روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

بنگلہ دیش: عوامی بغاوت، عام انتخابات اور بنیاد پرستی کے خطرات

بنگلہ دیش: عوامی بغاوت، عام انتخابات اور بنیاد پرستی کے خطرات

حارث قدیر

آج 12 فروری کو بنگلہ دیش میں تقریباً ایک دہائی کے بعد اہم ترین انتخابات منعقد ہورہے ہیں۔ 17 کروڑ سے زائد آبادی والے اس ملک کے 12 کروڑ ووٹرز ملک بھر میں 300 نشستوں کے لیے ووٹ ڈالنے کے اہل ہوں گے۔ اس عمل میں ’جولائی نیشنل چارٹر‘ پر ایک ریفرنڈم بھی شامل ہے۔ یہ چارٹر ادارہ جاتی اصلاحات کا نقشہ ہے۔ جس میں وزیر اعظم کے دور حکومت کی حد بندی، تناسبی نمائندگی کا انتخابی نظام، ایگزیکٹو اختیارات پر مضبوط نگرانی اور پارلیمانی طاقت کے ارتکاز کو روکنے کے دیگر حفاظتی اقدامات شامل ہیں۔ یہ چارٹر محمد یونس کی عبوری حکومت نے تجویز کیا ہے۔ جس کی (مرحومہ خالدہ ضیا کی پارٹی) بی این پی سمیت کئی سیاسی جماعتوں نے حمایت کی ہے۔ تاہم نئی قائم ہونے والی (طلبہ کی) جماعت این سی پی نے اس کی مخالفت کی ہے۔

بنگلہ دیشی سیاست طویل عرصے سے دو بڑی جماعتوں کے زیر اثر رہی ہے۔ عوامی لیگ کی قیادت شیخ حسینہ کر رہی ہیں اور مون سون بغاوت کے دوران اگست 2024ء میں وزارت عظمیٰ سے مستعفی ہونے کے بعد ملک سے فرار ہیں۔ بی این پی کی قیادت خالدہ ضیا کرتی تھیں۔ جن کی 30 دسمبر 2025ء کو وفات ہو گئی اور ان کی جگہ ان کے بیٹے طارق رحمان نے بطور چیئرمین ذمہ داریاں سنبھالی ہیں۔

الیکشن کمیشن کے مطابق 5 جنوری 2026ء تک 5 کروڑ 56 لاکھ 53 ہزار 176 ووٹر 18 سے 37 سال کے درمیان ہیں۔ یعنی مجموعی ووٹرز کا 44 فیصد۔ 2008ء میں ووٹرز کی تعداد 8 کروڑ 10 لاکھ تھی۔ جو 18 نومبر 2025ء تک بڑھ کر 12 کروڑ 76 لاکھ ہو گئی۔ یعنی 17 سال میں 4 کروڑ 66 لاکھ کا اضافہ ہوا۔

بنگلہ دیش کی نیشنل یوتھ پالیسی 2017ء کے مطابق 18 سے 35 سال کی عمر کے افراد کو نوجوان تصور کیا جاتا ہے۔ بنگلہ دیش یوتھ لیڈرشپ سینٹر کے ’’یوتھ میٹرز سروے 2025ء‘‘ کے مطابق 97 فیصد نوجوان ووٹ ڈالنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ نوجوانوں کی ترجیحات میں 67 فیصد بدعنوانی کا خاتمہ، 56 فیصد بیروزگاری سے نجات، 24 فیصد امن و سلامتی اور 14 فیصد جمہوری حقوق کا تحفظ شامل ہے۔

امریکہ کے انٹرنیشنل ریپبلکن انسٹیٹیوٹ کے سروے کے مطابق 89 فیصد نوجوان ووٹ ڈالنے کا امکان ظاہر کرتے ہیں، 80فیصد سمجھتے ہیں کہ انتخابات آزاد اور منصفانہ ہوں گے جبکہ 67 فیصد کہتے ہیں کہ ماضی کے انتخابات میں دھاندلی ہوئی۔

ماضی قریب کے انتخابات کو دیکھا جائے تو 2014ء میں بی این پی اور اپوزیشن نے بائیکاٹ کیا تھا۔ جس کی وجہ سے 153 نشستوں پر بلامقابلہ امیدوار کامیاب ہوئے۔ ان انتخابات میں ٹرن آؤٹ 40 فیصد کے قریب بتایا گیا۔ 2018ء میں راتوں رات بیلٹ باکس بھرنے کے الزامات سامنے آئے اور ٹرن آؤٹ 80 فیصد بتایا گیا۔ تاہم ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے بیشتر حلقوں میں جعلی ووٹوں کے شواہد سامنے رکھے۔ 2024ء میں بھی بی این پی کی قیادت میں اپوزیشن نے بائیکاٹ کیا۔ ٹرن آؤٹ 41.80 فیصد رہا۔ لیکن حکومت کی جانب سے اپنے خلاف آزاد امیدوار کھڑے کیے گئے۔ جنہیں ڈمی امیدوار قرار دیا گیا۔ یوں بہت سے نوجوان اپنے پہلے ووٹنگ کے تجربے کو خوف، دھونس اور دھاندلی کے طور پر یاد کرتے ہیں۔

ملک بھر میں جاری سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر انتخابات کے لیے فوج کو طلب کیا گیا ہے۔ تاہم اقلیتوں پر حملوں، اخبارات کے دفتروں میں جلاؤ گھیراؤ سمیت بھارتی شہریوں پر حملوں کے واقعات کے بعد صورتحال مزید سنگین ہو چکی ہے۔ ایسی کیفیت میں انتخابات کا پرامن طریقے سے انعقاد بھی ایک چیلنج بن چکا ہے۔

نوجوانوں کی پارٹی کے فیصلے اور اس کا مستقبل

طلبہ تحریک کے نتیجے میں حکومت کا تختہ الٹا گیا۔ نئی عبوری حکومت کے قیام کے بعد نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) کے نام سے نوجوانوں نے پارٹی قائم کرنے کا اعلان کیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ وہ سیاست کو روایتی انداز میں نہیں چلائیں گے۔ جولائی کی بغاوت سے ابھرتے ہوئے اس نے پرانی روایات سے خود کو الگ قرار دینے اور سیاسی زبان، عمل اور ذمہ داری کے شدید احساس کے ذریعے اپنی شناخت بنانے کا وعدہ کیا تھا۔ تاہم یہ وعدہ اب امتحان کا سامنا کر رہا ہے۔

دسمبر میں ایک پریس کانفرنس کے دوران جماعت اسلامی کے امیر شفیق الرحمن نے ایک نئے انتخابی محاذ کا اعلان کیا۔ یوں اب این سی پی‘ کرنل (ریٹائرڈ) علی احمد کی لبرل ڈیموکریٹک پارٹی (ایل ڈی پی) کے ہمراہ جماعت اسلامی کے موجودہ اتحاد میں شامل ہو چکی ہے۔

اس اتحاد نے جہاں کئی سوالات کھڑے کیے ہیں وہاں این سی پی کو بھی بحران سے دو چار کر دیا ہے۔ این سی پی کی نمایاں رہنما تسنیم جارا نے سینئرجوائنٹ سیکرٹری کے عہدے سے استعفیٰ دے کر ڈھاکہ 9 حلقے سے آزاد امیدوار کے طور پر انتخاب لڑنے کا اعلان کیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے ان کے کاغذات نامزدگی بھی منظور کر لیے ہیں۔ اس سے قبل تحریک کے ایک اور نمایاں رہنما عثمان ہادی، جو پارٹی کا حصہ بننے کی بجائے آزاد امیدوار کے طور پر انتخابات کی تیاری کر رہے تھے، نامعلوم افراد کی جانب سے قتل کر دئیے گئے تھے۔ ان کے قتل کا الزام بھارت پر عائد کیا گیا ہے۔ جس کے بعد اقلیتوں کے خلاف ایک نفرت انگیز مہم اور بھارتی شہریوں کے خلاف تشدد کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔

این سی پی کے لیے مزید بحران اس وقت پیدا ہوا جب جوائنٹ کوآرڈینیٹر نے بھی استعفیٰ دے دیا اور مرکزی کمیٹی کے 30 اراکین نے جماعت اسلامی کے ساتھ کسی بھی سیاسی اتحاد یا نشستوں کی تقسیم کی مخالفت میں ایک خط بھیجا۔ جوائنٹ کوآرڈینیٹر نے استعفیٰ کے بعد سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’’نامزدگیوں کی تعداد 125 سے کم ہو کر صرف30-40 ہونا کوئی ہنگامی اقدام نہیں بلکہ ایک جال ہے۔ آخری وقت اعلان روک کر این سی پی کی قیادت نے خود اپنے امیدواروں کے خلاف چال چلی ہے۔ وہ امیدوار جنہوں نے مہینوں کی محنت سے یہ یقین کر لیا تھا کہ وہ ملک بھر کے تمام حلقوں میں مقابلہ کریں گے‘ انہیں تنہا چھوڑ دیا گیا تاکہ وہ آزاد امیدوار کے طور پر لڑ سکیں۔ لیکن ان کے پاس اس کے لیے مناسب وقت نہیں رہا۔ یہ طریقہ کار نظریاتی نقصانات سے کہیں زیادہ نقصان دہ ہے۔ اعتماد نظریے سے زیادہ اہم ہے۔‘‘

این سی پی کی مرکزی کمیٹی کے 30 ارکان کے خط نے جماعت اسلامی کے سیاسی ماضی اور خاص طور پر 1971ء میں اس کے کردار کو این سی پی کی اقدار کے ساتھ غیر موافق قرار دیا۔ خط میں جماعت اسلامی پر دیگر پارٹیوں میں جاسوسی، تخریب کاری اور این سی پی کی خواتین کے خلاف آن لائن کردار کشی کا الزام بھی عائد کیا گیا۔

یوں این سی پی، جو پہلے ہی نظریاتی اور فکری طور پر ہوا میں معلق تھی، اب جماعت اسلامی کے ساتھ اتحاد کرنے اور 30 سے 40 نشستوں پر امیدوار نامزد کرنے کے بعد اپنے قیام سے پہلے ہی وجودی بحران کا شکار ہو چکی ہے۔

ماضی کے اتحادیوں کے مابین انتخابی مقابلہ

امریکی ادارے انٹرنیشنل ریپبلکن انسٹیٹیوٹ کی جانب سے گزشتہ ماہ جاری کیے گئے سروے کے مطابق بی این پی کے انتخابات جیتنے کے امکانات زیادہ ہیں۔ جبکہ جماعت اسلامی مقابلے میں ہے۔ جماعت اسلامی ماضی میں بی این پی کی اتحادی رہی ہے۔ اسے 2013ء میں انتخابات میں حصہ لینے سے اس وقت روک دیا گیا تھا جب عوامی لیگ کی حمایت یافتہ ایک عدالت نے مذہبی جماعتوں کو انتخاب لڑنے کے لیے نااہل قرار دیا تھا۔ جماعت اسلامی انتخابات میں 7 جماعتوں کے ساتھ اتحاد کے تحت حصہ لے رہی ہے۔ اس اتحاد میں لبرل ڈیموکریٹک پارٹی اور این سی پی نمایاں ہیں۔ لیکن دیگر چھوٹی مذہبی جماعتیں بھی شامل ہیں۔

بی این پی طارق رحمان کی سربراہی میں ان انتخابات میں حصہ لے رہی ہے۔ جس کے ساتھ اتحاد میں کچھ چھوٹی جماعتیں اور علاقائی گروہ شامل ہیں۔ اسی طرح عوامی لیگ بھی انتہائی کمزور پوزیشن میں ہی سہی لیکن انتخابات میں اپنی دو اتحادی جماعتوں کے ساتھ حصہ لے رہی ہے۔

بائیں بازو کی 7 تنظیموں نے بھی لیفٹ ڈیموکریٹک الائنس قائم کرتے ہوئے 90 سے زائد نشستوں پر انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم اندازوں کے مطابق بائیں بازو کی قوتیں کوئی غیر معمولی کارکردگی دکھانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔

معاشی چیلنج اور محنت کشوں کے مسائل

قومی ورکرز رائٹس ایڈووکیسی الائنس کی جانب سے آئندہ عام انتخابات سے قبل سیاسی جماعتوں کے سامنے 15 نکاتی منشور پیش کیا گیا ہے۔ جس کا مرکزی مطالبہ قومی سطح پر اتنی کم از کم اجرت کا تعین ہے جو محنت کشوں کو باعزت معیار زندگی فراہم کرسکے۔ اسی طرح محنت کشوں کے لیے قوانین میں ترامیم کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے تاکہ تمام مزدوروں کو قانونی تحفظ اور مکمل شناخت مل سکے۔ اس میں تنظیم سازی اور اجتماعی سودے بازی کے حق کی ضمانت (بشمول ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز)، کام کی جگہ پر حفاظتی اقدامات، حادثات کی شفاف تحقیقات اور مناسب معاوضے کو یقینی بنانا شامل ہے۔ صنفی مساوات، ہراسگی اور تشدد سے تحفظ اور چھ ماہ کی تنخواہ سمیت زچگی کی رخصت پر بھی زور دیا گیا ہے۔

دوسری جانب انتخابات میں بہت سے وعدے بھی کیے جا رہے ہیں۔ تاہم اگلی حکومت کو ایسی معیشت وراثت میں ملے گی جو طویل عرصے سے پالیسی کی سست روی، ادارہ جاتی زوال اور کمزور میکرو اکنامک انتظام کے باعث شدید دباؤ میں ہے۔ گزشتہ برسوں میں بنگلہ دیش کی اقتصادی ترقی کی رفتار سست ہوئی ہے۔ مہنگائی بلند رہی ہے اور بینکنگ سیکٹر غیرادائیگیوں کے بوجھ تلے دب رہا ہے۔ نجی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کم ہے، ریاستی سرمایہ کاری غیرموثر ہے، قرضہ بڑھ رہا ہے، حقیقی اجرتیں اور روزگار کے مواقع کم ہو رہے ہیں۔

اس پس منظر میں نئی منتخب حکومت کو اقتصادی نظم و ضبط بحال کرنے، حکمرانی مضبوط کرنے اور عام شہریوں کے لیے بہتر نتائج فراہم کرنے کے لیے ایک ’’وسیع اصلاحاتی ایجنڈے‘‘ کا سامنا ہو گا۔ جو ظاہر ہے موجودہ نظام کے اندر رہتے ہوئے کم از کم عوام کے مفادات میں مرتب نہیں کیا جا سکتا۔

پہلا اور سب سے اہم مسئلہ مہنگائی پر قابو پانا ہے۔ پچھلے کئی سالوں سے ملک میں مہنگائی بہت زیادہ رہی ہے۔ جس کی بنیادی وجوہات خوراک اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ہیں۔ کم آمدنی والے خاندانوں کا نصف سے زیادہ گھریلو خرچ خوراک پر ہوتا ہے۔ اس لیے قیمتوں میں اضافہ قوت خرید کو بہت کم کر چکا ہے اور مالی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔ اجرتوں میں اضافے کی شرح‘ مہنگائی کے مقابلے میں کم رہی ہے۔ جس کی وجہ سے حقیقی آمدنی میں کمی، گھریلو بچتوں کا خاتمہ اور متوسط طبقے کی تعلیم، صحت اور غذائیت متاثر ہوئی ہے۔

عالمی سطح پر اجناس کی بلند قیمتوں نے درآمدات کے اخراجات بڑھائے ہیں۔ توانائی کی قیمتیں برسوں تک لاگت سے کم رکھی گئیں اور پھر اچانک بڑھا دی گئیں‘ جس سے پیداواری لاگت بڑھی۔ داخلی و بیرونی قرضوں کا بوجھ بڑھ رہا ہے۔ جبکہ کمزور مسابقت، ذخیرہ اندوزی کی ناقص سہولیات اور نقل و حمل کے ناکافی بنیادی ڈھانچے نے خوراک کی فراہمی کو محدود کیا ہے۔

گزشتہ برسوں میں بنگلہ دیش میں سرمایہ کاری کا عمل سست ہوا ہے۔ نجی سرمایہ کاری رک گئی ہے جبکہ بڑھتی ہوئی حکومتی سرمایہ کاری معیار، حکمرانی اور کارکردگی کے مسائل کی وجہ سے محدود نتائج دے رہی ہے۔ غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری علاقائی مقابلوں کے حوالے سے خاصی کمزور ہے۔

تیسرا مسئلہ روزگار کی تخلیق ہے۔ بنگلہ دیش ایک آبادیاتی سنگ میل پر کھڑا ہے۔ ہر سال تقریباً دو ملین (بیس لاکھ) نوجوان لیبر فورس میں شامل ہوتے ہیں۔ لیکن روزگار کی بڑھوتری اس سے بہت کم ہے۔ نوجوانوں میں بیروزگاری مجموعی شرح سے دو گنا ہے اور زیادہ تر نئے روزگار غیر رسمی اور کم پیداواری ہیں۔ تعلیم یافتہ بیروزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے۔ جو تعلیم اور لیبر مارکیٹ کی ضروریات کے درمیان بڑھتی ہوئی عدم مطابقت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ صرف اقتصادی ناکامی نہیں بلکہ ایک سماجی اور سیاسی خطرہ بھی ہے۔

خارجی تعلقات میں بڑھتے چیلنج

طلبہ تحریک کے نتیجے میں حسینہ حکومت کے خاتمے کے بعد بنگلہ دیش اور بھارت کے تعلقات کافی کشیدہ ہو گئے ہیں۔ حسینہ کے حامیوں پر حملوں کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ جن میں سے بہت سے ہندو برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔ عثمان ہادی کے قتل کے بعد یہ سلسلہ مزید بڑھ گیا ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اسلامی بنیاد پرست رجحانات اپنا اثر و رسوخ دوبارہ قائم کرنے کے لیے اس صورتحال کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

بھارت مخالف جذبات انتخابات کے بعد بھی بھڑکے رہنے کے امکانات ہیں۔ حسینہ کے دور میں بھارت کا بنگلہ دیش پر بہت اثر تھا۔ تاہم خالدہ ضیا کی بی این پی کو بھارت مخالف تصور کیا جاتا ہے۔ اب عبوری حکومت نے اسلام آباد کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کی کوشش کی ہے۔ حال ہی میں پاکستان کی جانب سے جے ایف 17 تھنڈر فائٹر طیاروں کی ممکنہ فروخت کا اعلان کیا گیا ہے اور بیجنگ کے ساتھ تعلقات بھی مضبوط ہو رہے ہیں۔ اس عمل سے بھارت کے اپنے پڑوسی ملکوں میں اثر و رسوخ کو نقصان پہنچے گا۔ چین اور پاکستان کا حمایت یافتہ بنگلہ دیش نئی دہلی کے لیے سنجیدہ مسائل پیدا کر سکتا ہے۔

میانمار اور روہنگیا بحران بھی ایک چیلنج ہے۔ بی این پی کی قیادت نے اشارہ دیا ہے کہ روہنگیا بحران کا حل اس کی ملکی اور خارجہ پالیسی کا اہم حصہ ہو گا۔ تاہم جماعت اسلامی ممکنہ طو رپر ایک آزاد روہنگیا ریاست کے قیام کی حمایت بھی کر سکتی ہے۔ جسے مبینہ طور پر اس نے چینی حکام کے ساتھ ملاقاتوں میں زیر بحث بھی لایا ہے۔

بنیاد پرستی کے خطرات

بنگلہ دیش میں حالیہ سیاسی تبدیلیوں کے بعد مذہبی شدت پسندی کے ابھار‘ بالخصوص خواتین اور اقلیتوں کے حقوق کو لاحق خطرات سے متعلق تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں محمد یونس حکومت کی جانب سے بھی تعلیمی نصاب میں سے میوزک کلاسوں اور جسمانی سرگرمیوں کا خاتمہ کرنے جیسے اقدامات کیے گئے ہیں۔ قدامت پسند تشریحات نمایاں ہو رہی ہیں اور دوبارہ سے بنگلہ دیش کے اندر مسلم قوم پرستی کا ابھار ایک سرکاری سرپرستی میں نمایاں ہو رہا ہے۔

جماعت اسلامی کو انتخابات میں نمایاں حاصلات ملنے کے بعد بنیاد پرست رجحانات میں اضافے کے امکانات مزید بڑھ جائیں گے۔ ایک بار پھر بنگلہ دیش میں بنگالی قومی پرستی، اسلامی قوم پرستی اور بنگلہ دیشی قوم پرستی کی تقسیم بھی ابھرتے ہوئے نظر آ سکتی ہے۔ ایسی کیفیت میں مذہبی اور نسلی اقلیتوں کے ساتھ ساتھ خواتین کے حقوق متاثر ہونے کے خطرات بڑھ جائیں گے۔

تحریک کا مستقبل

سرمایہ داری کے اندر رہتے ہوئے علاقائی سامراجی طاقتوں کے مفادات اور مقاصد کی تکمیل کے لیے نئی صف بندی کرنے سے عالمی خبروں میں نمایاں مقام تو مل سکتا ہے۔ لیکن بنگلہ دیش کے 17 کروڑ سے زائد عوام کے مقدر تبدیل ہونے کا کوئی امکان نظر نہیں آ رہا ہے۔

آج بھی بنگلہ دیش کی دوسری بڑی ایکسپورٹ لیبر پاور ہے۔یہ مزدور اپنے ملک میں روزگار کی عدم دستیابی کی وجہ سے دنیا بھر میں انتہائی کم اجرتوں پر معاشی جلا وطنی کاٹنے پر مجبور ہیں۔ تحریک کے نتیجے میں حکومت تو تبدیل ہو گئی، انتخابات کے نتیجے میں نئی حکومت کا انتخاب بھی ہو جائے گا، لیکن نظام پھر بھی وہی رہے گا، استحصال کی شکلیں بھی وہی رہیں گی۔ الٹا پہلے سے زیادہ بنیاد پرستی، شدت پسندی، نفرت اور تعصب کی سیاست پروان چڑھ سکتی ہے۔ عوامی تحریکیں جب حقیقی متبادل نہ دے سکیں تو پھر غلاظت اور فرسودگی جنم لیتی ہے۔ بنگلہ دیش کے محنت کشوں اور نوجوانوں کے لیے یہ ایک کڑے امتحان کا وقت ہے۔ نئے حالات انہیں مذکورہ تلخ حقائق کے ادراک اور متبادل کی تلاش پر مائل بھی کریں گے۔ ایک انقلابی سوشلسٹ پروگرام سے لیس قیادت کی ضرورت ہے۔ جو بنگلہ دیش کے محنت کشوں اور طلبہ کی امنگوں کی ترجمانی کر سکے اور اس نظام کو اکھاڑ پھینکتے ہوئے ایک سوشلسٹ بنگلہ دیش اور سوشلسٹ جنوب ایشیا کی تعمیر کی راہ ہموار کرے۔

Haris Qadeer

حارث قدیر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے ہے۔  وہ لمبے عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں