راولاکوٹ(نامہ نگار) پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے شہر راولاکوٹ میں آزادی پسند اور ترقی پسند تنظیموں کی کال پر گرفتار نوجوانوں کی رہائی کے لیے منگل کے روز شدید بارش کے باوجود احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین نے حکومت کو حتمی مہلت دیتے ہوئے 29اگست رات 12بجے تک کی ڈیڈ لائن دی ہے۔ 30اگست سے ضلع پونچھ مکمل بند کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ 30اگست کو پونچھ بھر میں ہر قسم کی پبلک ٹرانسپورٹ اور کاروباری سرگرمیاں معطل کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
30اگست سے قبل 23اگست کو راولاکوٹ میں گرینڈ جرگہ منعقد کرنے کا اعلان کیا گیا، جبکہ اس دوران ضلع پونچھ کے دیگر چھوٹے بازاروں اور دیہی علاقوں میں احتجاجی پروگرامات کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر اضلاع میں بھی احتجاج مظاہرے کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
یہ اعلانات گزشتہ روز احتجاجی مظاہرے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین جموں کشمیر لبریشن فرنٹ سردار محمد صغیر خان نے کیے۔
یاد رہے کہ 13اگست کو سرکاری سطح پر منعقدہ دوستانہ والی بال میچ اور فیسٹیول کے دوران پاکستان مخالف نعرے لگانے اور دہشت گردی کے الزام میں 35سے زائد نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔
گرفتار نوجوانوں کے خلاف دو مقدمات درج کیے گئے ہیں، جن میں23نوجوانوں کو نامزد کیا گیا ہے، جبکہ 200سے زائد نامعلوم افراد بھی شامل ہیں۔ گرفتار نوجوانوں میں سے کچھ کو رہا کر دیا گیا ہے، تاہم 20سے زائد نوجوان اب بھی حراست میں ہیں۔ کچھ نوجوانوں کو مقامی عدالت نے 90روز کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا ہے، جبکہ کچھ نوجوانوں کو 28روز کے ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا گیا ہے۔ گرفتار ہونے والے 30سے زائد نوجوانوں کے خلاف مقدمہ سامنے نہیں آیا ہے۔ گرفتار کیے گئے نوجوانوں میں دو والی بال کے کھلاڑی اور ایک نابالغ لڑکا بھی شامل ہے۔
سامنے آنے والی دو ایف آئی آروں میں نامزد کیے گئے نوجوانوں میں آزادی پسند اور ترقی پسند طلبہ تنظیموں کے کارکنوں کے علاوہ عام طالبعلم اور نوجوان بھی شامل ہیں۔ حکمران جماعت پاکستان پیپلزپارٹی کی ذیلی طلبہ تنظیم پی ایس ایف کا ایک ضلعی عہدیدار بھی ان دونوں مقدمات میں نامزد ہے۔ تاہم گرفتار ہونے والے اکثریتی نوجوانوں کا کسی سیاسی تنظیم کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔
ایک ہی وقوعے میں دو ایف آئی آریں درج کی گئی ہیں۔ دونوں ایف آئی آروں میں نامزد افراد کے نام ، تعداد اور ترتیب بھی ایک ہی جیسی ہے، محض واقعات کی ترتیب کو الگ کر کے دفعات میں تبدیلی کی گئی ہے۔
مقدمات میں 123 اے، 123بی، 124 اے، 121اے، 6 اے ٹی ہے سمیت دیگر سنگین دفعات شامل کی گئی ہیں۔ مقدمات میں ان نوجوانوں پر پاکستان اور الحاق پاکستان مخالف نعرے لگانے، یوم آزادی پاکستان کا پروگرام خراب کرنے، پاکستانی پرچم پھاڑنے، پولیس گاڑیاں توڑنے اور دہشت گردی کے پیچھے وردی والے نعرے لگانے، اور کشمیری پرچم اٹھانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔مقدمات میں شامل دفعات غداری، بغاوت، انسداد دہشت گردی، کارسرکار میں مداخلت سمیت دیگر جرائم کے خلاف عائد کی جاتی ہیں۔
واضح رہے کہ راولاکوٹ کے خان اشرف خان سپورٹس کمپلیکس میں 13اگست کی شام کو سرکاری طور پر میلے کا انعقاد کیا گیا تھا۔ اس میلے میں والی بال کے سٹار کھلاڑیوں کے مابین ایک میچ بھی رکھا گیا تھا۔ میچ کے اختتام پر آتش بازی، ثقافتی شو اور دیگر سرگرمیاں منعقد کی جانی تھیں۔ تاہم میچ کے دوران ہی سٹیج پر سے پاکستان کے حق میں نعرے لگائے جانے کے بعد تماشائیوں میں شامل نوجوانوں اور طالبعلموں نے جموں کشمیر کے حق میں نعرے لگانے شروع کر دیے۔
سٹیج پر موجود ایک مقامی کونسلر کی جانب سے نعرے لگانے والے نوجوانوں کو بھارتی ایجنٹ قرار دیا اور ساتھی ہی نوجوانوں سے پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کی حکومت کا جھنڈا بھی مبینہ طور پر چھیننے کی کوشش کی گئی، جس کے بعد صورتحال خراب ہو گئی۔ نوجوانوں نے جموں کشمیر کی آزادی ، خودمختاری کے حق میں نعرے لگانے شروع کر دیے۔ موقع پر موجود سابق وزیر حکومت نے پولیس کو حکم دیا کہ وہ نوجوانوں کو گرفتار کریں۔ پولیس نے نعرے بازی کرنے والے نوجوانوں پر لاٹھی چارج کیا اور درجنوں کو موقع سے گرفتار کر لیا۔ گرفتاریوں کا یہ سلسلہ 14اور 15اگست کو بھی جاری رکھا گیا۔
نوجوانوں کے خلاف مقدمات اور گرفتاریوں کی جموں کشمیر بھر میں مذمت کی جا رہی ہے اور مقدمات ختم کر کے غیر مشروط رہا کیے جانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔