راولاکوٹ(پ ر) جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے سابق مرکزی صدر امجد شاہسوار کی پانچویں برسی کے موقع پر این ایس ایف کے زیرِ اہتمام ہل ٹاپ ہوٹل راولاکوٹ کے ہال میں ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ سابق صدر کی جدوجہد کو خراج پیش کرنے کے لئے منعقدہ اس سیمینار میں این ایس ایف کے مرکزی صدر بدر رفیق، سابق صدور بشارت علی خان، ابرار لطیف اور خلیل بابر کے علاوہ مرکزی عہدیداران، سینئیر رہنماؤں و سرگرم کارکنان نے شرکت کی۔
سیمینار کے شرکاء سے این ایس ایف کے مرکزی صدر بدر رفیق، سیکرٹری جنرل ارسلان شانی، سابق صدور بشارت علی خان، ابرار لطیف، خلیل بابر، سابق ترجمان حارث قدیر، سینئر رہنماؤں فاروق خان اور زاہد خان، چیئرپرسن سٹڈی سرکل علیزہ اسلم، جوائنٹ سیکرٹری فیضان عزیز، چیئرپرسن نشر و اشاعت صائمہ بتول، سابق چیف آرگنائزر تنویر انور اور صابیہ اختر سمیت دیگر نے خطاب کیا۔
سیمینار کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی صدر بدر رفیق و دیگر کا کہنا تھا کہ امجد شاہسوار ایک عظیم انقلابی رہنما تھے جنہوں نے جموں کشمیر کی آزادی، طلبہ حقوق کی بازیابی، خواتین کے حقوق اور جواں نسل کے انقلابی شعور کی ترجمانی سمیت محنت کشوں کی تمام پرتوں کے حقوق کے لئے اپنی جدوجہد جاری رکھی۔ امجد شاہسوار کی زندگی ریاستی جبر و تشدد، مذہبی بنیاد پرستوں، رجعت پسندوں، فتویٰ بازوں اور حتیٰ کہ انقلابی نظریات کے راستے میں رکاوٹ بننے والے خونی رشتوں تک کے خلاف بغاوت اور لہو رنگ جدوجہد سے عبارت ہے۔
مقررین کا کہنا تھا کہ امجد شاہسوار محض کشمیر کے قومی رہنما نہیں تھے بلکہ نظریات اور جدوجہد کی بنیاد پر ان کا کردار بین الاقوامی تھا۔ انہوں نے جموں کشمیر کے علاوہ پاکستان کے مختلف شہروں میں بے شمار احتجاجی تحریکوں میں بھی عملی اور کلیدی کردار ادا کیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ امجد شاہسوار نے اپنے زندگی کے آخری چند سال ملائشیاء میں معاشی جلاوطنی کاٹتے ہوئے گزارے لیکن وہاں بھی انہوں نے عالمی محنت کش طبقے کے نظریات کے لئے جدو جدوجہد جاری رکھی۔ تادمِ مرگ سائنسی سوشلزم کے نظریات کے اور اپنی تنظیم سے نا صرف منسلک رہے بلکہ تنظیم کی تعمیر و سوشلسٹ انقلاب کے لئے عملی جدوجہد کرتے رہے۔
شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی صدر بدر رفیق و دیگر کا کہنا تھا کہ امجد شاہسوار جیسے انقلابی کی حقیقی میراث ان کا مقبرہ نہیں بلکہ ان کے نظریات و افکار اور ان افکار کے لئے کی جانے والی لہو رنگ جدوجہد ہے۔ اس تناظر میں امجد شاہسوار کی جدوجہد کو حقیقی خراج پیش کرنے کا طریقہ ان کی جدوجہد کو آگے بڑھانا ہے۔ پوری انسانی تاریخ انقلابیوں کی خانکی وراثت سے عدم دلچسپی پر مبنی ہے۔ امجد شاہسوار کے نظریات کو حقیقی میراث کے طور پر آگے بڑھانے سے این ایس ایف کے سرخ پوش انقلابیوں کو دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔