لاہور(جدوجہد رپورٹ)برطانیہ کی ڈاکٹرز یونین برٹش میڈیکل ایسوسی ایشن (بی ایم اے) نے اعلان کیا ہے کہ انگلینڈ کے سینئر ڈاکٹرز کو ہڑتال کی منظوری کے لیے باضابطہ بیلٹنگ (ووٹنگ)کروائی جائے گی، کیونکہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کسی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے اور گزشتہ ہفتے اعلان کردہ تنخواہی اضافہ ڈاکٹرز کے مطابق ناکافی ہے۔
’رائٹرز‘ کے مطابق بی ایم اے کے مطابق کنسلٹنٹس، اسپیشلسٹ، ایسوسی ایٹ اسپیشلسٹ اور اسپیشیلٹی ڈاکٹرز کے لیے متوازی بیلٹنگ کا عمل 11 مئی سے 6 جولائی تک جاری رہے گا۔
اگر ڈاکٹرز کی اکثریت ہڑتال کے حق میں ووٹ دیتی ہے تو یہ حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوگا، کیونکہ اس کے بعد انگلینڈ کے سیکنڈری کیئر میں کام کرنے والے تمام ڈاکٹرز بیک وقت انڈسٹریل ایکشن میں شامل ہوسکتے ہیں۔
سینئر ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ حکومت کا نیا پے پیکج ان کے مطالبات کے مطابق نہیں اور بڑھتی مہنگائی کے تناظر میں ان کی آمدن حقیقی معنوں میں کم ہوتی جارہی ہے۔
بی ایم اے کا موقف ہے کہ حکومت سے کئی مہینوں تک ہونے والی بات چیت بے نتیجہ رہی، جس کے بعد ہڑتال ہی واحد راستہ بچا ہے۔اس سے قبل جونیئر ڈاکٹرز بھی 2023 سے شروع ہونے والے تنخواہی اور ورکنگ کنڈیشنز کے تنازع کے باعث متعدد بار ہڑتال کرچکے ہیں۔
گزشتہ برس لندن کے سینٹ تھامس ہسپتال کے باہر بی ایم اے کے زیر اہتمام 14ویں ہڑتال میں درجنوں ریزیڈنٹ ڈاکٹرز نے شرکت کی تھی، جب کہ ہسپتال شدید فلو کے پھیلاؤ کے باعث اضافی دباؤ کا شکار تھے۔