روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الخميس, 30 جولائی 2026

برکس ممالک غزہ میں جاری نسل کشی کی مذمت کیوں نہیں کر رہے؟ (حصہ اول)

برکس ممالک غزہ میں جاری نسل کشی کی مذمت کیوں نہیں کر رہے؟ (حصہ اول)

ایرک توساں


برکس ممالک (برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ)، جنہوں نے پانچ مزید ریاستوں (مصر، متحدہ عرب امارات، ایتھوپیا، انڈونیشیا اور ایران) کو رکنیت دی ہے، 6 اور 7 جولائی 2025 کو ریو ڈی جنیرو میں جمع ہوئے۔ سعودی عرب موجود تو تھا لیکن باضابطہ طور پر رکن ملک کے طور پر شامل نہیں ہوا۔ شراکت دار سمجھی جانے والی 20 دیگر ریاستوں کے نمائندے بھی شریک تھے۔


دوسری طرف امریکی صدر فوجی اور تجارتی دونوں محاذوں پر یکطرفہ اقدامات کو تیز کر ر ہے ہیں، برکس ممالک کثیرالجہتی اور اقوامِ متحدہ کے نظام کا دفاع کر رہے ہیں، جو اس وقت بحران کا شکار ہے۔ وہ سرمایہ دارانہ، پیداوار پر مبنی اور وسائل لوٹنے والے پیداواری ماڈل کا بھی دفاع کر رہے ہیں جو انسانی محنت کا استحصال کرتا ہے اور فطرت کو تباہ کرتا ہے۔


برکس ممالک دنیا کی نصف آبادی، 40 فیصد فوسل توانائی کے وسائل، 30 فیصد عالمی جی ڈی پی اور 50 فیصد ترقی کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کے پاس یہ صلاحیت ہے کہ وہ اپنے برآمدات پر مبنی سرمایہ دارانہ ترقی کے ماڈل کو بدل سکیں، مگر وہ ایسا نہیں کرنا چاہتے۔


برکس پر تنقیدی نقطہ نظر اپنانا ضروری ہے۔ یہ موقف ہرگز ہمیں اس بات سے نہیں روکتا کہ ہم سب سے پہلے اور پوری سختی کے ساتھ امریکہ کی حکومت، نیز اس کے یورپی اور انڈوپیسفک اتحادیوں (جاپان، آسٹریلیا وغیرہ) کی سامراجی پالیسیوں کی مذمت کریں۔
یہ پالیسی سب سے زیادہ واضح طور پر اسرائیل کی حمایت کے ذریعے نظر آتی ہے، جو غزہ میں جاری نسل کشی اور ہمسایہ ممالک کے خلاف جارحیت کا ذمہ دار ہے۔ اسرائیل خطے میں امریکہ کا مسلح ونگ ہے۔ واشنگٹن کی غیر مشروط حمایت اور مغربی یورپ کی شراکت کے بغیر اسرائیل کی نیو فاشسٹ حکومت نسل کشی جاری نہیں رکھ سکتی تھی۔


اپنی جانب سے برکس ممالک اجتماعی طور پر کوئی ایسا ٹھوس قدم نہیں اٹھا رہے جو قتل عام اور نسل کشی کے تسلسل کو موثر طور پر روک سکے۔


درج ذیل سوال و جواب کی سیریز میں ایرک توساں برکس سربراہی اجلاس کے 6 جولائی 2025 کے اعلامیے اور برکس کے عملی اقدامات اور ان کے قائم کردہ اداروں کا تجزیہ کرتے ہیں۔اس سیریز کو سلسلہ وار جدوجہد کے قارئین کے لیے اردو ترجمہ کر کے پیش کیا جا رہا ہے:


کیا یہ سچ ہے کہ برکس ممالک غزہ میں جاری نسل کشی کی مذمت نہیں کر رہے؟

ایرک توساں: جی ہاں۔ برکس اجلاس کے حتمی اعلامیے (6 جولائی 2025) میں برکس ممالک غزہ میں ہونے والے واقعات کو نسل کشی نہیں کہتے۔ وہ اسرائیل کے طاقت کے استعمال پر تنقید تو کرتے ہیں (نکات 24 تا 27)، مگر کہیں بھی ’نسل کشی‘، ’نسلی تطہیر‘ یا’قتل عام‘ جیسے الفاظ استعمال نہیں کرتے۔


مزید یہ کہ 6 جولائی 2025 کا جو بیان غزہ سے متعلق ہے، وہ تقریباً اسی طرح ہے جیسے اکتوبر 2024 میں روس کے شہر کازان میں ہونے والے برکس اجلاس کے حتمی اعلامیے (نکتہ 30) میں تھا۔

گویا ہر روز بڑھتے ہوئے نسل کشی کے شواہد بھی ان کو یہ لفظ استعمال کرنے پر مجبور نہیں کر رہے۔


کیا یہ درست ہے کہ برکس ممالک اسرائیل پر پابندیاں تجویز نہیں کر رہے؟

ایرک توساں:جی یہ درست ہے۔ اپنے حتمی اعلامیے میں برکس ممالک نے اسرائیل پر پابندیوں کی کوئی تجویز پیش نہیں کی۔ انہوں نے ان معاہدوں کو توڑنے کی بھی بات نہیں کی جو ان کو اسرائیل سے جوڑتے ہیں۔ حالانکہ جاری نسل کشی اور غزہ کے لوگوں کا خوراک کی تلاش میں قتل عام ایسی کارروائیوں کو لازمی اور ناگزیر بناتا ہے جو صرف زبانی احتجاج سے آگے ہوں۔


اکتوبر 2024 میں کازان اجلاس کے موقع پر برکس ممالک کا احتجاج بالکل ناکافی تھا اور 2025 میں تو اور بھی زیادہ ناکافی ہے۔ اصل اور طاقتور اقدامات صرف حکومتیں اور بین الاقوامی ادارے ہی کر سکتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ عوامی مظاہرے، عوامی مقامات اور جامعات پر قبضے، اور شہری تنظیموں کی قانونی جدوجہد بنیادی اہمیت رکھتی ہے، لیکن وہ ریاستوں اور بین الاقوامی اداروں کے اقدامات کا نعم البدل نہیں ہو سکتیں۔


کیا برکس ممالک اسرائیلی حکومت کے خلاف کوئی ٹھوس اقدامات کر رہے ہیں؟

ایرک توساں:بطور گروپ برکس ممالک اسرائیلی حکومت کے خلاف کسی بھی طرح کے ٹھوس اقدامات، جیسے بائیکاٹ یا پابندی، نافذ نہیں کر رہے۔ جنوبی افریقہ نے اسرائیل کے خلاف عالمی عدالت انصاف میں مقدمہ دائر کیا ہے جو ایک مثبت اقدام ہے، مگر اس کی اپنی عملی پالیسیاں اس قانونی اقدام سے متصادم ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جنوبی افریقہ اسرائیل کے ساتھ تجارتی تعلقات قائم رکھے ہوئے ہے، خاص طور پر اس کے کوئلے کی برآمدات کے ذریعے۔


نسل کشی کے آغاز سے اب تک تقریباً 17 جہاز 16 لاکھ ٹن کوئلہ اسرائیل بھیج چکے ہیں تاکہ اسرائیلی بجلی کے نظام کو چلایا جا سکے۔ اس پر فلسطین یکجہتی مہم، کان کن علاقوں کی مقامی کمیونٹیز اور ماحولیاتی کارکنوں کی جانب سے مظاہرے ہوئے ہیں، جیسے 22 اگست 2024 اور 28 مئی 2025 (عالمی یومِ احتجاج) کو گلنکور کے خلاف اور 5 اپریل 2025 کو اس کے مقامی شراکت دار افریکن رینبو منرلز کے خلاف۔ یہ کمپنی جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامافوسا کے بہنوئی پیٹریس موتسیپے کی ملکیت ہے۔


کیا برکس ممالک اسرائیل کے ساتھ تجارتی تعلقات رکھتے ہیں؟

ایرک توساں:ایران کے سوا باقی برکس ممالک اسرائیل کے ساتھ تجارتی تعلقات رکھتے ہیں۔ جنوبی افریقہ کے علاوہ روس، برازیل، متحدہ عرب امارات، مصر اور چین اسرائیل کو ایندھن (تیل، گیس، کوئلہ وغیرہ) فروخت کرتے ہیں۔ یہ اسرائیلی حکومت کو اہم سہارا فراہم کرتا ہے، جو اپنی توانائی کے ذرائع متنوع بنانا چاہتی ہے تاکہ جنگی مشینری اور معمولات زندگی کو جاری رکھ سکے اور اسرائیلی عوام کی ناراضگی کو بے قابو ہونے سے روک سکے۔


(جاری ہے)

(بشکریہ: ’لنکس‘، ترجمہ: حارث قدیر)

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں