سٹاک ہولم (فارو ق سلہریا) یورپی پارلیمنٹ کے رکن اور سویڈش لیفٹ پارٹی کے سابق سربراہ یونس خوستاد (Jonas Sjostadt) نے اعلان کیا ہے کہ وہ فرانچیسکا البانیز پر امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے لگائی جانے والی پابندیوں کا جواب دینے کے لئے،انہیں نوبل امن انعام کے لئے نامزد کر رہے ہیں۔
اپنے ایکس اکاونٹ پر یونس خوستاد نے لکھا کہ وہ حانا گدین (Hanna Gedin)اور ہوکن سوینیلنگ (Hakan Svenneling)کے ساتھ مل کر البانیز کو اس انعام کے لئے نامزد کریں گے۔ حانا گدین اور ہوکن سوینیلنگ لیفٹ پارٹی کی جانب سے بالترتیب یورپی پارلیمنٹ اور سویڈش پارلیمنٹ کے رکن ہیں۔
البانیز اقوام متحدہ کی فلسطین کے لئے سپیشل راپورٹیر ہیں۔ انہوں نے غزہ میں ہونے والے جینوسائڈ بارے جو رپورٹ جاری کی،اس نے اسرائیل اور اس کے حامیوں کو ناراض کر دیا ہے کیونکہ البانیز نے کھل کر اسرائیلی جرائم کو بے نقاب کیا ہے۔
اٹلی سے تعلق رکھنے والی البانیز نے سکول آف اورنٹیل اینڈ افریق اسٹڈیز (SOAS) سے قانون میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔وہ انسانی حقوق کی وکیل ہیں۔صیہونی حلقے ان پر یہود دشمنی کا الزام لگا رہے ہیں۔ دوسری جانب، فلسطین دوست اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے لئے وہ مزاحمت کی ایک علامت بن گئی ہیں۔
