لاہور(جدوجہد رپورٹ)ایک روز بعد جب جے ڈی وینس نے اس مبالغے کے ساتھ کہا کہ سیاسی تشدد صرف ایک شماریاتی حقیقت ہے کہ یہ بائیں بازو میں بڑا مسئلہ ہے، ’الجزیرہ‘ کی ایک جانچ پڑتال نے دکھایا ہے کہ صورتحال اس سے کہیں پیچیدہ ہے۔
سب سے پہلے، تناظر یہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس نے حالیہ عرصے میں بائیں بازو پر تشدد کے الزامات لگائے ہیں، خاص طور پر جب ایک قدامت پسند شخصیت قتل ہوئی تھی۔ وینس نے ایک پوڈکاسٹ میں کہا کہ ’ابھی اس پر غصے کا رجحان بائیں جانب ہے دائیں کی نسبت‘۔
تاہم اگر ہم پہلے سے طے شدہ تاریخی ڈیٹا دیکھیں تو یہ دعویٰ مکمل طور پر ٹھوس نہیں ہے۔
سینٹر فار سٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیزکے مطابق 1994 سے 4 جولائی 2025 تک امریکہ میں انجام پانے والے تقریباً 850 سیاسی تشدد کے حملے اور منصوبے اس مطالعے کا حصہ رہے۔ اس میں وضاحت کی گئی ہے کہ بائیں بازو کا تشدد سنہ 2016 کے بعد تھوڑا سا بڑھا ہے، مگر ماضی کی تاریخ میں دائیں بازو کے تشدد کے مقابلے میں بائیں بازو کی سطح بہت کم ہے۔
بائیں بازو کے حملوں میں جان لیوا واقعات کی تعداد کم رہی ہے۔ گزشتہ دہائی میں 13 اموات بائیں بازو سے منسوب کی گئیں، جبکہ دائیں بازو کے حملوں میں 112اموات ہوئی تھیں۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ صرف تعداد کو بنیاد بنا کر بڑا مسئلہ بتانا غلط اندازہ ہو سکتا ہے۔
اس کے علاوہ ماہرین نے نشاندہی کی ہے کہ وینس کی بات ایک مختصر مدت کی بنیاد پر کی گئی ہے۔ صرف 6 ماہ کے ڈیٹا سے ایک عمومی نتیجہ نکالنا درست نہیں۔ اس طرح کے الزامات سیاستی مقاصد کو پورا کرنے کے لیے بھی استعمال ہو سکتے ہیں، جیسا کہ انتظامیہ نے ’انٹیفا‘ جیسی تنظیموں کو اندرونی دہشت گردی کا خطرہ قرار دیا ہے۔
سچائی یہ ہے کہ سیاسی تشدد کا مسئلہ چھوٹا ضرور ہے مگر اس کا اثر بہت وسیع ہے۔ تھوڑی تعداد میں واقعات بھی خوف، پالیسی تبدیلیاں، اور معاشرتی تقسیم کو گہرا کر سکتی ہیں۔ لہٰذا یہ کہنا کہ یہ صرف بائیں بازو کا مسئلہ ہے، حقائق کے عین مطابق نہیں ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان ایک سے پانچ واقعات کی بنیاد پر یہ کہنا کہ اب دایاں بازو کم خطرناک ہوگیا ہے، مناسب نہیں۔
مختصراً وینس کا دعویٰ جزوی طور پر درست ہوسکتا ہے کہ بائیں بازو میں تشدد میں اضافہ ہوا ہے، مگر تاریخی معنوں میں جائزہ لیا جائے تو دایاں بازو ابھی بھی بڑی تعداد اور اموات کا باعث رہا ہے۔ اس لیے سیاسی تشدد کے مسئلے کو صرف ایک طرف سے دیکھنا حقائق کے منافی ہے۔