روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

ٹرمپ، یورپ اور بین الاقوامی نیو فسطائی تحریک: نظریاتی حمایت سے سیاسی رابطہ کاری تک

ٹرمپ، یورپ اور بین الاقوامی نیو فسطائی تحریک: نظریاتی حمایت سے سیاسی رابطہ کاری تک

ایرک توساں

دسمبر 2025 میں شائع ہونے والی نیشنل سیکیورٹی اسٹریٹیجی (این ایس ایس2025) کی دستاویز اس حوالے سے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ ’’مغربی تہذیب‘‘اور ’’یورپی شناخت‘‘کے دفاع کے نام پر ٹرمپ انتظامیہ یورپ میں اپنے حقیقی ’’حلیفوں‘‘کی واضح نشاندہی کرتی ہے،یعنی یورپی یونین کے رکن ممالک یا ان کے ادارے نہیں، بلکہ وہ قوم پرست، مطلق العنان اور رجعتی سیاسی قوتیں جنہیں واشنگٹن ’’محب وطن یورپی جماعتیں‘‘قرار دیتا ہے۔ اس موقف کے ساتھ ساتھ سازشی، نسل پرستانہ اور آبادیاتی بیانیہ بھی شامل ہے،جو’’عظیم نسلی تبدیلی‘‘اور ’’تہذیبی جنگ‘‘جیسی تھیوریوں سے جڑا ہوا ہے،اور اسی تناظر میں ان گروہوں کے لیے کھلی، براہ راست اور بعض اوقات ڈرامائی سیاسی سرپرستی بھی فراہم کی جاتی ہے۔

یہ مضمون اس اسٹریٹجک تبدیلی، اس کی نظریاتی بنیادوں اور اس کے عملی اثرات کا تجزیہ کرتا ہے۔ یہ دکھاتا ہے کہ ٹرمپ اور ان کے قریبی ساتھی کس طرح یورپ میں انتہائی دائیں بازو کی انتخابی قوت میں اضافے کی حمایت کرتے ہیں، تاکہ یورپی سیاسی ڈھانچے کو ازسر نو تشکیل دیا جائے، یورپی یونین کو کمزور کیا جائے اور ٹرمپ ازم اور بڑی امریکی نجی کارپوریشنوں کے مفادات پر مبنی ایک بین الاقوامی نیو فسطائی بلاک تشکیل دیا جائے۔ ایرک تُوساں اس حد تک واضح کرتے ہیں کہ یورپی انتہائی دائیں بازو نے اب تک کس طرح ٹرمپ ازم کے لیے ہمدردی کا اظہار کیا ہے اور اس کی تقلید کی کوشش کی ہے۔ وہ این ایس ایس 2025،جرمنی کے معاملے، یورپی یونین کے اداروں میں دائیں بازو کے ابھار، اور CPAC و فورومیڈرڈ  جیسے سرحد پار نیٹ ورکس کا تجزیہ کرتے ہوئے اس عالمی سیاسی یلغار کی ہم آہنگی اور خطرات کو نمایاں کرتے ہیں۔

ٹرمپ کے پہلے دور حکومت (2017) سے دوسرے دور (2025) تک، یورپ کے حوالے سے ایک اہم تبدیلی

2017 میں شائع ہونے والی نیشنل سکیورٹی اسٹریٹیجی میں ڈونلڈ ٹرمپ کا یورپ کے بارے میں موقف مثبت تھا:

’’امریکہ اپنے یورپی اتحادیوں اور شراکت داروں کے لیے پرعزم ہے۔ آزاد اور خودمختار ریاستوں پر مشتمل نیٹو اتحاد ہمارے مد مقابلوں پر ایک بڑا فائدہ ہے، اور امریکہ واشنگٹن معاہدے کے آرٹیکل V کے لیے پرعزم رہے گا۔ یورپی اتحادی اور شراکت دار ہماری اسٹریٹجک پہنچ کو بڑھاتے ہیں اور عالمی آپریشنز کے لیے فارورڈ بیسز اور اوور فلائٹ رائٹس تک رسائی فراہم کرتے ہیں۔ ہم مل کر مشترکہ خطرات کا مقابلہ کرتے ہیں۔ یورپی ممالک افغانستان میں جہادی دہشتگردوں کے خلاف لڑنے، عراق کو مستحکم کرنے اور افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں دہشتگرد تنظیموں کے خلاف لڑائی میں ہزاروں فوجی فراہم کر رہے ہیں۔‘‘(این ایس ایس 2017، صفحہ 48)

یورپ کے عنوان سے لکھی گئی اس پوری شق میں نہ تو یورپی حکومتوں پر کوئی تنقید تھی اور نہ یورپی کمیشن پر۔ 2017 اور 2025 کے درمیان فرق بے حد واضح ہے۔ دسمبر 2025 کے اوائل میں شائع ہونے والی نئی نیشنل سیکیورٹی اسٹریٹیجی (این اسی ایس 2025) میں ٹرمپ نے ایک نہایت واضح، کھلا اور بنیادی نوعیت کا یوٹرن لیا۔

ٹرمپ یورپی داخلی معاملات میں کھل کر مداخلت کر رہے ہیں اور انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں اور حکومتوں کی بے جھجک حمایت کرتے ہیں۔ وہ یورپی کمیشن پر سخت تنقید کرتے ہیں کہ وہ رکن ممالک کی خودمختاری کو کمزور کر رہا ہے۔ ٹرمپ کے حملوں کے سامنے یورپی کمیشن نے ایک فرمانبردار، ماتحت رویہ اختیار کر لیا ہے:

٭ٹرمپ کی جانب سے عائد کردہ محصولات (ٹیرفس) کے معاملے پر؛
٭اس تناظر میں کہ یورپی یونین نے امریکہ سے مائع قدرتی گیس اور دیگر فوسل فیول کی درآمدات بڑھانے کا وعدہ کیا؛
٭امریکہ سے ہتھیاروں کی خریداری اور دفاعی اخراجات میں نمایاں اضافہ قبول کر لیا؛
٭اور نیتن یاہو کی نیوفسطائی حکومت اور اسرائیلی ریاست کے ساتھ گٹھ جوڑ میں، جس کی ٹرمپ نے فلسطینی عوام کے خلاف جاری نسل کشی کے دوران غیر متزلزل حمایت کی ہے۔

ٹرمپ کے گرین لینڈ سے متعلق دعوے یورپی یونین کے ممالک کے بارے میں ان کی پالیسی میں بڑے تغیر کی واضح علامت ہیں۔ مختلف معاملات پر یورپی رہنماؤں کے ماتحتانہ طرز عمل نے ٹرمپ کو اپنے مطالبات مزید بڑھانے پر اکسایا ہے۔ اگرچہ بعض معاملات جیسے کہ گرین لینڈ پر یورپی رہنما زبانی طور پر کچھ مزاحمت کرتے دکھائی دیتے ہیں، لیکن مجموعی طور پر وہ دفاعی پوزیشن میں ہی رہتے ہیں۔

گرین لینڈ اور اس کے قدرتی وسائل کو اپنے زیر اختیار لانے کی خواہش واضح طور پراین ایس ایس 2025 کی اس توجہ کے عین مطابق ہے جو مغربی نصف کرہ پر مرکوز ہے ۔یہ علاقہ ٹرمپ کے نزدیک شمال میں کینیڈا اور گرین لینڈ سے لے کر جنوب میں پیٹاگونیا تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ خواہش ان کے اس بے لاگ ارادے کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ پورے خطے پر مکمل غلبہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ یہ رجحان وینزویلا کے خلاف فوجی اقدامات، اس کے تیل کے ذخائر پر مکمل قبضے کے ارادے، اور پاناما کینال، کینیڈا، کیوبا اور کولمبیا کے لیے دیے گئے دھمکی آمیز بیانات کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے۔

آئیے نیشنل سکیورٹی دستاویز کی طرف لوٹیں، جس میں ٹرمپ کی گرین لینڈ کو ضم کرنے یا خریدنے کی خواہش کا براہ راست ذکر موجود نہیں تھا۔

یورپ کے حوالے سے ٹرمپ کی این ایس ایس 2025 دستاویز میں کہا گیا ہے:

’’ہم اپنے اتحادیوں کی حمایت کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ یورپ کی آزادی اور سلامتی کو محفوظ رکھ سکیں، جبکہ یورپ کے تہذیبی اعتماد اور مغربی شناخت کو بحال کریں؛‘‘(این ایس ایس 2025، صفحہ 5)

ہمیں بالکل واضح ہونا چاہیے کہ ٹرمپ انتظامیہ ’’ہمارے اتحادیوں‘‘ سے کیا مراد لیتی ہے۔ ’’اتحادی‘‘ سے مراد پورا یورپ یا اس کے تمام ممالک نہیں ہیں، بلکہ اس سے مراد یورپ کے اندر وہ انتہائی دایاں بازو یا نیو فسطائی جماعتیں ہیں جنہیں ٹرمپ ’’محب وطن یورپی جماعتیں‘‘ کہتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے سرکاری دستاویز کے مطابق ان ’’محب وطن یورپی جماعتوں‘‘ کو مبینہ طور پر یورپی حکام اور یورپ کے کئی ممالک کی اکثر کمزور یا اقلیتی حکومتوں کی جانب سے دبایا جا رہا ہے۔ مثال کے طور پر وہ یقینا فرانس اور اسپین جیسی حکومتوں کو ذہن میں رکھتے ہیں۔

یورپ میں انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں کو واشنگٹن کی حمایت درج ذیل جملے میں بالکل دوٹوک انداز میں ظاہر ہوتی ہے:

’’امریکہ یورپ میں اپنے سیاسی اتحادیوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے کہ وہ اس روحانی احیا کو فروغ دیں، اور محب وطن یورپی جماعتوں کا بڑھتا ہوا اثر واقعی بڑے امید افزا امکانات پیدا کرتا ہے۔‘‘(این ایس ایس 2025، صفحہ 26)

مزید یہ کہ جیسا کہ پہلے دکھایا گیا، ٹرمپ نسل پرستانہ سازشی تھیوری ’’عظیم نسلی تبدیلی‘‘ (Great Replacement) کی حمایت کرتے ہیں۔ ایسا وہ یہ دعویٰ کرتے ہوئے کرتے ہیں کہ ہجرت کے نتیجے میں مستقبل میں بعض یورپی ممالک ’’یورپی‘‘ نہیں رہیں گے۔ امریکہ میں اسے ’’گوروں کی نسل کشی‘‘ (white genocide) کی تھیوری کہا جاتا ہے۔ ٹرمپ ازم کے اہم نظریاتی معماروں میں سے ایک اسٹیو بینن خصوصاً اپنے قوم پرستانہ، مطلق العنان اور انتہائی دائیں بازو کے زاویات کے حوالے سے’’تہذیبی جنگ‘‘،’’مغرب کی تباہی‘‘، ’’سیاسی ہتھیار کے طور پر بڑے پیمانے کی ہجرت‘‘ اور’’عوام سے غداری کرنے والی عالمی سرمایہ دار ایلیٹ‘‘ جیسے تصورات کو فروغ دیتے ہیں۔ یہی تمام عناصر ٹرمپ کی یورپ سے متعلق دستاویز میں بھی پائے جاتے ہیں، جہاں وہ یورپ کی معاشی زوال کے بارے میں دعویٰ کرتے ہیں کہ:
’’لیکن یہ معاشی زوال بھی یورپ کو لاحق اس حقیقت پسندانہ اور زیادہ سنگین خطرے ، یعنی تہذیبی مٹاؤں کے امکان کے سامنے ماند پڑ جاتا ہے۔ یورپ کو درپیش بڑے مسائل میں یورپی یونین اور دیگر ٹرانس نیشنل اداروں کی سرگرمیاں شامل ہیں جو سیاسی آزادی اور خودمختاری کو کمزور کرتی ہیں، ہجرت کی پالیسیاں جو براعظم کو بدل رہی ہیں اور انتشار پیدا کر رہی ہیں، آزادی اظہار پر سنسرشپ اور سیاسی اپوزیشن کا کچلا جانا (یہاں ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کا اشارہ انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں اور ان کی نسل پرستانہ یا تارکین وطن مخالف مہمات پر پابندیوں کی طرف ہے : مترجم)، پیدائش کی شرح میں کمی، اور قومی شناخت اور اعتماد کا خاتمہ کرتی ہیں۔‘‘(این ایس ایس 2025، صفحہ 25)

عظیم نسلی تبدیلی کی یہ سازشی تھیوری اس جملے میں بھی پوری شفافیت سے نظر آتی ہے:

’’طویل مدت میں یہ بالکل ممکن ہے کہ زیادہ سے زیادہ چند دہائیوں میں بعض نیٹو ممالک اکثریتی طور پر غیر یورپی آبادی پر مشتمل ہو جائیں۔‘‘ (این ایس ایس 2025، صفحہ 27)

جرمنی: ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کی نیو فسطائی انتہائی دائیں بازو کے لیے حمایت کی ایک واضح مثال

2025کے اوائل میں جاری جرمنی کی انتخابی مہم کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے براہ راست نیو فسطائی جماعت اے ایف ڈی (آلٹرنیٹو فار جرمنی) کی حمایت کی۔ اس حمایت کے اہم ذرائع ان کے مشیر ایلون مسک اور نائب صدر جے ڈی وینس تھے۔یہ جرمنی کے قبل از وقت وفاقی انتخابات (Bundestagswahl) تھے، جو بروز اتوار 23 فروری 2025 کو منعقد ہوئے۔ ان امریکی شخصیات کی مداخلت اور سرپرستی بنیادی طور پر یوں سامنے آئی کہ 2024 کے آخر اور 2025 کے اوائل میں، ایلون مسک نے اپنے سوشل نیٹ ورک ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر کھل کراے ایف ڈی کی حمایت کی، سوشل ڈیموکریٹ چانسلر اولاف شولس پر حملے کیے، اور اعلان کیا کہ’’صرف اے ایف ڈی ہی جرمنی کو بچا سکتی ہے۔‘‘جنوری 2025 میں انہوں نے اے ایف ڈی کی رہنما ایلس وائیڈل کے ساتھ ایک لائیو گفتگو کا اہتمام بھی کیا۔علاوہ ازیں، فروری 2025 کے وسط میں، جے ڈی وینس نے میونخ سکیورٹی کانفرنس (14-16 فروری 2025) میں تقریر کرتے ہوئے جرمنی کی روایتی جماعتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اے ایف ڈی کے خلاف ’’کورڈون سینیٹیئر‘‘ یعنی حفاظتی دیوار یا فائر وال ختم کریں۔ جرمن حکومت نے اسے انتخابی عمل میں براہ راست مداخلت کے طور پر دیکھا۔

یہ بھی قابل ذکر ہے کہ جرمنی کی انتخابی مہم کے عین دوران20 جنوری 2025 کوڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب میں ایلون مسک نے اسٹیج پر اپنی تقریر کے دوران ایک ایسا اشارہ کیا جس میں انہوں نے پہلے دل پر ہاتھ مارا، پھر اپنا دایاں بازو آگے بڑھایا، ہتھیلی نیچے کی طرف اور انگلیاں اکڑی ہوئی تھیں۔ بہت سے مبصرین، مورخین اور میڈیا نے اسے نازی یا رومی فاشسٹ سلیوٹ کے مشابہ قرار دیا۔ چونکہ مسک جرمنی میں اے ایف ڈی کی حمایت کر رہے تھے، اس لیے اسے انتہائی دائیں بازو کے حلقوں کے لیے کوڈ شدہ پیغام سمجھا گیا۔

اے ایف ڈی کی نیو فسطائی سمت بالکل واضح ہے۔یہ جماعت کھلے عام جرمنی سے مہاجرین کی بڑے پیمانے پر ملک بدری کی وکیل ہے۔نازی ازم کے ساتھ اے ایف ڈی کی ہمدردی اس قدر واضح ہو چکی تھی کہ میرین لی پین کی فرانسیسی جماعت نیشنل ریلی نے 2019اور2024 کے دوران یورپی پارلیمان میں ’’آئیڈینٹٹی اینڈ ڈیموکریسی‘‘ گروپ سے اے ایف ڈی کو باہر نکال دیا۔

یورپ میں انتہائی دائیں بازو کا عروج اور حکومت میں اس کی شراکت

یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ گزشتہ 15 برسوں میں دائیں بازو کی انتہا پسند جماعتوں نے پورے یورپ میں نمایاں انتخابی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ چند ایک کے سوا تقریباً تمام انتہائی دائیں بازو کی یا نیو فسطائی جماعتیں ٹرمپ کی پالیسیوں کے لیے کھلی ہمدردی رکھتی ہیں۔ان کے کئی رہنما ٹرمپ کی سیاسی حکمت عملی اور ان کے جارحانہ ابلاغی انداز کی نقالی کرنا چاہتے ہیں۔
دائیں بازو کی جماعتیں کئی ممالک میں اقتدار میں شامل ہیں۔ان میں اٹلی، ہنگری، بلجیم (وزیراعظم NVA سے ہیں)، سلوواکیہ، چیک ریپبلک، فن لینڈ، کروشیا، سویڈن (جہاں انتہائی دایاں بازو حکومت کا حصہ نہیں لیکن اسے پارلیمانی حمایت حاصل ہے)جیسے ملک شامل ہیں۔

انتہائی دائیں بازو نے کئی ممالک میں سب سے بڑی سیاسی قوت کا مقام حاصل کر لیا ہے۔اٹلی میں( Brothers of Italy)،فرانس میں(نیشنل ریلی، آر این)، ہنگری میں ( Fidesz)، آسٹریامیں( FP-D6)، بیلجیم کے علاقے فلینڈرز میں نیوفسطائی پارٹی Vlaams Belangنے جون 2024 کے یورپی انتخابات میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کیے۔ اس نے دوسری انتہائی دائیں بازو کی جماعت NVA کو پیچھے چھوڑ دیا۔ ہالینڈمیں گیرٹ ولڈرز کی PVV، جو کچھ عرصہ پہلے سب سے بڑی جماعت بن گئی تھی، اکتوبر 2025 کے انتخابات میں پیچھے چلی گئی اور D66 کے بعد دوسرے نمبر پر آ گئی۔D66 نے اپنی پوری مہم PVV کی انتہا پسندی کے خلاف چلائی تھی۔

یورپی کمیشن کی صدر، جرمن قدامت پسند ارسولا وان ڈیر لین نے اٹلی کی وزیراعظم جیورجیا میلونی کے زیر قیادت انتہائی دائیں بازو کے پارلیمانی گروپ کے ساتھ ایک معاہدہ کیا۔ اس معاہدے کے نتیجے میں میلونی کے گروپ کو یورپی کمیشن میں ایگزیکٹو نائب صدر کا منصب ملا،اور تین پارلیمانی کمیٹیوں کی چیئرمین شپ بھی اس کے حوالے کی گئی۔خاص طور پر اہم بات یہ ہے کہ ان کمیٹیوں میں زرعات، بجٹ اور پٹیشنز شامل ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یورپی شہریوں کی جانب سے دی گئی درخواستیں اب انتہائی دائیں بازو کی زیرصدارت کمیٹی دیکھے گی،جن میں ریفرنڈم شروع کرنے کی کوششیں بھی شامل ہو سکتی ہیں۔

یورپی پارلیمان میں انتہائی دائیں بازو کے تین پارلیمانی گروپ موجود ہیں۔یورپی کنزرویٹو اینڈ ریفارمسٹس (ای سی آر)،جیورجیا میلونی کا گروپ، جس کے پاس 79 اراکین پارلیمان ہیں،میرین لی پین اور وکٹر اوربان کی قیادت میں پیٹریاٹس فار یورپ ،جس کے 86 اراکین پارلیمان ہیں، اور جرمنی کی ایف ڈی کے گرد قائم گروپ یورپ آف ساورن نیشنز، جس کے 27اراکین پارلیمان ہیں۔

اگر یہ تینوں گروپ اکٹھے ہو جائیں تو انتہائی دایاں بازو یورپی پارلیمان کی سب سے بڑی سیاسی قوت بن جائے گا، اور اس کے پاس 192 اراکین پارلیمان ہوں گے، یعنی موجودہ سب سے بڑے گروپ، تیزی سے دائیں طرف جھکتے ہوئے قدامت پسند یورپیئن پیپلز پارٹی (ای پی پی) کے 187 ارکان سے پانچ زیادہ۔سوشل ڈیموکریٹ اور سوشلسٹ جماعتوں کے پارلیمانی گروپ کے پاس 136اراکین پارلیمان ہیں۔ایمانوئل میکرون کی جماعت اور بلجیم کی فرانسیسی بولنے والی دائیں بازو کی جارج لوئی بوشے کی ایم آر پارٹی پر مشتمل RENEWگروپ کے پاس صرف75اراکین پارلیمان رہ گئے ہیں۔اس گروپ نے 2019 کے مقابلے میں 2024 کے انتخابات میں 23 نشستیں کھو دیں، جن کا بڑا حصہ انتہائی دائیں بازو کو گیا۔یورپی گرین پارٹی کے پاس 53 اراکین پارلیمان ہیں ، 2019 کے مقابلے میں اسے 17 نشستوں کا نقصان اٹھانا پڑا۔ ان کے بعد دی لیفٹ ہے، جس کے 46 اراکین پارلیمان ہیں، جو 2019 کے 37 کے مقابلے میں کچھ بہترپوزیشن بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

نتیجہ:انتہائی دایاں بازو اور نیو فسطائی جماعتیں یورپی پارلیمان، یورپی اداروں، اور یورپی یونین کے متعدد رکن ممالک کی حکومتوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر رہی ہیں۔ گرین لینڈ کے معاملے کے سوا، یہ جماعتیں ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر عالمی سطح پر موجود انتہائی دائیں بازو یا نیو فسطائی رہنماؤں کے نیو فسطائی، نسل پرستانہ اور سامراجی نظریات کے ساتھ بھرپور ہمدردی رکھتی ہیں۔اسی کے نتیجے میں ان اسرائیل میں نیتن یاہو کی حکومت ، ارجنٹینا میں خاویر میلے، چلی کے نومنتخب صدر خوزے انتونیو کاسٹ، برازیل کے سابق صدر جائربولسناروکے ساتھ واضح قربت نظر آتی ہے۔

درج ذیل فہرست میں ہم یورپی انتہائی دہائی بازو اور نیو فسطائی دھڑوں اور ان کی ٹرمپ کے ساتھ قربت کی وضاحت کریں گے۔ یہ فہرست مکمل نہیں، لیکن اس میں وہ اہم جماعتیں شامل ہیں جنہیں ٹرمپ کے انتظامیہ کی حمایت حاصل ہے اور جو خود بھی ٹرمپ سے نظریاتی وابستگی ظاہر کرتی ہیں۔

1۔ آلٹرنیٹو فار جرمنی(اے ایف ڈی) نے 23 فروری 2025 کے وفاقی انتخابات میں 20.8فیصد ووٹ حاصل کیے ، اور ووٹوں کی تعداد کے لحاظ سے ملک کی دوسری بڑی جماعت بن گئی۔اے ایف ڈی نے امریکہ کے ساتھ اپنے روابط اور دوروں میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ جیسا کہ اوپر ذکر ہواایلون مسک نے، جب وہ ٹرمپ کے مشیر تھے،اور امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے جنوری،فروری 2025 کی انتخابی مہم میں اے ایف ڈی کی براہ راست حمایت کی۔یورپی پارلیمان میں اے ایف ڈی تین انتہائی دائیں بازو کے گروپوں میں سے ایک،یورپ آف ساورن نیشنز،کی قیادت کرتی ہے۔ اس گروپ کے 27اراکین پارلیمان ہیں، جن میں سے 15 اے ایف ڈی کے ہیں۔
اے ایف ڈی کے رہنما اور نمائندگان،جیسے کرسٹین اینڈرسن (سابق رکن پارلیمان)ٹرمپ کے ساتھ امریکہ میں ہونے والی کنزرویٹو پولیٹیکل ایکشن کانفرنس (سی پی اے سی) میں باقاعدگی سے شریک ہوتے رہے ہیں، خصوصاً 2023 اور 2024 کی کانفرنسوں میں، جہاں یورپ اور لاطینی امریکہ سے بڑی تعداد میں انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں کے رہنما موجود تھے۔غیر ضروری طوالت سے بچنے کے لیے ہم اس فہرست کے آخر میں نیوفسطائی دائیں بازو کی ساختوں اور ان کی بین الاقوامی ملاقاتوں کی طرف واپس آئیں گے۔حال ہی میں یورونیوز نے رپورٹ کیا کہ ’’باویریا کی اے ایف ڈی نے امریکہ کی امیگریشن ایجنسی آئس کی طرز پر ایک پولیس یونٹ بنانے کی تجویز دی ہے، تاکہ پناہ گزینوں کا سراغ لگا کر انہیں ملک بدر کیا جائے ، حالانکہ آئس پر سخت تشدد اور حال ہی میں ہونے والے مہلک واقعات پر شدید تنقید ہوتی رہی ہے۔‘‘(یورونیوز، 26 جنوری 2026)

2۔ راسمبلمنٹ نیشنل (آر این) فرانس کے پاس جون 2024 کے پارلیمانی انتخابات سے لے کر آج تک 142 نشستیں ہیں۔2024 کے پہلے مرحلے میں آر این اور اس کے اتحادیوں نے 33فیصد ووٹ حاصل کیے۔2027 کے ممکنہ صدارتی امیدوار جورڈن بارڈیلا نے دسمبر 2025 میں این ایس ایس 2025 جاری ہونے کے بعد ٹرمپ کو مبارکباد دی۔تاہم 20 جنوری 2026 کو انہوں نے گرین لینڈ کے معاملے پر ٹرمپ سے فاصلہ ظاہر کیا، اس فاصلے کی پائیداری آئندہ ہفتوں میں واضح ہوگی۔جورڈن بارڈیلا یورپی پارلیمان کے سب سے بڑے انتہائی دائیں بازو اور نیو فسطائی گروپ پیٹریاٹس فار یورپ کی صدارت کرتے ہیں، جس کے 86اراکین پارلیمان ہیں، جن میں سے 30آر این سے تعلق رکھتے ہیں۔

3۔فیدیس (Fidesz) ہنگری کی غالب سیاسی جماعت ہے، جس نے 2022 کے انتخابات میں کامیابی کے بعد پارلیمنٹ میں نمایاں اکثریت حاصل کر رکھی ہے، اور یہ واضح اکثریت کے ساتھ حکومت چلا رہی ہے۔ جماعت کے لیڈر وکٹر اوربان نظریاتی طور پر ٹرمپ کے ساتھ ہم آہنگ ہیں،خاص طور پر مہاجر مخالف پالیسیوں، تنوع، برابری اور شمولیت کے حقوق کی مخالفت، نیز یورپی یونین پر تنقید کے حوالے سے ان میں ہم آہنگی ہے۔ 2025 میں دونوں کے درمیان حالیہ دو طرفہ ملاقاتیں بھی ہو چکی ہیں۔اوربان ان رہنماؤں میں سے ایک ہیں جنہوں نے ’’پیٹریاٹس فار یورپ‘‘ کی بنیاد رکھی،یہ تنظیم جورڈن بارڈیلا کی سربراہی میں ہے۔ فی الحال فیدیس کے 11 یورپی ارکان پارلیمان ہیں۔ یہ نوٹ کرنا اہم ہے کہ مارچ 2021 تک فیدیس کے اراکین پارلیمان یورپی پیپلز پارٹی (ای پی پی) کے گروپ کا حصہ تھے، اگرچہ 2019 سے دونوں کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی تھی۔

4۔ ووکس (Vox) کی اسپین میں مقبولیت 10 سے 12 فیصد ووٹوں کے درمیان اتار چڑھاؤ کا شکار رہتی ہے۔ اس کے ہسپانوی پارلیمان میں 33 ارکان اور یورپی پارلیمان میں 6اراکین پارلیمان ہیں۔ ووکس نے ٹرمپ کے سیاسی انداز کی کھل کر تعریف کی ہے اور یورپ و لاطینی امریکہ میں ٹرمپ کے نمائندوں سے اپنی ملاقاتوں میں اضافہ کیا ہے۔2024 میں ووکس نے میلونی کے ای سی آرگروپ سے علیحدگی اختیار کرلی اور بارڈیلا کی سربراہی والے ’’پیٹریاٹس فار یورپ‘‘ میں شامل ہوگئی۔یہ اس کے مزید دائیں، حتیٰ کہ نیم فسطائی رجحانات کی طرف جھکاؤ کا اظہار ہے۔ جنوری 2026 میں ووکس نے وینزویلا کے خلاف امریکی فوجی جارحیت کی بھرپور حمایت کی۔ گرین لینڈ کے معاملے پر ووکس نے تاحال خاموشی اختیار کیے رکھی ہے۔

5۔ فراتیلی دی ایتالیا (برادرز آف اٹلی، ایف ڈی آئی) اٹلی میں حکمران اتحاد کی سب سے بڑی جماعت ہے۔ اسے 2022 کے انتخابات میں 26 فیصد اور 2024 کے یورپی انتخابات میں 29 فیصد ووٹ ملے۔ جارجیا میلونی نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ کھلے عام تعلقات قائم کیے، جن میں ماراے لاگو(Mar-a-Lago) کا دورہ اور جنوری 2025 میں ٹرمپ کی صدارتی تقریب حلف برداری میں شرکت شامل ہے۔مزید یہ کہ میلونی کی جماعت یورپی پارلیمان میں ’’یوروپین کنزرویٹو اینڈ ریفارمسٹس‘‘ (ای سی آر) کی قیادت کرتی ہے، جس کے 79اراکین پارلیمان ہیں،جن میں سے 24 میلونی کی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں۔

6۔لا لیگا (دی لیگ) اٹلی میں ماتیو سالوینی(Matteo Salvini)کی قیادت میں حکومت کا حصہ ہے، اور سالوینی نائب وزیراعظم ہیں۔ لا لیگا پیٹریاٹس فار یورپ گروپ کی رکن ہے، اور یورپی پارلیمان میں اس کے 8اراکین ہیں۔

7۔لاء اینڈ جسٹس (PiS) پولینڈ کی ایک بڑی، نہایت قدامت پسند، انتہائی قوم پرست اور پدرشاہانہ جماعت ہے۔ اگرچہ یہ اس وقت اپوزیشن میں ہے، لیکن قومی خودمختاری اور سلامتی کے حوالے سے PiS اکثر ٹرمپ انتظامیہ کی کچھ پالیسیوں کی تعریف کرتی رہی ہے۔ یہ واحد جماعت ہے جس نے ٹرمپ کی روس سے متعلق پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، جنہیں PiS بہت زیادہ نرم سمجھتی ہے۔PiS میلونی کے ای سی آرگروپ کی دوسری بڑی جماعت ہے، جس کے 20 اراکین پارلیمان ہیں۔

8۔دی فریڈم پارٹی (FP-D6) نے آسٹریاکے حالیہ انتخابات میں شاندار کارکردگی دکھائی (2024 میں 29 فیصد ووٹ حاصل کیے)۔ اس کے رہنماؤں نے 2016 سے ٹرمپ کو باقاعدگی کے ساتھ مبارکباد پیش کی ہے اور انہی کی طرح مہاجر مخالف پالیسیوں کی وکالت کی ہے۔ FP-D6 کے 6اراکین پارلیمان بارڈیلا اور اوربان کی زیر قیادت گروپ میں شامل ہیں۔

9۔ فلامس بلانگ (Vlaams Belang) بلجیم کی نیم فسطائی جماعت ہے۔ یہ جون2024کے یورپی انتخابات میں کامیاب ہوئی، اور وزیراعظم بارٹ دے ویور (Bart de Wever)کی دائیں بازو کی N-VA پارٹی کو معمولی مارجن سے شکست دی۔ فلامس بلانگ’’پیٹریاٹس فار یورپ‘‘ کا حصہ ہے۔یہ پارٹی2016 سے مسلسل ٹرمپ کی تعریف کرتی آ رہی ہے اور اس کی نسلی و مہاجر مخالف سیاست MAGA طرز کی ہے۔ فامس بلانگ کے تین اراکین پارلیمان بارڈیلا اور اوربان کے گروپ میں شامل ہیں۔

10۔ نیو فلیمش الائنس (N-VA) بلجیم، یورپی پارلیمان میں میلونی کے ای سی آر گروپ کا حصہ ہے۔چونکہ یہ جماعت مملکت بلجیم کی حکومت کی قیادت کر رہی ہے، اس لیے ٹرمپ کی حمایت میں نسبتاً محتاط ہے، لیکن اس کے اہم رہنما اور وزیر دفاع تھیو فرانکن 2017تا 2021کی ٹرمپ انتظامیہ سے لے کر 2024کے انتخابات سے آج تک ٹرمپ کی کھل کر حمایت کرتے رہے ہیں۔ وزیر دفاع کی حیثیت سے وہ مکمل طور پر امریکہ کی عسکری ضروریات کے ساتھ ہم آہنگ ہیں، خصوصاً امریکی ساختہ ہتھیار،جیسے F-35 بمبار طیاروں کی خریداری کے معاملے میں۔ N-VAکے تین اراکین پارلیمان میلونی کے ای سی آر گروپ میں شامل ہیں۔

11۔پارٹی فار فریڈم (پی وی وی ) نے ہالینڈ میں گیرٹ ویلڈرز کی قیادت میں نے 2023 تک بڑی انتخابی کامیابیاں حاصل کیں اور حکومت میں شامل رہی، لیکن 2025 میں اس کے ووٹ کم ہوئے اور یہ حکومت سے باہر ہو گئی۔ ویلڈرز خود کو’’ڈچ ٹرمپ‘‘قرار دیتے ہیں۔ پی وی وی کے 6اراکین پارلیمان بارڈیلا اور اوربان کے گروپ کا حصہ ہیں۔ مزید یہ کہ پی وی وی نے وینزویلا کے خلاف امریکی عسکری کارروائی کی حمایت بھی کی تھی۔

12۔ سویڈن ڈیموکریٹس (ایس ڈی) نے سویڈن میں 2010 میں 4 فیصد کی حد عبور کی، اور اس کی حمایت مسلسل بڑھتی رہی، یہاں تک کہ 2022 میں یہ 20.5 فیصد ووٹوں کے ساتھ دوسری سب سے بڑی جماعت بن گئی۔ ایس ڈی نے سویڈش دائیں بازو کی نئی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اگرچہ یہ حکومت میں شامل نہیں، مگر 2022 میں اس نے حکومتی اتحاد بنانے والی تین جماعتوں سے ایک معاہدہ کیا، جس کی بدولت اقلیتی حکومت کا وجود ایس ڈی کی حمایت پر منحصر ہے۔ اس طرح ایس ڈی ملک کی قیادت پر،خصوصاً امیگریشن اور قوانین کی سختی کے معاملے پر بے مثال اثر رکھتی ہے۔ایس ڈی نے مہاجر دشمن اور خودمختاریت پسند بیانیہ اختیار کیا ہے، جو ٹرمپ کے نظریات سے بہت مماثلت رکھتا ہے۔ اس کے تین اراکین پارلیمان میلونی کے ای سی آرگروپ میں شامل ہیں۔

13۔چیک ریپبلک میں وہ تین جماعتیں جو 2025 کے آخر میں حکومت سازی کے بعد اقتدار میں آئیں، ٹرمپ کی پالیسیوں سے قریب ہیں۔اے این او(ایکشن آف ڈس سیٹسفائیڈ سٹیزنز) نے 2025کے انتخابات میں 34.5فیصد ووٹ حاصل کیے،اس کے ارب پتی رہنما آندرئے بابس وزیر اعظم بنے؛فریڈم اینڈ ڈائریکٹ ڈیموکریسی(ایس پی ڈی) کو 2025میں7.8فیصد ووٹ ملا؛ اور آٹو پارٹی(Motorists for Themselves) نے 2025کے انتخابات میں 6.8فیصد ووٹ حاصل کیا۔ اے این او کے 7اور آٹو پارٹی کے 2اراکین پارلیمان پیٹریاٹس فار یورپ گروپ میں شامل ہیں، جس کی قیادت بارڈیلا اور اوربان کرتے ہیں۔نیوفسطائی ایس پی ڈی’’یورپ آف سورین نیشنز‘‘ گروپ کی حامی ہے (جس کی قیادت جرمنی کی اے ایف ڈی کرتی ہے)، اگرچہ ایس پی ڈی کا کوئی رکن پارلیمان نہیں ہے۔

14۔ رومانیہ میں الائنس فار دی یونین آف رومینینز (اے یو آر)2025 کے پارلیمانی اور صدارتی انتخابات کے بعد ایک اہم سیاسی قوت کے طور پر ابھرا۔ صدارتی انتخاب کے پہلے مرحلے میں اے یو آرکے امیدوار نے سب سے زیادہ ووٹ حاصل کیے، تاہم دوسرے مرحلے میں وہ ایک پرویورپی یونین امیدوار سے ہار گئے۔اس اتحادکے مرکزی رہنما جارج سیمیون ہیں، جنہیں رومانیہ میں اکثر ’’پرو ٹرمپ‘‘ کہا جاتا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا، مثلاً دی گارڈین، انہیں ٹرمپ کا مداح قرار دیتے ہیں، جوMAGA تحریک کے عناصر کو رومانیہ کے سیاسی تناظر میں ڈھالتے ہیں۔ سیمیون کو ’’ٹرمپ کا فطری اتحادی‘‘ بھی سمجھا جاتا ہے۔اے یو آرکے 5یورپی ارکان پارلیمان میلونی کے ای سی آر گروپ کا حصہ ہیں۔

15۔پرتگال میں چیگا (CHEGA) 2019میں قائم ہوئی تھی، اس نے تیزی سے ترقی کی ہے۔ 2019 میں اس نے صرف 1.3فیصد ووٹ حاصل کیے تھے، لیکن 18 مئی 2025 کے قبل از وقت پارلیمانی انتخابات میں اس کا ووٹ بینک بڑھ کر 22.6فیصد ہو گیا، اور اس نے 230 میں سے 60 نشستیں جیتیں۔ اس طرح چیگا سوشلسٹ پارٹی کو پیچھے چھوڑتے ہوئے پرتگالی پارلیمان کی دوسری سب سے بڑی جماعت اور سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی بن گئی۔2024 کے یورپی انتخابات کے بعد چیگا کے دو اراکین پارلیمان نے بارڈیلا اور اوربان کی قیادت والے ’’پیٹریاٹس فار یورپ‘‘ گروپ میں شمولیت اختیار کر لی۔18 جنوری 2026 کے پہلے مرحلے کے صدارتی انتخاب میں دائیں بازو کے چیگا لیڈر آندرے وینتورا(Andre Ventura) نے تقریباً 23.5فیصد ووٹ حاصل کرکے دوسری پوزیشن حاصل کی، جبکہ سوشلسٹ امیدوار انتونیو جوزے سیگورو (Antonio Jose Seguro)31فیصد ووٹوں کے ساتھ پہلے نمبر پر رہے۔

ٹرمپ کے حامیوں اور یورپ و لاطینی امریکہ کے نیم فسطائی انتہا دائیں بازو کے لیے مرکزی ملاقات کی جگہیں

صرف نظریاتی حمایت اور بیانات سے آگے بڑھتے ہوئے، یورپی انتہا دائیں بازو نے اب ایسے بین الاقوامی پلیٹ فارمز میں شمولیت اختیار کر لی ہے جو براہ راست ٹرمپ ازم کے زیراثر ہیں۔کنزرویٹو پولیٹیکل ایکشن کانفرنس (سی پی اے سی) امریکی انتہائی دائیں بازو کا سب سے بڑا سالانہ اجتماع ہے۔یہ دنیا بھر کے انتہا دائیں بازو کے لیے بھی مرکزی ملاقات کی جگہ بن چکا ہے۔2020 کی دہائی سے سی پی اے سی میں باقاعدگی سے شرکت کرنے والوں میں جرمنی کی اے ایف ڈی، سپین کی ووکس، فرانس کی نیشنل ریلی، ہنگری کی فیدیس، اٹلی کی فراتیلی دی ایتالیا، پرتگال کی چیگا، بلجیم کی فلانس بلانگ،رومانیہ کی اے یو آر شامل ہیں۔ان سب کے ساتھ ڈونلڈ ٹرمپ،ان کے قریبی ساتھی اسٹیو بینن، جے ڈی وینس، مائیک فلن،لاطینی امریکہ کے انتہائی دائیں بازو کے رہنماشامل ہوتے ہیں۔

سی پی اے سی ایک عالمی نظریاتی پلیٹ فارم کے طور پر کام کرتی ہے ،جہاں ٹرمپ ازم کے بنیادی موضوعات کو ہم آہنگ کیا جاتا ہے۔ ان موضوعات میں تہذیبی جنگیں ،کثیرالجہتی عالمی نظام سے نفرت،یورپی یونین دشمنی، مہاجرین پر جنون، خواتین اور اقلیتوں کے حقوق پر حملے، ماحولیاتی تبدیلی سے انکار، بائیں بازوکی اور سماجی تحریکوں کو مجرمانہ بناناشامل ہیں۔

اس بین الاقوامی نیٹ ورک کی مضبوطی میں لاطینی امریکہ کے انتہائی دائیں بازو کے رہنماؤں خاویر میلے (ارجنٹائن کے صدر)، جائر بولسونارو (برازیل کے سابق صدر)،اورخوزے انتونیو کاسٹ (چلی کے نئے صدر)کا بھرپور کردار بھی شامل ہے۔

ٹرمپ انہیں ’’سوشلزم کے خلاف مزاحمت‘‘ اور اتھاریٹیرین آرڈر کی بحالی کے نمونے کے طور پر پیش کرتے ہیں۔سی پی اے سی کے اجلاس اب امریکہ سے باہر برازیل،میکسیکو،ارجنٹینا اورہنگری میں بھی منعقد ہو رہے ہیں۔ اس سے ٹرانس اٹلانٹک اور ٹرانس کانٹیننٹل اتحادکی موجودگی ثابت ہوتی ہے جو واشنگٹن، یورپ کے کئی دارالحکومتوں اور لاطینی امریکہ کے ردانقلابی حلقوں کو جوڑتا ہے۔یہ محض رسمی اجتماعات نہیں ہیں۔یہاں مالی وسائل، انتخابی حکمت عملیاں، ڈیجیٹل پروپیگنڈا، اور سوشل پولرائزیشن کے MAGA ماڈل وغیرہ سب کا تبادلہ ہوتا ہے۔

سی پی اے سی کے ساتھ ساتھ اسپین کی پارٹی ووکس اس عالمی دائیں بازو کے نیٹ ورک میں مرکزی کردار ادا کرتی ہے، خاص طور پر فورو میڈریڈ (Foro Madrid) کے ذریعے، جس کا آغاز 2020 میں ہوا۔یہ فورم خود کو ایک ’’محب وطن‘‘ متبادل کے طور پر پیش کرتا ہے اور اس میں یورپ و لاطینی امریکہ کی انتہا دائیں بازو جماعتیں،میلے، بولسونارو، کاسٹ، آر این، چیگا، فراتیلی دی ایتالیا، وسطی یورپ کے دیگر دائیں بازو کے گروہ شامل ہیں۔

فورو میڈرڈاور ووکس کی یہ کوششیں ٹرمپ ازم، یورپی انتہائی دائیں بازو،لاطینی امریکہ کی دائیں بازو قوتوں کو براہ راست جوڑتی ہیں۔یہ اتحاد کھل کر بائیں بازو کی،نسوانیت کی،ماحولیات پسندی کی،انسانی حقوق کی،اورعوامی خود مختاری کی ہر شکل کی مخالفت کرتا ہے،جو آمرانہ سوچ سے متصادم ہو۔

یوں، اگرچہ یہ جماعتیں مختلف ممالک میں ’’قومی‘‘ سیاست کرتی ہیں، لیکن بین الاقوامی سطح پر یہ ایک منظم، ہم آہنگ نظریاتی بلاک کے طور پر ابھرتی ہیں،اور اس بلاک کے سب سے بڑے سیاسی، میڈیا ئی اور علامتی رہنما ڈونلڈ ٹرمپ ہیں۔
جنوری2026میں ٹرمپ ڈیووس میں

21 جنوری 2026 کواین ایس ایس2025 کی اشاعت کے ڈیڑھ ماہ بعد، اور اپنے عہد صدارت کے آغاز کے تقریباً ایک سال بعد، ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈیووس (سوئٹزرلینڈ) میں ارب پتی سرمایہ کاروں اور ریاستی و حکومتی سربراہان کے سامنے سفید فام نسلی بالادستی اور کھلے نسلی تعصب پر مبنی تقریر کی ، اور حاضرین نے انہیں زور دار تالیاں بجا کر سراہا۔اس تقریر کی چند جھلکیاں درج ذیل ہیں:

’’سنیں، میں یورپ سے آیا ہوں، خاص طور پر اسکاٹ لینڈ اور جرمنی سے۔ میری ماں 100فیصد اسکاٹش اور میرے والد 100فیصد جرمن تھے۔ ہم یورپ کے ساتھ اپنی تہذیبی وابستگی پر گہرا یقین رکھتے ہیں۔۔۔خوشحالی اور ترقی کا جو دھماکہ مغرب کو اوج پر لے گیا، وہ ہمارے ٹیکس نظام کی وجہ سے نہیں تھا،وہ ہماری بہت خاص ثقافت سے آیا تھا۔یہی وہ قیمتی ورثہ ہے جو امریکہ اور یورپ کو مشترکہ طور پر ملا ہے۔ ہمیں اسے مضبوط رکھنا ہے۔ ہمیں پہلے سے زیادہ طاقتور، کامیاب اور خوشحال بننا ہے۔ ہمیں اپنی اس ثقافت کا دفاع کرنا ہے،اور اس روح کو دوبارہ زندہ کرنا ہے جس نے مغرب کو قرون وسطیٰ (Dark Ages) سے نکال کر انسانی ترقی کی بلند ترین چوٹی تک پہنچایا۔‘‘(ماخذ: WEF؛ اس اقتباس کا کچھ حصہ وائٹ ہاؤس، 21 جنوری 2026 سے بھی ہے)

ٹرمپ نے اپنی تقریر میں منیسوٹا سے منتخب امریکی کانگریس کی رکن صومالی نژادالہان عمر کے خلاف بھی نسل پرستی پر مبنی حملے دہرائے۔ انہوں نے صرف الہان عمر پر نہیں بلکہ صومالیہ بطور ریاست، امریکہ میں پوری صومالی کمیونٹی اور افریقی تہذیبوں کو مجموعی طور پر نشانہ بنایا:

’’اور پھر ہمارے پاس یہ جعلی کانگریس وویمن ہے۔ ابھی رپورٹ آئی ہے کہ اس کی مالیت 30 ملین پاؤنڈ ہے ، یقین کر سکتے ہیں؟ الہان عمر آئین کے بارے میں بات کرتی ہے۔۔۔وہ ایک ایسے ملک سے آئی ہے جو ملک ہی نہیں، اور وہ ہمیں بتا رہی ہے کہ امریکہ کیسے چلانا ہے۔ وہ زیادہ دیر تک یہ نہیں کر پائے گی، بتا رہا ہوں۔۔۔‘‘(ماخذ: MinnPost، WEF)’’منی سوٹا کی صورتحال ہمیں یاد دلاتی ہے کہ مغرب بے تحاشا غیر ملکی ثقافتوں کو درآمد نہیں کر سکتا ، ایسی ثقافتیں جنہوں نے کبھی کوئی کامیاب معاشرہ تعمیر نہیں کیا۔ ہم صومالیہ کے لوگوں کو لا رہے ہیں، اور صومالیہ ناکام ہے۔۔۔ یہ کوئی قوم نہیں، کوئی حکومت نہیں، کوئی پولیس نہیں، کوئی فوج نہیں ، کچھ بھی نہیں۔‘‘(ماخذ: WEF)

ٹرمپ نے توہین کے ساتھ ساتھ ڈیووس میں موجود اپنے حامی سرمایہ کاروں اور عالمی رہنماؤں کی کھلی تعریف بھی کی:

’’آپ میں سے بہت سے لوگ حقیقی پیش رو ہیں، انتہائی ذہین لوگ۔ صرف یہاں کی ٹکٹ حاصل کرنے کی صلاحیت ہی آپ کی ذہانت ثابت کرتی ہے،کیونکہ ہر نشست کے لیے 50 لوگ ہوتے ہیں۔۔۔آپ دنیا کے عظیم ترین رہنماؤں میں سے ہیں۔ بہترین ذہنوں میں سے ہیں۔ مستقبل لامحدود ہے، اور بڑی حد تک آپ کی وجہ سے۔ ہمیں آپ کی حفاظت کرنی ہے اور آپ کو سنبھال کر رکھنا ہے۔‘‘(ماخذ: WEF)

اختتامی خلاصہ

ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدت صدارت صرف یورپی یونین کو چیلنج کرنے تک محدود نہیں ہے۔ وہ یورپ میں دائیں بازو اور نیم فاشسٹ تحریکوں کے لیے نظریاتی، سیاسی اور عملی مدد کا منظم نظام تشکیل دے رہے ہیں۔این ایس ایس2025،یورپی انتخابات میں مداخلت، اے ایف ڈی، آر این فیدیس، ووکس جیسے گروہ کی حمایت، سی پی اے سی اور فورو میڈرڈ جیسے ٹرانس نیشنل نیٹ ورکس کی تعمیر اس سمت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ٹرمپ کا ہدف یورپی یونین کو کمزور کرنا اور ٹرمپ ازم کے گرد ایک بین الاقوامی آمرانہ بلاک تشکیل دینا ہے۔

ٹرمپ کے گرین لینڈ کے حوالے سے دعوے ایک سنگین تضاد کو ظاہر کرتے ہیں۔ ایک ایسے خطے کی خودمختاری پر کھل کر سوال اٹھاناان کی سامراجی سوچ اور جارحانہ ایجنڈے کی اصل فطرت کو بے نقاب کرتا ہے، جو خطہ یورپ کے ایک نیٹو رکن ملک کا حصہ ہے۔اس موقف کی وجہ سے یورپی حکومت کے ساتھ دیرپا کشیدگیاں پیدا ہونے کا خدشہ ہے اور طویل عرصے میں یہ ٹرمپ اور یورپ کی انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں کے تعلقات کو کمزور کر سکتا ہے۔ یہ جماعتیں شدید کشمکش کا شکار ہیں، جو ٹرمپ ازم کے نظریاتی اتحاد اور اپنی قومی خودمختاری کے دعوے کے درمیان پھنس گئی ہیں۔ یہی تضاد اس نیو فسطائی بین الاقوامی اتحاد کے لیے ایک ممکنہ ٹوٹنے والا نقطہ ثابت ہو سکتا ہے، جو اس وقت ابھرتا جا رہا ہے۔

(بشکریہ: ’ لنکس‘، ترجمہ: حارث قدیر)

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں