لاہور(جدوجہد رپورٹ)میڈیا آزادی کے عالمی نگران ادارے کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے) نے اپنی تازہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ 2025 دوسرا مسلسل سال تھا جس میں صحافیوں کی ہلاکتیں ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں، اور اس کی بنیادی وجہ اسرائیل کی طرف سے غزہ میں جاری وسیع فوجی کارروائیاں ہیں۔
’ٹربیون‘ کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی حملوں میں مارے جانے والے 86 صحافیوں میں سے 60 فیصد سے زائد فلسطینی رپورٹر تھے جو محاصرے میں جکڑی ہوئی غزہ پٹی سے جنگ کی کوریج کر رہے تھے۔ اقوامِ متحدہ کے ماہرین اور انسانی حقوق تنظیموں کے مطابق غزہ میں تشدد کا پیمانہ اور طریقہ نسل کشی کے مترادف ہے۔
گزشتہ سال ہلاک ہونے والے 75 فیصد سے زیادہ صحافی جنگ زدہ علاقوں میں مارے گئے۔سی پی جے کے 30 سالہ ریکارڈ کے مطابق اسرائیلی فوج دنیا کی وہ واحد ریاستی فوج ہے جس کے ہاتھوں سب سے زیادہ صحافی جان سے گئے۔
رپورٹ میں بھارت اور میکسیکو جیسے ممالک میں بھی صحافیوں کے قتل کا ذکر ہے، جہاں ہر سال کم از کم ایک صحافی ہلاک ہوتا ہے۔میکسیکو میں 2025 میں 6 صحافی قتل ہوئے اور تمام کیسز تاحال نامکمل یا غیر حل شدہ ہیں۔
پاکستان اور سعودی عرب کو بھی صحافیوں کے قتل اور کمزور قانون کی حکمرانی کے باعث خطرناک ممالک کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔
سی پی جے کے مطابق 2025 میں ڈرون حملوں میں 39 صحافی مارے گئے، 2023 میں یہ تعداد صرف 2 تھی۔2023 سے 2025 تک ڈرون حملوں میں کل 62 صحافی مارے گئے، جن میں اسرائیل 75 فیصد حملوں کا ذمہ دار ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ کئی ممالک میں صحافیوں کو پہلے مجرم یا دہشت گردقرار دے کر ان کے خلاف حملوں کو جواز دیا جاتا ہے۔سی پی جے کے مطابق اسرائیل نے متعدد صحافیوں کو قتل کرنے کے بعد غیر مصدقہ دعوے کیے کہ وہ جنگجوتھے، جن میں الجزیرہ کے رپورٹر انس الشریف کا کیس سب سے نمایاں ہے۔
رپورٹ کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے اب تک ایک بھی اسرائیلی اہلکار کسی صحافی کے قتل پر جواب دہ نہیں ٹھہرا۔
سی پی جے نے حکومتوں سے کہا کہ صحافیوں کے قتل کی تحقیقات کے لیے بین الاقوامی ٹاسک فورس بنائی جائے اور حملہ آوروں پر ٹارگٹڈ پابندیاں عائد کی جائیں۔
2025 میں بھی بڑی تعداد میں صحافی قید کیے گئے، انہیں ہراسانی، جھوٹے مقدمات اور تشدد کا سامنا رہا۔گلوبل پریس فریڈم گروپ کے مطابق صحافیوں کے قاتلوں کو سزا نہ ملنا مزید حملوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔