روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الخميس, 30 جولائی 2026

برکس ممالک غزہ میں جاری نسل کشی کی مذمت کیوں نہیں کر رہے؟ (حصہ پنجم)

برکس ممالک غزہ میں جاری نسل کشی کی مذمت کیوں نہیں کر رہے؟ (حصہ پنجم)

ایرک توساں

(درج ذیل سوال و جواب کی سیریز میں ایرک توساں برکس سربراہی اجلاس کے 6جولائی 2025کے اعلامیے اور برکس کے عملی اقدامات اور ان کے قائم کردہ اداروں کا تجزیہ کرتے ہیں۔ اس سیریز کو سلسلہ وار جدوجہد کے قارئین کے لیے اردو ترجمہ کر کے پیش کیا جارہاہے۔)

برازیل اور اسرائیل کے تجارتی تعلقات کیا ہیں؟

ایرک توساں:برازیل اور اسرائیل کے درمیان تجارتی حجم تقریباً 2 ارب ڈالر سے کچھ کم ہے۔ برازیل اسرائیل سے اس سے زیادہ درآمد کرتا ہے ،جتنا وہ اسے برآمد کرتا ہے۔ برازیل اسرائیل کو کچا تیل برآمد کرتا ہے جو اس کی اسرائیل کو کل برآمدات کا ایک چوتھائی ہے۔ اس کے علاوہ برازیل گوشت برآمد کرتا ہے جو تقریباً 20 فیصد بنتا ہے، اور جینیاتی طور پر تبدیل شدہ سویا بینز بھی 20 فیصد کے قریب ہیں۔ باقی برآمدات میں کوشرچکن، اسلحہ وغیرہ شامل ہیں۔

کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ برازیل اور اسرائیل کے درمیان اسلحے کی تجارت بھی ہوتی ہے؟

ایرک توساں:جی ہاں۔ مثال کے طور پر 2024 میں برازیل نے اسرائیل کو تقریباً 20 لاکھ ڈالر مالیت کا اسلحہ برآمد کیا، جو جنگی گولہ بارود پر مشتمل تھا۔ اسی سال برازیل نے اسرائیل سے تقریباً 90 لاکھ ڈالر مالیت کے جنگی ہتھیار درآمد کیے۔ اس طرح برازیل نہ صرف اسلحے کی تجارت جاری رکھے ہوئے ہے بلکہ دفاعی ٹیکنالوجی میں بھی گہرا تعاون کرتا ہے، خاص طور پر اسرائیلی کمپنی ایل بٹ سسٹمز (Elbit Systems) اور اس کی برازیلی ذیلی کمپنی ایرس ایروسپیشل ای ڈیفیسہ (Ares Aeroespacial e Defesa) کے ساتھ۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ایل بٹ سسٹمز کا واضح طور پر رپورٹ میں ذکر کیا گیا ہے اور اسے ان اسلحہ ساز کمپنیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے جو فلسطینی نسل کشی میں براہ راست شریک ہیں۔ یہ فہرست اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ برائے فلسطین فرانسسکا البانیز کی رپورٹ میں موجود ہے۔

فرانسسکا البانیز کی رپورٹ (نکات 31 اور 33)

نکتہ 31

’’اسرائیل کا فوجی و صنعتی ڈھانچہ اس کی ریاست کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی بن چکا ہے۔ 2020 سے 2024 کے درمیان اسرائیل دنیا کا آٹھواں سب سے بڑا اسلحہ برآمد کرنے والا ملک رہا۔ دو سب سے نمایاں اسرائیلی ہتھیار ساز کمپنیاں ، ایل بٹ سسٹمز (جو ابتدا میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت قائم ہوئی اور بعد میں نجی بنا دی گئی) اور ریاستی ملکیت والی اسرائیل ایرو اسپیس انڈسٹریز (آئی اے آئی )، دنیا کی 50 بڑی اسلحہ ساز کمپنیوں میں شامل ہیں۔ 2023 سے ایل بٹ نے اسرائیلی فوجی آپریشنز میں قریبی تعاون کیا، وزارت دفاع میں کلیدی عملہ تعینات کیا، اور 2024 کا اسرائیلی دفاعی انعام جیتا۔ ایل بٹ اور آئی اے آئی اسرائیل کو ہتھیاروں کی بنیادی سپلائی فراہم کرتی ہیں اور اپنی اسلحہ برآمدات اور مشترکہ عسکری ٹیکنالوجی کی تیاری کے ذریعے اسرائیل کے فوجی اتحاد کو مزید مستحکم کرتی ہیں۔‘‘

نکتہ 33

’’ ہیگزا کاپٹر اور کواڈ کاپٹر ڈرونزغزہ کی فضاؤں میں ہر وقت موجود قاتل مشینیں بن چکے ہیں۔ یہ ڈرونز زیادہ تر ایل بٹ سسٹمز اور آئی اے آئی نے تیار اور فراہم کیے ہیں۔ گزشتہ دو دہائیوں میں ان کمپنیوں اور ایم آئی ٹی جیسے اداروں کے ساتھ تعاون کے ذریعے اسرائیلی ڈرونز نے خودکار ہتھیاروں کے نظام اور غول کی شکل میں پرواز کرنے کی صلاحیت حاصل کر لی ہے۔‘‘

ایل بٹ اور اس کی ذیلی کمپنی ایرس کے ذریعے برازیل اور اسرائیل کا فوجی تعاون کافی مضبوط ہے۔ مثال کے طور پر ایرس نے برازیل کو ریموٹ کنٹرولڈ ویپن اسٹیشنز (RCWS، REMAX) فراہم کیے، جن کا معاہدہ تقریباً 100 ملین ڈالر کا تھا۔ یہ تعاون صرف ہتھیاروں کی خرید و فروخت تک محدود نہیں بلکہ اس میں ٹیکنالوجی کی منتقلی، مشترکہ پیداوار اور تربیت بھی شامل ہے۔

مزید برآں اپریل 2024 میں برازیلی وزارت دفاع کے دباؤ پر برازیل کے VBCOAP (خود کار بکتر بند توپ خانہ) پروگرام نے ATMOS-2000 (155 ملی میٹر ٹرک ماونٹڈ سسٹمTatra T-815 6×6)کو منتخب کیا جو ایل بٹ نے تیار کیا۔ یہ معاہدہ فرانس (Caesar)، چین (SH-15) اور سلوواکیہ/چیک جمہوریہ (Zuzana 2) کے نظاموں کو پیچھے چھوڑ کر طے پایا۔ ابتدائی معاہدے کے تحت 36 توپوں کی خریداری طے پائی۔ دو یونٹ 12 ماہ میں برازیل بھیجے جانے تھے تاکہ تکنیکی اور عملی جانچ ہو سکے، جبکہ باقی 34 یونٹ سالانہ بنیاد پر 2034 تک فراہم کیے جائیں گے۔ اس معاہدے کی کل مالیت کا اندازہ 150 سے 200 ملین ڈالر لگایا گیا ہے، بعض ذرائع کے مطابق یہ 210 ملین ڈالر تک بھی ہو سکتا ہے۔

اکتوبر 2024 سے یہ منصوبہ منجمد کر دیا گیا ہے کیونکہ صدر لولا ڈا سلوا نے اسرائیل اور غزہ کی جنگ کے خلاف سخت موقف اختیار کیا۔ تاہم ابھی تک منصوبے کو منسوخ کرنے کے لیے کوئی صدارتی حکم نامہ جاری نہیں کیا گیا۔ اس اعلان کے بعد سے برازیلی وزارت دفاع اور فوجی سربراہ اس معاملے کو دوبارہ شروع کرنے اور صدر کو راضی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، خاص طور پر دو پروٹوٹائپ یونٹس کی ترسیل کے حوالے سے جو عملی جانچ کے لیے تھے۔

جولائی 2025 کے آخر میں برازیلی وزیرخارجہ ماورو ویئیرا نے اعلان کیا کہ برازیل نے اسرائیل کے خلاف اپنے موقف کو مزید سخت کیا ہے اور اسرائیل کے ساتھ اسلحے کی تجارت روک دی ہے۔

(جاری ہے)

(بشکریہ: ’لنکس‘، ترجمہ حارث قدیر)

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں