88ارب ڈالر، برطانوی کمپنیوں نے 52ارب ڈالر، روسی کمپنیوں نے 31ارب ڈالر، اور فرانسیسی کمپنیوں نے 26ارب ڈالر کمائے۔

یورپ کی بڑی کمپنیوں میں بی اے ای سسٹمز، لیونارڈو، ایئربس، تھالیس،اوررائن میٹل شامل ہیں، جن کی آمدنی میں یوکرین جنگ کے بعد اضافہ ہوا۔

امریکہ کی سب سے بڑی دفاعی کمپنیوں میں لاک ہیڈ مارٹن68.4ارب ڈالر(2024) آمدنی کے ساتھ دنیا کی سب سے بڑی دفاعی کمپنی ہے۔ آر ٹی ایکس (رے تھیون ٹیکنالوجیز)43.6ارب ڈالر آمدن کے ساتھ میزائل، انجن اور ایویونکس میں ایک بڑی کمپنی ہے۔ نارتھ روپ گرومین 37.9ارب ڈالر آمدنی کے ساتھ سٹیلتھ ٹیکنالوجی اور جوہری نظام بنانے والی کمپنی ہے۔ جنرل ڈائنامکس 33.6ارب ڈالر آمدنی کے ساتھ چوتھی بڑی امریکی دفاعی کمپنی ہے، جو آبدوزیں، جنگی گاڑیاں اور اسلحہ نظام تیار کرتی ہے۔ بوئنگ30.6ارب ڈالر آمدن کی حامل پانچویں نمبر کی دفاعی کمپنی ہے ، جو فوجی طیاری اور خلائی نظام بناتی ہے۔

اسرائیل کی بڑی دفاعی کمپنیوں میں 3کمپنیاں عالمی ٹاپ100میں شامل ہیں۔ ایلبٹ سسٹمز کی آمدنی2024میں 6.3ارب ڈالر رہی اور یہ کمنپنی ڈرونز اور نگرانی کا نظام بناتی ہے۔ اسرائیل ایئروانڈسٹریز(آئی اے آئی) کی آمدنی5.2ارب ڈالر رہی اور یہ میزائل دفاع، سیٹلائٹ اور جنگی ڈرونز بناتی ہے۔ رافائل کی آمدنی4.7ارب ڈالر رہی اور یہ آئرن ڈوم سمیت کئی گائیڈڈ میزائل نظام بناتی ہے۔

2024 میں عالمی دفاعی اخراجات 9.4 فیصد بڑھ کر 2.7 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئے۔نیٹو ممالک نے 2035 تک اپنے دفاعی بجٹ کو 5 فیصد جی ڈی پی تک بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس کے نتیجے کے طور پر آر ٹی ایکس کے شیئرز میں110فیصد ، نارتھ روپ گرومین کے شیئرز میں60فیصد، جنرل ڈائنامکس کے شیئرزمیں57فیصد، لاک ہیڈ مارٹن کے شیئرز میں37فیصد، جبکہ بوئنگ کے شیئرز میں 5فیصد اضافہ ہوا ہے۔

کمپنیاں نئے آرڈرز کے باعث پیداوار بڑھا رہی ہیں، جو ایران، یوکرین اور مشرق وسطیٰ میں جاری جنگوں کی وجہ سے مسلسل مانگ میں اضافے کا نتیجہ ہے۔

ایران کے خلاف استعمال ہونے والے ہتھیار اور انہیں بنانے والی کمپنیاں

امریکہ کے ایران کے خلاف جاری حملوں میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں اور دفاعی نظاموں کی تیاری مختلف بڑی امریکی کمپنیوں نے کی ہے۔

بوئنگ کمپنی نے بی ون بمبار، ایف15 لڑاکا طیارے، ای اے18 جی گروالرز، پی8 اے پوسائیڈن نگرانی کے طیارے اور آر سی135 جاسوس طیارے تیار کیے ہیں۔ آر سی135 میں مختلف تکنیکی ترامیم ایل تھری ہیریس ٹیکنالوجیز نے فراہم کی ہیں۔نارتھروپ گرومین نے بی ٹو سٹیلتھ بمبار تیار کیے اورای تھری سینٹری اے ڈبلیو اے سی ایس کے لیے ریڈار ٹیکنالوجی مہیا کی۔لاک ہیڈ مارٹن نے ایف35 لائٹننگ ٹو سٹیلتھ لڑاکا طیارے، ایف22 ریپٹر لڑاکا طیارے، تھاڈ میزائل دفاعی نظام، ایم142 ہیمارس، ایم جی ایم140 ایٹیکمز میزائل اور پرسیژن سٹرائیک میزائل تیار کیے۔آرٹی ایکس (رے تھیون ڈویژن) نے ٹوماہاک کروز میزائل اور MIM-104 پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام تیار کیے۔سپیکٹرورکس نے LUCAS یک طرفہ حملہ آور ڈرون تیار کیا، جو کم لاگت اور ہلکے حملوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔جنرل ایٹومکس ایروناٹیکل نے ایم کیو9 ریپر جنگی ڈرون بنائے۔ہنٹنگٹن انگلس انڈسٹریز نے یو ایس ایس ابراہیم لنکن اور یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ طیارہ بردار بحری جہاز تعمیر کیے ہیں۔

یہ تمام ہتھیار اور دفاعی نظام امریکی حملوں کے لیے استعمال ہو رہے ہیں اور متعلقہ کمپنیوں کے اربوں ڈالر کے آرڈرز پر مبنی ہیں۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں