روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الخميس, 30 جولائی 2026

طارق جمیل کے دو چہرے: سلمان اکرم راجہ اور مشی خان

طارق جمیل کے دو چہرے: سلمان اکرم راجہ اور مشی خان

فاروق سلہریا

اللہ کی برگزیدہ ہستیوں میں شمار ہونے والی شخصیات حضرت اوریا مقبول جان، مولا نا طارق جمیل،حضرت ماریہ بی وغیرہ کے بعد صوفی بزرگ سلمان اکرم راجہ نے بھی سیلاب کو اللہ کا عذاب قرار دے دیا ہے لیکن ان کی توجیہہ ذرا مختلف ہے۔

دو دن قبل تہجد کی نماز پڑھتے پڑھتے پیر طریقت سلمان اکرم راجہ کی آنکھ لگ گئی۔ خواب میں ان کی ملاقات اللہ کے عذاب سے ہوئی۔جب ان کی آنکھ کھلی تو انہیں غیب سے آواز آئی کہ یہ خواب نہیں تھا، الہام تھا۔

اگلے ہی روز انہوں نے پاکستان تحریک انصاف کی پاک بیبیوں کے جھمگھٹے میں پر ہجوم پریس کانفرنس کرتے ہوئے سیلاب کا شکار ہونے والے ہم گناہ گاروں کو بتایا کہ یہ عذاب الہی الیکشن میں دھاندلی کا نتیجہ ہے۔

مجھ گناہ گار تک اس پریس کانفرنس کا ایک ویڈیو کلپ ہی پہنچا۔ ممکن ہے سلمان اکرم راجہ (اللہ ان کے درجات بلند فرمائے) نے وضاحت کی ہو کہ وہ 2018 میں ہونے والی انتخابی دھاندلی کی بات کر رہے تھے یا 2024 والے الیکشن چوری ہونے کی بات کر رہے تھے۔

سلمان اکرم راجہ کا ویڈیو کلپ میں نے اپنے والد صاحب کو بھی بھیجا۔ نالہ ڈیک کے کنارے،تحصیل ظفروال کے شمال میں واقع،موضع چھنی میں میرے والد کا گھر بھی اس سیلاب سے متاثر ہوا ہے۔ میرے والد ریٹائرڈ فوجی ہیں مگر 9 مئی کے سانحہ کے باوجود ووٹ تحریک انصاف کو دیتے ہیں۔ انہیں یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ اللہ کا عذاب دھاندلی کرنے والوں پر آنے کی بجائے عمران خان کے ووٹرز پر کیوں آ رہا ہے؟

دریں اثناء،اللہ تعالی کی ایک اور برگزیدہ ہستی مشی خان نے بھی اعلان کیا ہے کہ یہ سیلاب فحاشی کی وجہ سے آنے والا اللہ کا عذاب ہے۔ ان کا خیال ہے کہ لاہور کی سڑکیں رات کو منی بنکاک بنی ہوتی ہیں،عذاب تو آئے گا۔

ُپی ٹی وی کے’خبرنامہ‘ سے شہرت پانے والے ہمارے سینئیر صحافی،عصمت اللہ نیازی،جنہیں میری نسل کے لوگ اپنے بچپن میں ٹی وی اسکرین پر دیکھا کرتے تھے،ان دنوں ریٹائر ہونے کے بعد اکثر سوشل میڈیا پر نظر آتے ہیں۔انہیں سمجھ نہیں آ رہی کہ بنکاک میں تو کچھ نہیں ہوا،منی بنکاک کیوں پانی میں ڈوبا ہوا ہے؟

ویسے میرے خیال سے سب سے زیادہ کنفیوژن کا شکار تو اللہ کا عذاب خود ہو رہا ہے۔ اسے سمجھ نہیں آ رہی کہ وہ الیکشن دھاندلی کی وجہ سے آیا ہے، فحاشی کی وجہ سے آیا ہے،لڑکیوں کے جینز پہننے کی وجہ سے آیا ہے یا کو ایجوکیشن کی وجہ سے؟

Farooq Sulehria

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں