روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الخميس, 30 جولائی 2026

بھٹ شاہ: کارپوریٹ فارمنگ اور کینالوں کے خلاف ملک گیر ہاری کانفرنس

بھٹ شاہ: کارپوریٹ فارمنگ اور کینالوں کے خلاف ملک گیر ہاری کانفرنس

لاہور(پ ر)کارپوریٹ فارمنگ اور 6 نئے کینالوں کی تعمیر کے خلاف عوامی تحریک کے تعاون سے پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے زیر اہتمام بھٹ شاہ میں ملک گیر ہاری کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس میں ملک بھر کے کسانوں نے دریائے سندھ کے تحفظ کے لیے بھاری اکثریت سے قراردادیں منظور کیں اور ’گرین پاکستان‘ منصوبوں کو کسان دشمن منصوبے قرار دے کر مسترد کر دیا۔ زرعی ٹیکس بل کو زراعت پر حملہ قرار دیا گیا۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رہنماؤں نے کہا کہ ملک کو آئی ایم ایف کا غلام بنا دیا گیا ہے۔ آئی ایم ایف اور دیگر سامراجی اداروں کے کہنے پر میڈیا اور عدلیہ کو قید کر دیا گیا ہے۔ 26ویں آئینی ترمیم اور پیکا ایکٹ ترمیمی بل سامراجی مفادات کے تحفظ کے لیے منظور کیے گئے ہیں۔ ارسا ایکٹ میں ترمیم کر کے دریائے سندھ کا پانی سندھ سے چھین کر غیر ملکی کمپنیوں کو فروخت کرنے کی سازش کی گئی ہے۔ رہنماؤں نے کہا کہ’گرین پاکستان‘،’زرعی انقلاب‘، اور’اڑان پاکستان‘جیسے خوشنما نعروں کے ذریعے کسانوں کو ان کی زمینوں سے بے دخل کیا جا رہا ہے۔ ملک فروخت کیا جا رہا ہے، زمینیں غیر ملکی کمپنیوں کے حوالے کر کے ملکی سالمیت کو داؤ پر لگایا جا رہا ہے۔ پیپلز پارٹی نے ’روٹی، کپڑا اور مکان‘کا نعرہ لگا کر سندھ کے عوام سے سب کچھ چھین لیا، اب بلاول شہباز اتحادی حکومت ’گرین پاکستان‘ کا نعرہ لگا کر سندھ کو ریگستان بنانے کی سازش کر رہی ہے۔ کانفرنس میں کارپوریٹ فارمنگ، چولستان منصوبہ اور گریٹر تھل کینال کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔ کانفرنس میں ’سندھیانی ثقافتی گروپ‘نے ٹیبلو پیش کیے اور قومی فنکاروں نے دریائے سندھ پر قبضے کے خلاف گیتوں کے ذریعے احتجاج کیا۔

کانفرنس میں عوامی تحریک کے مرکزی صدر ایڈووکیٹ وسند تھری، پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے جنرل سیکریٹری فاروق طارق، سندھی ہاری تحریک کے مرکزی صدر غلام مصطفی چانڈیو، عوامی ورکرز پارٹی کے فیڈرل سیکرٹری بخشل تھلو، حقوق خلق پارٹی کے جنرل سیکرٹری عمار علی جان، سندھیانی تحریک کی مرکزی صدر عمرہ سمون، وومن ڈیموکریٹک فرنٹ کی رہنما عالیہ بخشل، دانشور پروفیسر مشتاق میرانی، انجمن مزارعین پنجاب کے صدر مہر غلام عباس، سندھ ہاری پورہیت کمیٹی کے صدر فیض کیریو، کسان کرکیہ تنظیم مردان کے رہنما گلزار خان، حقوق خلق پارٹی کے رہنما رفعت مقصود، حسنین جمیل فریدی، ہاری جدوجہد کمیٹی کے رہنما علی کھوسو، عوامی ورکرز پارٹی سندھ کے سینئر نائب صدر یونس راہو، سندھی ہاری تحریک کے مرکزی رہنما ڈاکٹر دلدار لغاری، دریا خان زؤر، ایڈووکیٹ اسماعیل خاصخیلی، لال جروار، سندھی مزدور تحریک کے صدر حاجی خان سمون، سندھی شاگرد تحریک کے مرکزی صدر نوید عباس کلہوڑو، سندھی گرلز اسٹوڈنٹس تحریک کی مرکزی آرگنائز ایڈووکیٹ کونج لاشاری، سجاگ بار تحریک کے مرکزی صدر فاضل کھوسو، مریم انڑ، شمشاد لغاری، علی نواز ڈاہری، بلاول لاشاری اور دیگر کئی اہم رہنماؤں نے شرکت کی۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عوامی تحریک کے مرکزی صدر ایڈووکیٹ وسند تھری نے کہا کہ مریم نواز ایک ادارے کے سربراہ کے ساتھ مل کر چولستان میں ’گرین پاکستان‘منصوبے کا افتتاح کر کے سندھ کو ریگستان بنانے کی سازش کو عملی جامہ پہنا چکی ہیں۔ پیپلز پارٹی کی مجرمانہ خاموشی یہ ظاہر کرتی ہے کہ اس نے صدارتی عہدے کے بدلے دریائے سندھ کو فروخت کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چولستان کینال کارپوریٹ فارمنگ منصوبوں کے لیے پانی فراہم کرنے کے لیے بنائی جا رہی ہے۔ ایک طرف چولستان کی زمینوں پر قبضہ کر کے مقامی ہاریوں کو بے دخل کیا جا رہا ہے، دوسری طرف سندھ کے پانی کو چرا کر ان قبضہ شدہ زمینوں کو آباد کرنے کے لیے چولستان کینال تعمیر کی جا رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کارپوریٹ کمپنیوں کو دریائے سندھ کا پانی فروخت کرنے کے لیے صدر زرداری نے ارسا ایکٹ میں ترمیم کی ہے۔ صدر زرداری کو سندھ کی زمینوں اور وسائل نیلام کرنے کے لیے اقتدار پر بٹھایا گیا ہے۔ صدراتی عہدے کے بدلے صدر زرداری سندھ کو فروخت کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر کے کسانوں کے مسائل ایک جیسے ہیں۔ کسانوں کو فصلوں کی مناسب قیمت نہیں مل رہی۔ کارپوریٹ فارمنگ کے ذریعے پورے ملک میں کسانوں کو بے دخل کیا جا رہا ہے، زمینوں پر قبضے کیے جا رہے ہیں۔ چولستان کی طرح سندھ کے کاچھو، تھر، عمرکوٹ سمیت ہر علاقے پر قبضہ کیا جا رہا ہے۔ گولاڑچی میں کارپوریٹ فارمنگ کے لیے دیہاتیوں کو زبردستی بے دخل کیا جا رہا ہے۔

پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے سیکریٹری فاروق طارق نے کہا کہ پنجاب میں ہم کارپوریٹ فارمنگ کے خلاف اور پانی کی منسفانہ تقسیم کے لیے سندھ کے عوام سے مل کر جدوجہد کر رہے ہیں۔ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ دریائے سندھ پر چھے نئے کینالوں کی تعمیر کو فوری طور پر روکا جائے۔ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ کارپوریٹ فارمنگ کو ختم کر کے زمین بے زمین کسانوں اور باریوں میں تقسیم کی جائے۔

سندھی ہاری تحریک کے مرکزی صدر غلام مصطفی چانڈیو نے کہا کہ پیپلز پارٹی سندھ کے کسانوں کو غلام بنا کر دریائے سندھ کو فروخت کر رہی ہے۔ پیپلز پارٹی نے جاگیرداری نظام کو مضبوط کر کے سندھ کو تاریکی میں دھکیل دیا ہے۔ پیپلز پارٹی کا اقتداری دور سندھ کی تاریخ کا سیاہ ترین دور ہے۔ پیپلز پارٹی نے آمروں اور جابروں سے زیادہ سندھ کو لوٹا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے مسلط کردہ جاگیرداری نظام کے خاتمے اور دریائے سندھ کے تحفظ کے لیے کسانوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

کانفرنس میں درج ذیل قراردادیں پیش کی گئیں:

٭زرعی انقلاب کے نام پر سندھیوں سمیت بلوچ، سرائیکی، پنجابی، پشتون، کشمیری اور گلگتی عوام کی زمینوں، وسائل، پانی، پہاڑوں، جزیروں اور کچے کے علاقوں پر قبضہ کیا جا رہا ہے۔ یہ دنیا کا واحد زرعی انقلاب ہے جس میں نہ کسان شامل ہیں، نہ کاشتکار، اور نہ ہی ملکی زرعی ماہرین۔ یہ زرعی انقلاب وہ لوگ لا رہے ہیں جن کا اصل کام ملک کی سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے، لیکن پاکستان پر عالمی سامراجی طاقتوں کی بالادستی کی وجہ سے پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ سیاست سے لے کر معیشت، ملک میں شامل قوموں کی زمینوں، قومی وسائل اور کاروبار تک ہر چیز پر قابض ہو چکی ہے۔ ملک کے عوام سمجھتے ہیں کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی حکومت نے غیر جمہوری قوتوں کے ساتھ ساز باز کر کے اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) بناکر چھوٹے صوبوں کی معدنیات، زمینوں اور وسائل پر زرعی انقلاب اور معاشی ترقی کے نام پر قبضے کا لائسنس دے دیا ہے۔ ن لیگ کی تمام اتحادی پارٹیاں بشمول پیپلز پارٹی سندھ سمیت دیگر قوموں کی زمینوں اور وسائل پر قبضے میں سہولت کار ہیں۔
٭اس کانفرنس میں شریک تمام ترقی پسند، عوام دوست، جمہوریت پسند سیاسی رہنما، ادیب، شاعر، کسان اور کاشتکار مطالبہ کرتے ہیں کہ کارپوریٹ زرعی فارمنگ کے ذریعے 48 لاکھ ایکڑ سے زائد زمین غیر ملکی سرمایہ کاروں اور فوج سے منسلک کمپنیوں کو دینے کے بجائے مقامی بے زمین کسانوں کو دی جائے اور زرعی اصلاحات لائی جائیں۔ بڑی جاگیریں ختم کر کے زمینیں مقامی کسانوں میں تقسیم کی جائیں۔
٭ایس آئے ایف سی جیسے ملک فروخت کرنے والے تمام منصوبوں کو ختم کیا جائے، اور کارپوریٹ فارمنگ اور چھ نئے کینالز جیسے سندھ کو بنجر بنانے والے منصوبے بھی فوری طور پر بند کیے جائیں۔
٭چولستان اور گریٹر تھل کینال منصوبوں کو فوراً ختم کیا جائے۔ یہ کانفرنس چھ نئے کینالز کو مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کرتی ہے کہ دریائے سندھ پر کوئی بھی ڈیم یا کینال بنانے کا عمل روکا جائے اور سندھ کو اس کے حصے کا پانی فراہم کیا جائے۔
٭گزشتہ ڈیڑھ سو سال سے پنجاب کا حکمران طبقہ سندھ کا پانی چوری کرتا آ رہا ہے، حکمرانوں کی ان زیادتیوں کو بے نقاب کرنے کے لیے بین الاقوامی آبی ماہرین اور غیر جانبدار رہنماؤں پر مشتمل عالمی ٹریبونل قائم کیا جائے اور اس ڈکیتی کی وجہ سے سندھ کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کیا جائے۔
٭بحریہ ٹاؤن، ڈی ایچ اے سٹی، کمانڈر سٹی، ذوالفقار آباد اور دیگر رہائشی اسکیموں کے نام پر سندھ کی زمینوں پر ہونے والے قبضے فوری طور پر ختم کیے جائیں۔ بحریہ ٹاؤن کی قبضہ کی گئی تمام زمین واپس لے کر متاثرہ مقامی لوگوں کو دی جائے اور اس قبضے میں ملوث تمام افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
٭کینجھر، کارونجھر، ہالیجی جھیل، کھیرتھر نیشنل پارک، مومل جی ماڑی، گورکھ ہل اور گنجو ٹکر سمیت سندھ کے تمام تاریخی، ثقافتی مقامات اور پہاڑوں پر ہونے والے قبضے روکے جائیں۔ منچھر جھیل کی تباہی اور اس میں آبی حیات کے قتل عام کے ذمہ داروں کے خلاف تحقیقات کے لیے کمیشن بنایا جائے اور ان کو سخت سزائیں دی جائیں۔ منچھر جھیل کی بحالی کے لیے ہنگامی اقدامات لیے جائیں۔
٭2007 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے زمینوں پر مقامی باشندوں کے حق کو بنیادی انسانی حق تسلیم کیا تھا اور اسے انسانی حقوق کے اعلامیے میں شامل کیا تھا، لیکن پاکستان کے حکمران کارپوریٹ فارمنگ کے ذریعے زمینیں مقامی لوگوں سے چھین کر ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ یہ کانفرنس مطالبہ کرتی ہے کہ سندھ سمیت تمام قوموں کی زمینوں پر ان قوموں کے حق کو تسلیم کیا جائے، اور زمین کو کسی بھی حکومت کی ملکیت نہیں بلکہ قوموں کی اجتماعی ملکیت سمجھا جائے۔ حکومت زمین کو صرف اسکولوں، اسپتالوں اور عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے لیے استعمال کر سکتی ہے۔
٭زرعی ٹیکس لگا کر کسانوں اور زمینداروں پر معاشی حملہ کیا گیا ہے۔ زرعی ٹیکس کا فیصلہ فوری طور پر واپس لیا جائے۔
٭گندم، گنا، چاول سمیت تمام فصلوں اور سبزیوں کے لیے کسانوں اور کاشتکاروں کو مناسب قیمتیں دی جائیں۔ حکومت کے ذریعے گندم کی خریداری بند کرنے اور پاسکو کو ختم کرنے کے فیصلے کو یہ کانفرنس مسترد کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ تمام فصلوں کو حکومت خریدے اور ان کی مناسب قیمت کا تعین کرنے کا نظام بنایا جائے۔
٭کھاد کی بلیک مارکیٹنگ اور جعلی زرعی ادویات بیچنے والی مافیا کو بے نقاب کر کے قانونی کارروائی کی جائے۔ کھاد کی بلیک مارکیٹنگ میں ملوث سرکاری اہلکاروں کو گرفتار کر کے نشان عبرت بنایا جائے۔ کسانوں کو سستی قیمت پر معیاری کھاد، بیج اور زرعی ادویات فراہم کی جائیں اور سرمایہ داروں کے مافیا طرز کاروبار کو ختم کیا جائے۔
٭کسانوں اور زمینداروں کو آسان اقساط پر بغیر سود کے زرعی قرضے دیے جائیں اور جدید مشینری فراہم کی جائے۔
٭زراعت کو فروغ دینے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں اور کسانوں، کھیت مزدوروں کو روزگار کے تحفظ سمیت تمام بنیادی انسانی حقوق دیے جائیں۔
٭یہ ہاری کانفرنس مطالبہ کرتی ہے کہ ارسا ایکٹ میں ترامیم اور پیکا ایکٹ جیسے تمام کالے قوانین کو فوراً ختم کیا جائے۔
٭کسانوں کے لیے خصوصی عدالتیں (ہاری کورٹس) قائم کی جائیں تاکہ انہیں آئینی، قانونی اور انسانی حقوق فراہم کیے جا سکیں۔
٭یہ کانفرنس مطالبہ کرتی ہے کہ جس طرح کینیڈا کے کیوبیک صوبے میں 2021 میں Magpie میگ پائی دریا کو قانونی شخصیت کا درجہ دے کر اسے آزادانہ بہنے کا حق دیا گیا، اسی طرح دریائے سندھ کو بھی ایک زندہ اور جاندار وجود تسلیم کیا جائے۔ اس کے پانی، کناروں اور قدرتی راستے کو اس کا حصہ قرار دیا جائے۔ دریائے سندھ کروڑوں انسانوں، جانوروں، پرندوں اور ڈیلٹا کے لیے زندگی کا واحد ذریعہ ہے، اس لیے اسے قانونی حقوق دیے جائیں اور اس کے بہاؤ میں رکاوٹ ڈالنے، نئے کینالز نکالنے اور ڈیم بنا کر پانی روکنے کو قانونی طور پر روکا جائے۔
٭یہ کانفرنس مطالبہ کرتی ہے کہ 2022 سلاب کے متاثرین کو فوری طور پر گھر بنانے کے لئے کم از کم دس لاکھ روپے دیئے جائیں۔ اور ان کے تمام تر نقصان کا مداوا کیا جائے۔
٭یہ کانفرنس ماحولیاتی انصاف کا مطالبہ کرتی ہے اور امیر ممالک کی جانب سے فضائی آلودگی پھیلانے کی وجہ سے جو موسمیاتی تبدیلیاں آ رھی ہیں اس سے ہونے والے نقصان کا مداوا کرنے کے کئے کلائمیٹ فنانس ادا کرنے کے وعدہ کو پورا کریں
٭یہ کانفرنس مطالبہ کرتی ہے کہ امیروں پر سپر ٹیکس کا فوری نفاذ کیا جائے اور ان ڈائریکٹ ٹیکس کو کم کر کے دس فیصد پر لایا جائے۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں