روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الخميس, 30 جولائی 2026

جالب جمہوری میلہ 2025ء: سینکڑوں شرکا نے حبیب جالب کو خراج عقیدت پیش کیا

جالب جمہوری میلہ 2025ء: سینکڑوں شرکا  نے حبیب جالب کو خراج عقیدت پیش کیا

لاہور(حسنین جمیل فریدی)شاعر عوام حبیب جالب کی یاد میں جالب جمہوری میلہ اتوار 9 فروری کو کاسمو پولیٹن کلب باغ جناح لاہور میں منعقد کیا گیا۔ اس میلے کا انعقاد جالب میلہ کمیٹی کے زیرِ اہتمام کیا گیاتھا۔ یہ کمیٹی بائیں بازو کی ترقی پسند سیاسی و سماجی تنظیموں، حبیب جالب کے خاندان، شاعروں، طلبہ تنظیموں، مزدور یونینوں، صحافیوں اور فنکاروں پر مشتمل ہے۔

جالب میلہ کے دوران سستے کھانوں اور کتابوں کے اسٹالز بھی لگائے گئے، اس میلے کی کوئی داخلہ فیس نہیں تھی جبکہ زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد اور خاص طور پر بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے سیاسی کارکنان نے میلے میں بھرپور شرکت کی۔

جالب جمہوری میلہ اتوار کو دن 12 بجے شروع ہوا۔ آغاز میں حبیب جالب کی بیٹی طاہرہ حبیب جالب، عمار رشید اور کامریڈ حسنین نے کلام جالب پیش کیا۔ اس موقع پر جب وہ کلام جالب پیش کر رہے تھے،تو نوجوانوں کی بڑی تعداد اسٹیج پر آگئی اور نوجوانوں نے مل کر جالب کا کلام ’ایسے دستور کو صبح بے نور کو میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا‘پڑھا۔

کلام جالب کے بعد نوجوانوں کا سیشن شروع ہوا،جس میں خلق یوتھ فرنٹ سے رائے علی آفتاب، این ایس ایف سے کامریڈ سنبل، راوی بچاو تحریک سے محسن، حقوق خلق پارٹی سے مزمل کاکڑ، خلق ویمن فرنٹ سے آمنہ وحید اور محبہ احمد نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ نوجوانوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج کے نوجوان کو جالب کی فکر سمجھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے پاکستان میں طلبہ، نوجوانوں اور خواتین کے مسائل پر تفصیلی بات کی اور کہا کہ جالب کی فکر اور شاعری ہمیں اس بات کا سبق دیتی ہے کہ ہم موجودہ استحصالی نظام کے خلاف ایک منظم جدوجہد کریں۔

نوجوانوں کے سیشن کے بعد مشاعرے کا آغاز ہوا،جس کی نظامت عابد حسین عابد اور صدارت بابا نجمی نے کی۔ اس مشاعرے کی خاصیت یہ تھی کہ اس میں جالب کی فکر رکھنے والے شعراء کو مدعو کیا گیاتھا۔ ڈاکٹر خالد جاوید جان، صابر علی صابر، طاہرا سرا، راغب تحسین، احمد اقبال بزمی، انیس احمد، ڈاکٹر طاہر شبیر، پروفیسر ندیم احسان، حماد غزنوی صفیہ حیات، رضی حیدر اور بابا نجمی نے اپنی شاعری پیش کی اور حاظرین کی خوب داد سمیٹی۔

مشاعرے کے بعد ملک کی نامور کلاسیکل رقاصہ شیما کرمانی نے حبیب جالب کے کلام پر اپنے گروپ کا رقص پیش کیا۔ انہوں نے حبیب جالب کے فلمی گیتوں اور انقلابی نغموں پر مشتمل 35 منٹ کی پرفارمنس پیش کی۔ حبیب جالب کے فلمی گانے ’من میں اٹھی نئی ترنگ، ناچے مورا انگ انگ‘پر زبردست رقص پیش کیا گیا،جبکہ جالب کے ایک اور فلمی مگر انقلابی نغمے’رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے‘کو اس انداز میں پیش کیا گیا کہ حاضرین جذباتی ہو گئے۔

خیال رہے کہ کہ شیما کرمانی،جو کراچی سے لاہور خصوصی طور میلے میں شرکت کیلئے آئیں تھیں،کچھ دن قبل گرم پانی سے ان کا جسم جھلس گیا تھا،تاہم شدید علالت کے باوجود انہوں نے اپنی انقلابی ذمہ داری نبھانے کا فیصلہ کیا اور جالب جمہوری میلہ کو چار چاند لگا دیئے۔

بعد ازاں حیدر علی بٹ اور علی احمد ڈھلوں نے فکر جالب پر اظہار خیال کیا۔ حیدر علی بٹ نے کہا کہ حبیب جالب صرف انقلابی شاعر ہی نہیں تھے بلکہ وہ ایک مکمل سیاسی شخصیت تھے۔آج کے نوجوان جو جالب کی فکر کو اپنانا چاہتے ہیں انہیں سیاسی طور پر منظم ہونا ہوگا،اور بائیں بازو کی سیاسی تنظیموں میں شامل ہو کر انقلابی فریضہ ادا کرنا ہوگا۔

تقاریر کے بعد ناٹک شالا تھیٹر کی جالب سے حبیب جالب کی نظم ’دس کروڑ انسانو، زندگی سے بیگانو‘پر ایک تھیٹر پیش کیاگیا۔ نوجوانوں کی اس تھیٹر پرفارمنس کو حاضرین نے خوب داد دی۔

تھیٹر کے بعد موسیقی کا پروگرام شروع ہوا۔ موسیقی پروگرام کے آغاز میں سلیمہ خواجہ اور عائشہ نادر نے حبیب جالب کی شاعری پر نئی دھنیں پیش کیں،جبکہ امر عالم نے ستار کے ساتھ حبیب جالب کی نظم کی دھن سے حاضرین کے دل جیت لیے۔

بعد ازاں کامریڈ عمار رشید نے حبیب جالب کا کلام’ظلم رہے اور امن بھی ہو۔۔کیا ممکن ہے تم ہی کہو‘پیش کیا اور ساتھ ساتھ حاضرین سے انقلابی اور سیاسی گفتگو بھی کی۔

ملک کی مایہ ناز گلوکارہ میڈم ترنم ناز نے حبیب جالب کے فلمی گانے گا کر میلے کے شرکا کو لطف اندوز کیا۔

میڈم ترنم ناز کے بعد شام چراسی گھرانے کے نامور گلوکار شان اختر علی خان نے کلاسیکل غزلوں کے ذریعے میلے کو چار چاند لگا دئیے۔

آخر میں ملک کے معروف گلوکار عدیل برکی نے صوفی کلام سے اپنی گائیکی کا آغاز کیا، پھر حبیب جالب کا کلام گایا جبکہ بعد ازاں پنجابی اور بھنگڑے والے گانے گا کر حاضرین کو رقص کرنے اور جھومنے پر مجبور کر دیا۔

میلے کے اختتام پر عنایت عابد، اور شہید عبداللہ بٹ کی وفات پر ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔

میلے کے آخر میں مرکزی منتظم فاروق طارق نے جالب جمہوری میلہ میں شرکت کرنے والے حاضرین، فنکاروں اور کاسمو پولیٹن کلب انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا، اور اعلان کیا کہ جالب جمہوری میلہ ہر سال کیا جائے گیا، جبکہ نومبر میں ہم فیض امن میلہ بھی کروائیں گے۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں