روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الخميس, 30 جولائی 2026

برکس ممالک غزہ میں جاری نسل کشی کی مذمت کیوں نہیں کر رہے؟ (حصہ چہارم)

برکس ممالک غزہ میں جاری نسل کشی کی مذمت کیوں نہیں کر رہے؟ (حصہ چہارم)

ایرک توساں

(درج ذیل سوال و جواب کی سیریز میں ایرک توساں برکس سربراہی اجلاس کے 6جولائی 2025کے اعلامیے اور برکس کے عملی اقدامات اور ان کے قائم کردہ اداروں کا تجزیہ کرتے ہیں۔ اس سیریز کو سلسلہ وار جدوجہد کے قارئین کے لیے اردو ترجمہ کر کے پیش کیا جارہاہے۔)

بھارت اور اسرائیل کے درمیان تجارتی تعلقات کیا ہیں؟

ایرک توساں:بھارت اور اسرائیل کے درمیان تجارت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اس کا حجم تقریباً 10 ارب ڈالر ہے۔ بھارت اسرائیل کو تیل کی مصنوعات، ہیرے اور دیگر قیمتی پتھر، کیمیکلز، دواساز مصنوعات اور ہتھیار (بشمول ڈرون) فراہم کرتا ہے۔

اس کے بدلے اسرائیل بھارت کو ہتھیار (میزائل)، گولہ بارود اور دفاعی نظام فراہم کرتا ہے۔ بھارت کی ایک بڑی مالیاتی ویب سائٹ’منی کنٹرول ڈاٹ کام‘کے مطابق اسرائیل اور بھارت کے درمیان اسلحے کی تجارت 2015 سے 2024 کے درمیان 33 گنا بڑھ گئی ہے، جو 2024 میں 185 ملین ڈالر تک پہنچ گئی۔

نیو انٹرنیشنلسٹ کے جنوری 2025 کے شمارے میں لکھا گیا:

”بھارتی کمپنیاں جیسے اڈانی ایلبٹ ایڈوانسڈ سسٹمز انڈیا، پریمیئر ایکسپلوسیوزاور ریاستی کمپنی میونیشنز انڈیافعال طور پر ڈرون اور ہتھیار اسرائیل کو فراہم کر رہی ہیں جبکہ وہ غزہ میں فلسطینی عوام کے خلاف نسل کش جنگ جاری رکھے ہوئے ہے۔ اپریل میں ان معاہدوں کو نقصان نہ پہنچانے کے لیے بھارت نے اقوام متحدہ کی اس قرارداد پر ووٹنگ سے پرہیز کیا جس میں اسرائیل پر اسلحہ پابندی کی تجویز بھی شامل تھی۔ اسرائیل نے بدلے میں بھارت کو اسلحہ فراہم کرنا جاری رکھا۔ یہ ایک اہم عہد تھا کیونکہ اسرائیل نے اکتوبر 2023 سے دوسرے ممالک کو 1.5 ارب ڈالر سے زیادہ کے ہتھیاروں کی برآمد میں تاخیر کی ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی کے 2014 میں برسراقتدار آنے کے بعد بھارت اسرائیل کی اسلحہ تجارت میں کلیدی کھلاڑی بن گیا ہے۔ دنیا کا سب سے بڑا اسلحہ درآمد کرنے والا ملک بھارت،اسرائیل کا سب سے بھروسہ مند خریدار ہے، جو اس کی کل اسلحہ برآمدات کا 37 فیصد بنتا ہے۔“

(محمد آصف خان، ’پارٹرنرز ان پاور: اسرائیل، انڈیا اینڈ دی آرمز ٹریڈ‘، 1جنوری2025)

بھارت کی کمپنی اڈانی ایلبٹ ایڈوانسڈ سسٹمز، انڈیا کی طرف سے اسرائیل کو اسلحہ کی فراہمی کے بارے میں مزید پڑھنے کے لیے  اس لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیلات کے لیے اڈانی گروپ کی ویب سائٹ پر ایلبٹ اور امریکی اسلحہ کمپنی کے ساتھ نئے اشتراکی منصوبے دیکھیں۔

اس بات کے کوئی آثار نہیں ہیں کہ بھارتی وزیراعظم کا اسرائیل نواز موقف بدلے گا (وہ جولائی 2025 میں ریو میں برکس سربراہی اجلاس میں بھی بنفس نفیس شریک ہوئے)۔ بھارت اور اسرائیل 2025 کے اختتام سے پہلے ایک آزاد تجارتی معاہدے پر دستخط کرنے کی امید رکھتے ہیں۔ ٹائمز آف اسرائیل (18 فروری 2025) کے مطابق:

”اسرائیل اور بھارت اس سال ایک طویل عرصے سے زیرانتظار آزاد تجارتی معاہدہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، خاص طور پر اس وقت جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ اور بھارت کے درمیان ایک نئے تجارتی راستے کے منصوبے کو ازسرنو ترتیب دیا ہے جو اسرائیل سے گزرے گا۔“

جہاں تک فلسطین پر بھارت کے موقف کا تعلق ہے تو نریندر مودی کے انتخاب کے بعد سے اسرائیل کے حق میں ایک نمایاں جھکاؤ آیا ہے۔ مودی نے 2017 میں روایت توڑتے ہوئے اسرائیل کا دورہ کیا، لیکن فلسطین کا دورہ نہیں کیا۔ مودی حکومت نے اسرائیل پر براہ راست تنقید سے گریز کیا ہے، خاص طور پر غزہ پر بمباری (2014، 2021، 2023، 2024 اور 2025) اور مغربی کنارے میں آبادکاروں کے تشدد کے دوران۔ ملک کے اندر فلسطین سے یکجہتی کو ہندو دائیں بازو کی جانب سے زیادہ سے زیادہ نشانہ بنایا جا رہا ہے، اسے بدنام اور غیر معتبر قرار دیا جا رہا ہے، خاص طور پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے زیر اثر سیاسی و نظریاتی ماحول میں یہ سلسلہ مزید تیز ہو چکا ہے۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں