لاہور(جدوجہد رپورٹ)جنوبی امریکہ کے ملک ایکواڈورمیں صدارتی انتخابات کا دوسرا اور فیصلہ کن راؤنڈ 13اپریل کو ہوگا۔ 9فروری کو انتخابات کے پہلے راؤنڈ میں کوئی بھی امیدوار اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوا تھا۔ دائیں بازو کے امیدوار کو44.1جبکہ بائیں بازو کی امیدوار کو44فیصد ووٹ ملے تھے۔ دونوں امیدواروں کے مابین ووٹ برابر ہونے کی صورت میں اب دوسرے راؤنڈ میں فیصلہ کن ووٹ ہوگا، جس کے نتیجے میں یہ فیصلہ ہوگا کہ آیا دایاں بازو یا ترقی پسند قوتیں 2029تک حکومت کی باگ ڈور سنبھالیں گی۔
’انٹرنیشنل‘ کے مطابق رواں سال 9فروری کو پہلے راؤنڈ میں دائیں بازو کے امیدوار اور موجود صدر ڈینیئل نوبوااور بائیں بازو کی حمایت یافتہ سوشل ڈیموکریٹک امیدوار لوئیسا گونزالیزکے درمیان ووٹ برابر ہوئے اور پھر الیکشن دوسرے راؤنڈ میں چلا گیا۔ دوسرے راؤنڈمیں انتخابات اب 13اپریل کو ہونگے۔
لوئیسا گونزالیز 47سال وکیل اور دو بچوں کی اکیلی ماں ہیں۔ وہ ایکواڈور کی پہلی خاتون منتخب صدر بننے کے لیے کوشاں ہیں۔ ایکواڈور ایک سنگین معاشی بحران کی صورتحال سے دوچار ہے۔ متوسط طبقے کے لیے بھی اس معاشی صورتحال کو ایک ’آفت‘ سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ سلامتی اور توانائی کا دائمی بحران، آبادی کی اکثریت کے لیے مخدوش اقتصادی صورتحال کے ساتھ سیاسی پولرائزیشن میں اضافے کا باعث بنا ہے۔ بڑے شہروں میں روزانہ 14گھنٹے تک بجلی کی بندش مسلسل ہوتی رہتی ہے، جس سے روزمرہ صنعتی زندگی بری طرح سے متاثر ہو رہی ہے۔
میڈیاکے مطابق انتخابی مہم بڑھتی ہوئی کشیدگی کے ماحول میں ہو رہی ہے۔ مقامی آبادیوں کی تحریک کے صدارتی امیدوار نے انتخابات کے پہلے مرحلے مٰں 5.26فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں۔ وہ موجودہ صدر اور دائیں بازو کے صدارتی امیدوار کی نیو لبرل پالیسیوں کے شدید ناقد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی پوزیشن کا تعین اجتماعی طور پر کریں گے۔
ایکواڈور میں حالیہ دنوں میں کم از کم 3ہائیڈروالیکٹرک پلانٹس خراب ہوئے ہیں۔ یہ پلانٹس ایکواڈور کی کل بجلی کا 50فیصد پیدا کرتے ہیں۔ اس خرابی کی وجہ سے بحران مزید بڑھ گیا ہے۔ ایکواڈور تیل پیدا کرنے والا ملک ہے۔ تاہم خام تیل کا اخراج بے مثال نقصان کا باعث بنتا ہے۔ 13مارچ کو ٹرانس ایکواڈور پائپ لائن سسٹم میں سے ایک پائپ ٹوٹنے کے باعث 25ہزار بیرل سے زائد تیل دریاؤں، مینگرووز اور ساحلوں تک پہنچ رہا ہے۔ اس سے وسیع پیمانے پانی کے ذرائع آلودہ ہو چکے ہیں۔ نوبوا کی قیادت میں موجودہ حکومت ماحولیاتی مسائل کو حل کرنے میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔
لوئیسا گونزالیز نے مقامی لوگوں کی تحریک اور دیگر سماجی تنظیموں کے ساتھ مشترکہ انتخابی پلیٹ فارم تیار کرنے پر اتفاق کیا ہے، جنہوں نے متعدد مختلف مطالبات، خاص طور پر ماحولیاتی مسائل پر اپنی حمایت کو مشروط کیا ہے۔ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ لوئیسا گونزالیز مقامی آبادی کی طرف سے حمایت حاصل کر سکتی ہیں۔اگر ایسا ہو جاتا ہے تو وہ ایکواڈور کی صدر منتخب ہونے والی پہلی خاتون ہوں گی۔