روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الخميس, 30 جولائی 2026

این ایس ایف جامعہ پونچھ کے زیر اہتمام آزادی کنونشن اور سٹوڈنٹس کاررواں

این ایس ایف جامعہ پونچھ کے زیر اہتمام آزادی کنونشن اور سٹوڈنٹس کاررواں

راولاکوٹ (پ ر) جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے زیر اہتمام راولاکوٹ کے ایک نجی ہال میں این ایس ایف جامعہ پونچھ کے ”آزادی کنونشن“ کا انعقاد کیا گیا۔ آزادی کنونشن سے قبل صابر شہید سٹیڈیم سے طلبہ یونین کا الیکشن شیڈول جاری کیے جانے سمیت دیگر مطالبات و طلبہ مسائل کے حوالہ سے ”سٹوڈنٹس کاررواں“ کے نام سے ایک احتجاجی ریلی کا انعقاد بھی کیا گیا۔

احتجاجی ریلی میں جامعہ پونچھ کے طالب علموں سمیت ضلع بھر کے دیگر تعلیمی اداروں کے طلبہ نمائندگان نے بھی بھرپور شرکت کی۔ این ایس ایف کے مرکزی صدر بدر رفیق و دیگر کی قیادت میں منعقد کی جانے والی اس ریلی کا آغاز صابر شہید سٹیڈیم سے ہوا جبکہ پرجوش نعروں کی گونج میں یہ ریلی مقبول بٹ شہید چوک سے ہوتی ہوئی نجی ہال میں اختتام پذیر ہوئی جہاں کنونشن کے سلسلہ میں نو منتخب کابینہ کی حلف برداری کے علاوہ”نوجوان اور انقلاب“ کے عنوان سے کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔

آزادی کنونشن کے سلسلہ میں منعقدہ اس کانفرنس کی صدارت نو منتخب چیئرمین جامعہ پونچھ امن حبیب نے کی جبکہ مہمان خصوصی کے طور پر این ایس ایف کے مرکزی صدر بدر رفیق شرکت کی۔ ”نوجوان اور انقلاب“ کے عنوان سے منعقدہ اس کانفرنس کے شرکاء سے نو منتخب چیئرمین جامعہ پونچھ امن حبیب اور مرکزی صدر این ایس ایف بدر رفیق سمیت سابق چیئرمین این ایس ایف راولپنڈی برانچ اور آرگنائزر ساؤتھ ایشیاء سالیڈیریٹی نیٹورک امریکہ زاہد حسین، گلگت بلتستان سے ’یونا ئیٹڈ گلگت بلتستان سٹوڈنٹس آرگنائزیشن‘ کے مرکزی صدر کاشف علی، مرکزی سیکرٹری جنرل این ایس ایف ارسلان شانی، مرکزی ترجمان مجیب خان، ایڈیٹر ’عزم‘ عمیر خورشید، چیئرمین مالیاتی بورڈ عادل فاروق، چیئرپرسن شعبہ نشرو اشاعت صائمہ بتول، چیئرپرسن سٹڈی سرکل علیزہ اسلم، سابق ضلعی جنرل سیکرٹری دانش فدا، نو منتخب جنرل سیکرٹری جامعہ پونچھ دانیال فیضی،آرگنائزر ماہ نور اسلم، انچارج سٹڈی سرکل مہرین نساء، ڈپٹی جنرل سیکرٹری ثمر اسحاق، میڈیا سیکرٹری مہک زاہد، سابق آرگنائزر جامعہ پونچھ عبد الوہاب، آرگنائزر پوسٹ گریجو ایٹ کالج راولاکوٹ سالک راشد، آرگنائزر ڈگری کالج ہجیرہ شرجیل شاہ اور سعد احمد سعدی، آرگنائزر گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی راولاکوٹ علی رشید اور دیگر طلبہ رہنماؤں نے خطاب کیا۔

آزادی کنونشن کے سلسلہ میں ”نوجوان اورانقلاب“ کے عنوان سے منعقدہ کانفرنس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ جامعات کی فیسوں میں آئے روز ہونے والے بے جا اضافے سمیت تمام طلبہ مسائل کے حل کے لیے درکار جدوجہد میں این ایس ایف کے نوجوانوں نے ہمیشہ بھرپور اور کلیدی کردار ادا کیا۔

مقررین کا کہنا تھا کہ جب تک جامعات کی عمارات و دیگر بنیادی انفراسٹرکچر کی فراہمی،نصاب تعلیم، نظام تعلیم، تعلیمی اداروں کے ماحول، فیسوں کے تعین سمیت دیگر تمام ضروری امور کے حوالہ سے فیصلہ جات میں طلبہ کی شمولیت و نمائندگی نہیں ہو گی تب تک مسائل میں دن بدن اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ اپنے حال و مستقبل کے فیصلہ جات میں شمولیت کا ایک ہی مشترکہ و معقول راستہ ہے کہ محض ہر الیکشن سے قبل مہم کے سلسلہ میں طلبہ یونین کی بحالی کے زبانی اعلانات کی بجائے تمام ضروری لوازمات کو پورا کرتے ہوئے طلبہ یونین کے الیکشن شیڈول کا اعلان جلد از جلد کیا جائے، تا کہ طالب علم اپنے منتخب شدہ نمائندوں کے ذریعے اپنے بنیادی انسانی و جمہوری حقوق کی بات کر سکیں۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی صدر و دیگر مقررین کا کہنا تھا کہ جموں کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت مسئلہ کشمیر سے جڑے تمام خطوں کے باشندگان کو اپنا عالمی سطح پر تسلیم شدہ بنیادی انسانی و جمہوری حق ایکسرسائز کرنے کا موقع فراہم کرتے ہوئے تمام قومیتوں کو حق خود ارادیت بشمول حق آزادی فراہم کیا جائے۔

مقررین کا مزید کہنا تھا کہ این ایس ایف نے ہمیشہ طلبہ و جواں نسل کے انقلابی شعور کی ترجمانی کی ہے اور تمام تعلیمی اداروں، ضلعی صدر مقامات سمیت جموں کشمیر بھر میں سائنسی سوشلزم کے نظریات پر طلبہ و نوجوانوں کو مزید منظم کرتے ہوئے اس خطے سے بیرونی سامراجی قبضے سمیت سامراجی سرمایہ دارانہ نظام کا خاتمہ یقینی بنائے جانے تک اپنی جدوجہد جاری و ساری رکھیں گے۔

ان کا مزید کا کہنا تھا کہ ایک آزاد، خود مختار، سیکولر اورسوشلسٹ جموں کشمیر ہی نا صرف اس خطے کے روشن مستقبل کے لیے واحد انقلابی حل ہے،بلکہ اسی صورت جنوبی ایشیاء میں تمام قوموں کی برابری کی بنیاد پر فیڈریشن کا قیام اور عالمی امن کا قیام عمل میں لایا جا سکتا ہے۔

اس کے علاوہ اس کانفرنس کے دوران آرگنائزر ضلع باغ کامریڈ خاور خلیل نے انقلابی ترانہ پیش کیا،جبکہ زمار حارث نے شرکاء کے سامنے کنونشن کی قرارداد پیش کی۔

قرار داد میں مندرجہ ذیل مطالبات کئے گئے:

طلبہ یونین کے الیکشن شیڈول کا اعلان کرتے ہوئے طلبہ کو اپنے جمہوری نمائندے منتخب کرنے کا حق دیا جائے۔

ہائر ایجوکیشن کمیشن کی طرف سے کی جانے والی کٹوتی کو نا صرف واپس لیا جائے بلکہ جامعہ پونچھ سمیت دیگر جامعات کے بجٹ میں ضروری اضافہ کیا جائے۔

تعلیمی اداروں کی نجکاری کو بند کرتے ہوئے تعلیم کے کاروبار پر پابندی عائد کی جائے۔

سرکاری سطح پر یکساں اور جدید سائنسی نصاب تعلیم مرتب کرتے ہوئے جموں کشمیر کے نوجوانوں کو ہر سطح پر معیاری تعلیم کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

جامعہ پونچھ سمیت تمام تعلیمی اداروں کی زیر تعمیر عمارات کو فی الفور مکمل کرتے ہوئے مشترکہ اور شعبہ جاتی ضروریات کے مطابق بنیادی انفراسٹرکچر مہیا کیا جائے۔

ہاسٹل، ٹرانسپورٹ، انٹرنیٹ، کیفے ٹیریا، لائبریریاں، لیبارٹریاں، کھیل کے میدان و دیگر لوازمات سمیت تمام بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں۔

جموں کشمیر، گلگت بلتستان اور مسئلہ کشمیر سے منسلک تمام قومیتوں کے باشندگان کو اپنے مستقبل کا تعین کرنے کے لئے حق خود ارادیت بشمول حق علیحدگی فراہم کی جائے۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں