روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

عوامی حقوق تحریک: کلٹ فالوئنگ (اندھی تقلید پرستی) ، موقع پرستی اور کھوکھلا پن

عوامی حقوق تحریک: کلٹ فالوئنگ (اندھی تقلید پرستی) ، موقع پرستی اور کھوکھلا پن

حارث قدیر

عوامی حقوق کی تحریکیں عام طور پر حقیقی سماجی، معاشی یا سیاسی مسائل کے خلاف ابھرتی ہیں۔ نوآبادیاتی خطوں میں سماجی و معاشی مسائل پر نوآبادیاتی قبضے کی نوعیت عوامی رد عمل کا موجب بنتی ہے۔ عوامی حقوق کی تحریکوں میں عمومی طو رپر عوام کی وسیع تر پرتیں اور تمام ہی نظریات کے حامل لوگ شامل ہوتے ہیں۔ ایسے میں ان تحریکوں کے کلٹ میں تبدیل ہونے کے امکانات بہت زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔ ایسے میں متبادل نظریات کی بنیاد پر کام کرنے والے انقلابیوں کا یہ فریضہ ہوتا ہے کہ وہ موقع پرستی اور خودنمائی کے ذریعے تحریکوں میں اپنی مصلحت پسندانہ موجودگی کی بجائے فکری بنیادوں پر تحریک کی آبیاری کرتے ہوئے نہ صرف سنجیدہ اپوزیشن کا کردار ادا کریں، بلکہ تحریک کو کلٹ میں تبدیل ہونے سے بچاتے ہوئے معاشی اور سماجی مسائل کو ایک سیاسی پروگرام سے منسلک کریں،اور نوآبادیاتی ڈھانچے کو چیلنج کرنے کے ساتھ ساتھ طبقاتی نجات کے پروگرام سے منسلک کریں۔ ایسے حالات میں حکمران اشرافیہ اور نوآبادکاروں کے حاشیہ بردار دائیں اور انتہائی دائیں بازو کے عناصر اور نمائندوں کے کردار کومحدود کر کے عوام کی نظام کی تبدیلی کی جانب رہنمائی کی جا سکتی ہے۔

کلٹ فالوئنگ کیا ہے؟

کلٹ فالوئنگ یا اندھی تقلید پرستی ایک ایسا تصور ہے، جس میں کسی فلم، کتاب، میوزک بینڈ، فنکار، شخصیت، برانڈ یا حتیٰ کہ کسی نظریے یا تحریک کے گرد ایک چھوٹا مگر بہت پرجوش اور وفادار حلقہ پیدا ہو جاتا ہے۔ یہ لوگ عام فالوورز کی طرح نہیں ہوتے بلکہ شدت سے عقیدت، لگن اور وابستگی کا اظہار کرتے ہیں۔

کلٹ فالوورز سوچنے سمجھنے، تقابل کرنے اور تحقیق کرنے کی بجائے چند مخصوص وجوہات کی بنیاد پر کسی چیز ،شخصیت یا چند شخصیات کو عام معیار سے کہیں زیادہ پسند کرتے ہیں۔ انہیں عام مقبول ثقافتی معیار سے بہت بہتر اور منفرد سمجھتے ہیں۔ ان کی علامات، لباس، طرز گفتگو وغیرہ کو اختیار کر لیتے ہیں اور حتمی طور پر یہ پیروی شدت کی عقیدت میں ڈھل جاتی ہے۔

معاشرے میں یہ کلٹ ایسے دھاگ بٹھا لیتا ہے کہ معقولیت، دلیل، نظریہ، سیاسی اختلاف پیچھے دھکیل دیے جاتے ہیں۔ نامعقولیت، جہالت، حماقت، گالم گلوچ، تضحیک، تذلیل اور غیر انسانی رویے غالب آجاتے ہیں۔

حقوق کی تحریک کلٹ میں کیسے تبدیل ہو سکتی ہے؟

ابتدائی نوعیت میں انتہائی جاندار طریقے سے نیولبرل پالیسیوں اور نوآبادیاتی ڈھانچے کو چیلنج کرنے والی تحریکوں کے وقت کے ساتھ ساتھ اور مخصوص حالات میں کلٹ میں تبدیل ہونے کے امکانات موجود ہوتے ہیں۔

اگر تحریک کا محور مسائل کی بجائے ایک مخصوص رہنما، یا رہنماؤں کا گروہ بن جائے تو تحریک ’کلٹ‘ (اندھی تقلید پرستی) میں ڈھل سکتی ہیں۔ اس کی بنیادیں ہمیشہ رائج الوقت نظام اور ریاستی فلسفے کے اندر رچی بسی ہوتی ہیں، جیسے کسی نجات دہندہ کا تصور رائج الوقت فلسفے میں سب سے مضبوط تصور ہے۔

اسی طرح جب تحریک میں مکالمے یا اختلاف رائے کی گنجائش ختم ہو جائے، صرف ’ایک مبہم سچائی‘ کو ماننے پر زور ہو،مختلف رائے اور نظریاتی فکر کی راہ میں رکاوٹیں اور پابندیاں عائد کی جانا شروع ہو جائیں۔

تنظیمی ڈھانچے کی سخت مرکزیت ہو، اورادارہ جاتی جمہوریت یا فیصلہ سازی کی بجائے ’بالا سے نیچے‘ کنٹرول ہو اور قیادت سوال سے بالاتر سمجھی جاتی ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ قیادت آپسی بحث، مباحثے پر عوامی مقامات پر بات نہ کرنے کے حلف کی پابند کر دی جائے۔جب قیادت کی فکر سے بلند فکر کے رہنماؤں کو نشان عبرت بنا کر انہیں سازشوں کے ذریعے پابندیوں کا شکار کیا جانا شروع کر دیا جائے۔

جب تحریک کے ابتدائی مقصد، یعنی چند مطالبات تک محدود رہنے کو اتنا ’مقدس‘ یا ’مطلق‘ بنا دیا جائے کہ اس پر تنقید کو گناہ سمجھا جائے۔ اختلاف رکھنے والوں کو سیاسی حریف کی بجائے غدار، دشمن، سہولت کار یا غیر انسانی مخلوق کے طورپر پیش کیا جانے لگے تو یہ تحریک کے کلٹ بننے کی ہی علامات ہوتی ہیں۔

قدامت پسند اور مذہبی قوم پرست حلقے کلٹ جیسی سیاست کو اکثر مثبت چیز کے طورپر دیکھتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ عوام کو کسی بڑے رہنما ، یا رہنماؤں کے گروہ کے گرد مجتمع ہونا چاہیے تاکہ نظم و اتحاد قائم رہے۔ان کے نزدیک قومی بقا، ثقافت یا مذہب کے دفاع کے لیے کرشماتی قیادت لازمی ہے، چاہے اس میں شخصیت پرستی ہی کیوں نہ ہو۔بحث، اختلاف، جمہوری رویوں جیسے مطالبات کو وہ قیادت کی اندھی تقلید کی جہ سے غلط اور اتحاد دشمن قرار دیتے ہیں۔ کلٹ کے پہلو کو ’وفاداری‘، ’قومی اتحاد‘یا ’عقیدت‘کے نام سے جائز ٹھہراتے ہیں۔

تاہم عوامی تحریک کی بنیاد اندھی تقلید کی بجائے نیچے سے اوپر تک اجتماعی قیادت، جمہوری ڈھانچے اور شعوری شرکت پر ہونی چاہیے۔ کلٹ بننے کا مطلب یہ ہے کہ تحریک اپنی نظریاتی وضاحت کھو چکی ہے اور ایک شخص یا گروہ کے مفاد تک محدود ہو گئی ہے۔ اس سے نجات داخلی جمہوریت، تنقیدی سوچ کی حوصلہ افزائی اور عوامی احتساب کے ذریعے حاصل کی جا سکی ہے۔

فاررائٹ کی تحریکیں

ٹرمپ ازم ، فاررائٹ، یا ہارڈ رائٹ جیسی دائیں بازو کی تحریکوں میں یہ کلٹ کا عنصر زیادہ پایا جاتا ہے۔یہ رائج الوقت لبرل اقدار، سماجی ڈھانچے ، اشرافیہ مخالف اور عام آدمی کی آواز کے طور پر اپنے آپ کو پیش کرتی ہیں۔ جمہوریت کا راگ الاپتے ہیں، لیکن عام آدمی کو جاہل تصور کرتے ہیں۔ جمہوریت اور جمہوری اداروں کو اس وقت تک ہی مانتے ہیں، جب تک وہ ان کے مفادات کا تحفظ کریں۔ موقع ملنے پر انتہائی آمرانہ روش اختیار کرتے ہیں اور ریاست یا تحریک کو اپنے مطلق العنان اقتدار کا اوزار بنانے کے لیے ہر ممکن حد تک ٹرانسفارم کرتے ہیں۔ موقع کی مناسبت سے بیان تبدیل کرنا، قول و فعل میں بدترین حد تک متضاد رویوں کا مالک ہونا عمومی خصوصیت ہوتی ہے۔

حتمی طور پر کسی واضح متبادل نظریے سے عاری ہونے کی وجہ سے رائج الوقت نظام کو انتہائی وحشیانہ طریقے سے مسلط کرنے، محنت کشوں کی حاصلات کو چھیننے، ریاست کے معیشت میں ہر طرح کے کردار کو ختم کرنے، محنت کشوں کے جمہوری اور یونین کے حقوق کو سلب کرنے، سبسڈیز اور سوشل سروسز کے خاتمے اور نجی سرمائے کے رحم و کرم پر لٹنے کے لیے پورے معاشرے کو تاراج کرنے جیسے اقدامات ان کا معمول بن جاتے ہیں۔

سٹیٹس کو کے خلاف عوامی رد عمل اور بائیں بازو کے حقیقی متبادل کے فقدان نے انتہائی دائیں بازو(فار رائٹ) کے ان کلٹ نما رجحانات کی راہ ہموار کی۔ فار رائٹ نے عوامی غصے کو سرمایہ دار، نوآبادکار اور استحصالی طبقات کے خلاف نہیں، بلکہ مہاجرین، اقلیتوں، باہر سے آنے والوں، یا محض حکمرانوں کی لوٹ مار کے خلاف بیان بازی کی حد تک محدود کر دیا۔ٹرمپ ازم اور فار رائٹ کی یہ تحریکیں جمہوری اداروں کو کمزور کر کے شخصی قیادت اور فاشسٹ قسم کے ہجوم پر مبنی سیاست کو فروغ دیتی ہیں۔

نظریاتی کارکنوں کی ذمہ داریاں

عوامی حقوق کی تحریکوں کو کلٹ بننے سے بچانے اور حتمی منزل تک پہنچانے کے لیے سب سے اہم فریضہ یہ ہوتا ہے کہ مطالبات سے نظریاتی ربط قائم کیا جائے۔ کوئی بھی ایک مطالبہ مختلف بلکہ مخالف نظریات کے حامل لوگ کر تو سکتے ہیں، لیکن اس مطالبے کے حصول کا راستہ واضح کرتے ہوئے ہی حکمرانوں اور عام عوام کے مفادات اور نمائندوں کا فرق واضح کیا جا سکتا ہے۔

حکمران اشرافیہ کے نمائندوں ، درمیانے طبقے کے عناصر کے محض مبہم انداز میں عوام کے حقیقی مطالبات کو ابھار کر مقبولیت حاصل کرنے کے رجحان کو شکست دینے اور عوامی مطالبات کو حتمی طو رپر حل کرنے کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ مسائل کے ذمہ داروں کا درست بنیادوں پر تعین اور وضاحت کی جائے۔

نوآبادیاتی سماج میں عوامی تحریکوں کو ریاست بعض جزوی اصلاحات یا حقوق دے کر ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ مقامی اشرافیہ اور درمیانے طبقے کے رہنما عموماً تحریک کو قابو میں رکھنے کے لیے صرف مطالبات پر زور دیتے ہیں، تاکہ نوآبادیاتی اقتدار کی جڑ پر ضرب نہ پڑے۔ یہی وہ نکتہ ہوتا ہے جہاں انقلابی سیاسی کارکنوں مطالبات کو نوآبادیاتی نظام کے خلاف مزاحمت سے جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔

قیادت نظریات کو روک کر تحریک کو مطالبات پر محدود رکھنے کی کوشش کرتی ہے۔ ایسے میں انقلابی کارکنان کا فریضہ ہوتا ہے کہ وہ عوامی سطح پر سیاسی تعلیم کا فریضہ سرانجام دیں۔ متوازی قیادت اور کیڈر تیار کریں۔ ایسے مطالبات اٹھائے جاتے ہیں جو عوامی ضروریات سے جڑے ہوتے ہیں، مگر پورے نظام کو چیلنج کیے بغیر پورے نہیں ہو سکتے۔ وسائل پر عوامی اختیار، سامراجی لوٹ مار کا خاتمہ، نوآبادیاتی افواج کی واپسی، جمہوری خودمختاری اور آئینی حقوق کی فراہمی جیسے مطالبات کو بحثوں، تقاریر، پمفلٹوں وغیرہ کا حصہ بنا کر عوام تک پہنچایا جاتا ہے۔

انقلابی کارکنان محض قیادت کے دائرے میں بند نہیں رہتے، بلکہ قیادت کو چیلنج بھی کرتے ہیں۔ وہ عوام سے کٹ کر خالص نظریاتی بحثوں میں بھی نہیں الجھتے، بلکہ حقیقی مسائل کے ذریعے نظریات کو سامنے لاتے ہیں۔ تاہم اس عمل میں وہ قیادت کی چاپلوسی، گماشتگی میں دم چھلا بن کر سٹیج سے نمایاں ہونے اور جگہ حاصل کرنے کے لیے اپنے نظریات اور افکار پر کمپرومائز ہر گز نہیں کرتے۔

نوآبادیاتی خطوں میں عوامی حقوق کی تحریکوں کی نجات کا ایک یہی راستہ ہوتا ہے کہ کم از کم عوامی مطالبات کی جدوجہد کو نوآبادیاتی ڈھانچے کے خلاف شعور سے جوڑا جائے، متوازی قیادت کو ابھار کو محدود قیادت کے قابو کو توڑنے کی کوشش کی جائے۔ حکمران اشرافیہ کے نمائندوں، درمیانے طبقے کے موقع پرستوں اور عام عوام کے درمیان فرق کو زیادہ سے زیادہ واضح کیا جائے۔

تحریک کے دوران مقبولیت کی خواہش میں مصلحت پسندی، ہر جائز و ناجائز حکم کی غیر مشروط حمایت اور پیروی درحقیقت نہ صرف نظریات بلکہ عام عوام کی امیدوں اور خواہشوں سے بھی غداری کے مترادف ہوتی ہے۔

Haris Qadeer

حارث قدیر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے ہے۔  وہ لمبے عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں