لاہور(جدوجہد رپورٹ)ارجنٹائن اس وقت شدید معاشی بحران سے گزر رہا ہے، اور اس بحران کا سب سے نمایاں اثر متوسط اور محنت کش طبقے پر نظر آ رہا ہے۔ 43 سالہ دیئیگو ناکاسیو اس بحران کی ایک زندہ مثال ہیں، جو بیونس آئرس کے نواحی علاقے فلورنسیو واریلا میں ایک بڑے ہارڈویئر اسٹور میں کل وقتی سیلز مین کے طور پر کام کرتے ہیں۔ ان کی آمدنی اور ان کی بیوی کی تنخواہ مہینے کی 15 تاریخ تک ختم ہو جاتی ہیں، جس کے بعد یہ جوڑا اضافی کام، اشیا فروخت کرنے، کریڈٹ کارڈ استعمال کرنے اور چھوٹے قرضے لینے پر مجبور ہوتا ہے۔
’الجزیرہ‘ کے مطابق ناکاسیو کا کہنا ہے کہ انہوں نے گزشتہ 25 برسوں میں محنت کے ساتھ وہ سب کچھ حاصل کیا تھا جو ایک عام گھرانے کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے۔ اس میں گھر، گاڑی اور بچوں کے لیے بہتر امکانات کے لیے ضروریات شامل تھیں۔تاہم اب بہتر نوکریوں کے باوجود خوراک جیسی بنیادی ضرورت پوری کرنا مشکل ہو چکا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ”قرض پر گزارہ خطرناک چکر ہے، جس میں ہر طرف بے بسی اور دباؤ ہے۔ میرے آس پاس ہر شخص یہی صورتحال جھیل رہا ہے۔“
اہم تحقیقی اداروں کی رپورٹس بھی اس معاشی زوال کی تصدیق کرتی ہیں۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق ارجنٹینا کے تقریباً نصف شہری بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے بچت، قیمتی اشیا کی فروخت یا قرض لینے پر مجبور ہو چکے ہیں، جبکہ 63 فیصد لوگوں نے اپنی سرگرمیوں اور سہولیات میں کمی کی ہے۔
صدر خاویر میلے کی حکومت کا دعویٰ ہے کہ ان کی سخت مالیاتی پالیسیوں نے معاشی بہتری لائی ہے، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ زرعی اور بینکاری شعبے میں کچھ اضافہ ضرور ہوا ہے، مگر صنعتی پیداوار اور تجارت میں تیزی سے کمی آئی ہے، جبکہ کئی چھوٹی صنعتیں بند ہو چکی ہیں۔ مہنگائی میں بظاہر کمی آئی ہے، لیکن اس کے لیے تنخواہوں کو منجمد رکھنے اور سستے درآمدی سامان کی اجازت دینے جیسی سخت پالیسیاں اپنائی گئی ہیں، جن سے مقامی صنعت شدید متاثر ہوئی ہے۔
مہنگائی کو ناپنے کا سرکاری نظام بھی شدید تنقید کی زد میں ہے، کیونکہ یہ عوامی اخراجات میں بجلی اور ایندھن کے بڑھتے ہوئے حصے کو درست طور پر ظاہر نہیں کرتا۔ اسی سبب خوراک اور ادویات کی خریداری مسلسل کم ہو رہی ہے، اور بینکوں کے ساتھ ساتھ غیر رسمی قرض دہندگان سے قرض لینے کا رجحان بڑھ گیا ہے۔
قرض نادہندگی کی شرح 11 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جو 2010 کے بعد سب سے زیادہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تنخواہوں کو افراط زر کے مطابق بڑھائے بغیر بحران سے نکلنا ممکن نہیں۔
ناکاسیو کہتے ہیں کہ اگر ان کے پاس اپنا گھر نہ ہوتا تو وہ اور ان کی فیملی شاید زندہ ہی نہ رہ پاتے۔یہ حالات ایسے نہیں چل سکتے۔ کچھ نہ کچھ بدلنا ہی ہوگا۔