روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

زارہ سلطانہ لیبر پارٹی سے مستعفی، جیرمی کاربائن کے ساتھ نئی جماعت بنانے کا اعلان

زارہ سلطانہ لیبر پارٹی سے مستعفی، جیرمی کاربائن کے ساتھ نئی جماعت بنانے کا اعلان

لاہور(جدوجہد رپورٹ) برطانوی پارلیمنٹ کی معروف سابق رکن اور بائیں بازو کی آواز زارہ سلطانہ نے لیبر پارٹی سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہوئے ایک نئی سیاسی جماعت کے قیام کا عندیہ دیا ہے، جس میں ان کے سابق قائد جیرمی کاربائن بھی شریک ہو سکتے ہیں۔ یہ نئی جماعت برطانیہ کے موجودہ سیاسی نظام کو ’ٹوٹا ہوا‘ قرار دیتے ہوئے ایک انقلابی متبادل پیش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

’بی بی سی‘ کے مطابق زارہ سلطانہ کوونٹری ساؤتھ سے منتخب ہوئیں اور گزشتہ برس لیبر پارٹی کی قیادت کی پالیسیوں سے اختلاف کی وجہ سے پارٹی وہپ سے محروم کر دی گئی تھیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے فیصلے کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ایک ایسی جماعت کا آغاز کر رہی ہیں جو عوامی مسائل، فلسطین میں جاری قتل عام اور برطانیہ کے استحصالی معاشی نظام کے خلاف موثر آواز بلند کرے گی۔

انہوں نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ”لیبر پارٹی عوام کی زندگیوں میں بہتری لانے میں مکمل ناکام ہو چکی ہے۔لیبر پارٹی نے عوام کی زندگیوں کو بہتر بنانے میں مکمل ناکامی دکھائی ہے۔ تمام سیاسی قیادت ان افراد کو بدنام کر رہی ہے جو غزہ میں نسل کشی کو روکنے کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں۔“

انہوں نے برطانوی حکومت کو غزہ میں ”نسل کشی کی فعال شریک“قرار دیا، اور کہا کہ برطانوی عوام اس نسل کشی کی مخالفت کر رہے ہیں۔

زارہ سلطانہ نے حالیہ ویلفیئر بل کی بھی سخت مخالفت کی، جس میں معذور افراد کے لیے سہولیات محدود کرنے کی تجاویز شامل تھیں۔ انہوں نے کہاکہ ”حکومت معذور افراد کو اذیت دینا چاہتی ہے، بس فیصلہ نہیں کر پا رہی کہ کتنی۔“

انہوں نے وزیر اعظم کی امیگریشن مخالف تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ ”ہم اجنبیوں کا جزیرہ نہیں ہیں۔ اگلے انتخابات میں سوشلسٹ متبادل یا بربریت میں سے واضح انتخاب ہو گا“

اگرچہ جیرمی کاربائن نے تاحال نئی جماعت کی تصدیق نہیں کی، تاہم آئی ٹی وی کے پروگرام پیسٹن میں انہوں نے عندیہ دیا کہ ایک نئی صف بندی جنم لے سکتی ہے۔ ان کے الفاظ تھے کہ ”لوگ متبادل کی تلاش میں ہیں۔ ایک گروپ اکٹھا ہو گا، جو امن پر مبنی ہوگا، جنگ پر نہیں۔“

کاربائن اس وقت پانچ آزاد ارکان پارلیمنٹ کے ساتھ ایک غیر رسمی اتحاد کا حصہ ہیں، جنہوں نے جولائی کے انتخابات میں لیبر کو شکست دی، اور یہ تمام ارکان فلسطین کے حق میں مضبوط موقف کے سبب کامیاب ہوئے۔ اس اتحاد میں شوکت آدم، ایوب خان، عدنان حسین، اور اقبال محمد بھی شامل ہیں۔

سابق وزیرخزانہ اور بائیں بازو کے رہنما جان مکڈونل نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ”زارہ سلطانہ کا لیبر پارٹی سے جانا افسوسناک ہے۔ پارٹی کی موجودہ قیادت کو سوچنا چاہیے کہ ایک باصلاحیت، نوجوان، سوشلسٹ خاتون آخر کیوں محسوس کرتی ہے کہ اس کا لیبر میں اب کوئی مقام نہیں رہا۔“

مکڈونل نے واضح کیا کہ وہ نئی جماعت میں شامل نہیں ہو رہے۔

لیبر پارٹی کے دیگر بائیں بازو کے ارکان جیسے کم جانسن اور ایان برن نے بھی زارہ کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کیا۔ جانسن نے کہا کہ وہ پارٹی میں ہی رہیں گی، مگر”یہ افسوسناک ہے کہ پارٹی ایک نوجوان اور پرجوش سیاست دان سے محروم ہو رہی ہے۔“ ایان برن نے زارہ کو ’باضمیر خاتون‘قرار دیا، اور کہا کہ بعض لیبر ایم پیز کے ان پر تبصرے ’قابل مذمت‘ ہیں۔

زارہ سلطانہ اور دیگر آزاد ارکان کی جانب سے لیبر پارٹی پر فلسطین کے معاملے پر خاموشی یا نیم دلانہ موقف اختیار کرنے کا الزام پارٹی کے اندر جاری نظریاتی کشمکش کو بے نقاب کر رہا ہے۔ سابق لیبر مشیر ایلسٹر کیمبل نے کہا کہ”ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عوام کو درپیش چیلنجز اور لیبر کی پالیسیوں کے درمیان ایک خلا موجود ہے۔“

کیمبرج یونیورسٹی کے سیاسی مبصرین کے مطابق زارہ سلطانہ کی علیحدگی اور جیرمی کاربائن کے ممکنہ اتحاد سے برطانوی بائیں بازو کی سیاست میں ایک نئے باب کا آغاز ہو سکتا ہے، جو ممکن ہے کہ ان طبقات کی ترجمانی کرے جنہیں موجودہ پارلیمانی نظام میں کوئی نمائندگی حاصل نہیں۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں