لاہور(جدوجہد رپورٹ)یوروویژن سونگ کنٹسٹ میں اسرائیل کی شرکت کے خلاف عالمی سطح پر ردعمل بڑھ گیا ہے، جہاں ایک ہزار سے زیادہ موسیقاروں اور ثقافتی کارکنوں نے ایک کھلے خط پر دستخط کر کے مقابلے کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ خط ’’نو میوزک فار جینوسائیڈ‘‘نامی گروپ نے منگل کو جاری کیا، جس میں فنکاروں، نشریاتی اداروں، ٹیکنیکل عملے اور شائقین سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس مقابلے کا بائیکاٹ اس وقت تک جاری رکھیں جب تک یورپی براڈکاسٹنگ یونین (ای بی یو) اسرائیل کے سرکاری نشریاتی ادارے کے اے این کو مقابلے سے باہر نہیں کر دیتی۔
’ٹربیون‘ کے مطابق گروپ نے اس سے قبل بھی اسرائیل میں اسٹریمنگ پلیٹ فارمز پر متعدد فنکاروں کے گانوں کی دستیابی روکنے میں کردار ادا کیا تھا۔ نئے خط کے دستخط کنندگان میں عالمی شہرت یافتہ موسیقار شامل ہیں، جن میں برائن اینو، میسیو اٹیک، نی کیپ اور راجر واٹرز کے ساتھ ساتھ سابق یوروویژن فاتحین ایملی ڈی فاریسٹ اور چارلی میک گیٹی گن بھی شامل ہیں۔
خط میں الزام عائد کیا گیا کہ یوروویژن انتظامیہ کی پالیسیوں میں کھلا تضاد ہے۔ دستخط کنندگان کے مطابق 2022 میں روس کو یوکرین پر حملے کے بعد مقابلے سے معطل کر دیا گیا تھا، مگر اسرائیل کو اسی معیار پر نہیں پرکھا جا رہا۔ خط میں کہا گیا کہ ای بی یو نے روس کے حوالے سے کہا تھا کہ اس کی موجودگی مقابلے کی ساکھ کو نقصان پہنچائے گی، لیکن غزہ میں 30 ماہ سے جاری نسل کشی، مغربی کنارے میں نسلی صفائی اور زمینوں پر قبضہ انہیں اسی اقدام کا جواز فراہم نہیں کرتے؟
فنکاروں نے ای بی یو پر غیرجانبداری کا دعویٰ ترک کرنے کا الزام لگایا اور کہا کہ خاموش رہنا اب ممکن نہیں۔ خط میں ان نشریاتی اداروں اور مقابلے کے شرکا کی بھی تعریف کی گئی جنہوں نے اسرائیل کے خلاف احتجاجاً قومی سطح پر منعقد ہونے والے انتخابی مراحل سے علیحدگی اختیار کی، جن میں اسپین، آئرلینڈ، آئس لینڈ، سلووینیا اور نیدرلینڈز کی تنظیمیں شامل ہیں۔
یوروویژن سونگ کنٹسٹ کا اگلا ایڈیشن 12 سے 16 مئی کے درمیان آسٹریا میں منعقد ہونا ہے، تاہم اسرائیل کی شرکت کے معاملے پر بڑھتے دباؤ نے مقابلے کے گرد ایک بڑا سیاسی تنازع کھڑا کر دیا ہے۔