روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

جے این یو طلبہ یونین: بائیں بازو میں تقسیم کے باوجود لیفٹ یونٹی 3 عہدوں پر کامیاب

جے این یو طلبہ یونین: بائیں بازو میں تقسیم کے باوجود لیفٹ یونٹی 3 عہدوں پر کامیاب

لاہور(جدوجہد رپورٹ) جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سٹوڈنٹ یونین(جے این یو ایس یو) کے انتخابات کے نتائج جاری ہو گئے ہیں۔ بائیں بازو میں تقسیم کے باوجود لیفٹ یونٹی پینل نے تین کلیدی عہدوں کی نشستیں جیت لی ہیں، جبکہ ہندو انتہاء پسند تنظیم آر ایس ایس سے وابستہ دائیں بازو کی طلبہ تنظیم اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد(اے بی وی پی) کی 10سال بعد واپسی ہوئی ہے اور انہوں نے ایک نشست جیت لی ہے۔

اتوارکو انتخابی نتائج آنے کے بعد رات بھر جے این یو میں طلبہ نے جشن منایا۔ اس بار جشن میں سرخ جھنڈوں کے ساتھ زعفرانی جھنڈے بھی موجود تھے۔

لیفٹ یونٹی کے نتیش کمار جے این یو طلبہ یونین کے نئے صدر منتخب ہو گئے ہیں، منیشا نائب صدر اور منتہا جنرل سیکرٹری کے عہدے پر کامیاب ہوئی ہیں۔ اے بی وی پی سے تعلق رکھنے والے ویبھومینا نے جوائنٹ سیکرٹری کے عہدے پر کامیابی حاصل کی۔

’دی ہندو‘ کے مطابق رواں سال سی پی آئی ایم سے وابستہ سٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا (ایس ایف آئی) سے علیحدگی کے بعد سی پی آئی ایم ایل لبریشن سے وابستہ آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (اے آئی ایس اے) نے ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹس فیڈریشن(ڈی ایس ایف) کے ساتھ اتحاد کیا تھا۔ منتخب ہونے والے صدر نتیش کمار کا تعلق اے آئی ایس اے سے ہے، جبکہ منیشا اور منتہا کا تعلق ڈی ایس ایف سے ہے۔

ادھر اے بی وی پی نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے 42میں سے 24کونسلر کے عہدوں پر بھی کامیابی حاصل کی ہے۔ بائیں بازو کے ناقدین کا خیال ہے کہ بائیں بازو کی تنظیموں کے مابین تقسیم کی بنیاد پر اے بی وی پی بڑی تعداد میں کونسلر کے عہدوں پر کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے، جبکہ مرکزی عہدوں میں بھی ایک نشست حاصل کر پائی ہے۔
2015میں آخری بار اے بی وی پی کے امیدوار سوربھ شرما نے جوائنٹ سیکرٹری کے عہدے پر کامیابی حاصل کی تھی۔ اس وقت 15سال بعد ان کی جے این یو میں واپسی ہوئی تھی۔ اس سے قبل 2000میں اے بی وی پی کے سندیپ مہاپاترا نے صدارتی عہدہ جیتا تھا۔

یونائیٹڈ لیفٹ نے رواں سال ایس ایف آئی کے ساتھ دو بلاکس میں بٹ کر لیفٹ امبیڈکرائٹ پینل بنایا۔ اس پینل میں برساامبیڈکر پھولے اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن(بی اے پی ایس اے)،آل انڈیا اسٹوڈنٹس فیڈریشن(اے آئی ایس ایف) اورپراگریسو اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (پی ایس اے) پر مشتمل تھا، جبکہ اے آئی ایس اے نے ڈی ایس ایف کے ساتھ اتحاد قائم کیا تھا۔

اے آئی ایس اے اور ایس ایف آئی نے متعدد بار جے این یو کے انتخابات اتحاد کی صورت میں جیتے ہیں اور اس اتحاد کی صورت میں جے این یو بائیں بازو کا گڑھ رہا ہے۔ یہ دونوں تنظیمیں اتحاد کے تحت 2016سے مل کر انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں، جس کا مقصد آر ایس ایس سے وابستہ اے بی وی پی کا اجتماعی طور پر مقابلہ کرنا ہے۔

بائیں بازو کے اتحاد میں پھوٹ کی وجہ سے رواں سال اے بی وی پی کو اقتدار میں آنے کی امید تھی۔ تاہم یہ امید انتہائی جزوی طور پر ہی پوری ہو سکی۔

جے این یو کی سابق طالبعلم اور بائیں بازو کی معروف رہنما کویتا کرشنن نے جے این یو طلبہ یونین کے انتخابات میں تینوں اہم عہدوں پر کامیابی پر لیفٹ یونٹی کو مبارکباد دیتے ہوئے تبصرہ کیا ہے۔

انکا کہنا تھا کہ ووٹ کی ناقابل یقین حد تک غیر ذمہ دارانہ تقسیم کے باوجود طلبہ نے کیمپس کو بچا لیا ہے۔ ایک وقت کے لیے ایسا لگ رہا تھا کہ اے بی وی پی واقعی یونین کا انتخاب جیت سکتی ہے۔ تاہم اب یہ ایک بہت بڑا ریلیف ہے کہ ایسا نہیں ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ اب ایک تلخ بیداری بھی ہونی چاہیے، لیکن تجربے کی بنیاد پر مجھے معلوم ہے کہ ایس ایف آئی کے لیے غلطی تسلیم کرنا مشکل ہوگا۔ یہ بھی معلوم ہے کہ وہ اپنا بہت زیادہ وقت ایک ایسے کام کے دفاع میں ضائع کریں گے، جو ناقابل دفاع ہے۔ اس لیے یہ بتانا ضروری ہے کہ اس فرقہ وارانہ طرز عمل نے محض اے بی وی پی کی جیت کا خطرہ ہی نہیں پیدا کیا، بلکہ اس کی خود ایس ایف آئی کو بہت زیادہ قیمت اٹھانا پڑی ہے۔

انہوں نے کچھ حقائق بتاتے ہوئے لکھا ہے کہ ایس ایف آئی کی زیر قیادت پینل میں جوائنٹ سیکرٹری کے عہدے پر ابھرتے ہوئے بائیں بازو کے گروپ پی ایس اے کی امیدوارہ تھیں۔ وہ بلاشبہ ایک مستحق کارکن تھیں اور انہوں نے بہت اچھا انتخاب بھی لڑا، لیکن ان کے انتخاب لڑنے کی وجہ سے اس عہدے پر اے بی وی پی کی جیت یقینی ہوئی۔ اگر پی ایس اے یونائیٹڈ لیفٹ پینل کا حصہ ہوتا تو اسے یونین میں جگہ مل سکتی تھی اور اے بی وی پی کو وہ ایک سیٹ بھی نہیں ملنی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ایس ایف آئی اگر یونائیٹڈ لیفٹ کے پینل کا حصہ ہوتی تو مرکزی پینل اور مختلف سکولوں میں کونسلر کے عہدوں پر سٹوڈنٹ یونین کی قیادت کا حصہ ہوتی۔ اس کی بجائے انہوں نے بہت خراب انتخاب لڑا اور اگر میں غلط نہیں ہوں تو اس پورے اتحاد نے صرف ایک کونسلر کی سیٹ ہی جیتی ہے۔

اس طرح فرقہ وارانہ اقدام صرف خطرناک غیر ذمہد ارانہ حرکت نہیں تھی بلکہ ایک تباہ کن حماقت بھی تھی۔ دوسرے لفظوں میں اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف تھی۔ جے این یو میں بائیں بازو کے سبھی گروپوں کو اس سبق کو یاد رکھنے کی ضرورت ہے۔

کوئی صرف یہ امید کر سکتا ہے کہ پارلیمانی اور اسمبلی انتخابات میں بھی بائیں بازو کی اور سیکولر پارٹیاں ایسی فرقہ وارانہ حماقتوں سے گریز کریں گی، کیونکہ یہ فسطائیوں کی خدمت کرنے کے ساتھ ساتھ خود اپنے لیے بھی تباہ کن ہو ں گی۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں