روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الخميس, 30 جولائی 2026

علی وزیر کی ایک اور مقدمے میں ضمانت منظور، آج رہائی کا امکان

علی وزیر کی ایک اور مقدمے میں ضمانت منظور، آج رہائی کا امکان

لاہور(جدوجہد رپورٹ) سابق ممبر قومی اسمبلی اور رہنما پی ٹی ایم علی وزیر کی انسداد دہشت گردی عدالت سکھر نے ایک آخری ایف آئی آر میں بھی ضمانت منظور کر لی ہے۔ بدھ کے روز عدالت نے علی وزیر کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔ تاہم بنک کا وقت ختم ہوجانے کی وجہ سے ضمانتی مچلکے جمع نہیں ہو سکے۔ آج ضمانتی مچلکے جمع کروانے کے بعد ان کی رہائی کا امکان ہے۔

علی وزیر کی جانب سے شیر افضل مروت ایڈووکیٹ، ملک عنایت کاسی ایڈووکیٹ اور ملک پرویز شاہین جتوئی عدالت میں پیش ہوئے۔

یاد رہے کہ علی وزیر گزشتہ سال اگست سے زیر حراست ہیں۔ ایک بار پھر درجنوں مقدمات میں ضمانت حاصل کرنے کے باوجود ان کی رہائی ایک معمہ بن چکی ہے۔ ایک مقدمہ میں ضمانت حاصل کرنے کے بعد انہیں دوسرے مقدمے میں گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ گزشتہ کچھ ماہ سے انہیں ایم پی او کے تحت گڈانی جیل میں نظر بند رکھا گیا ہے۔

گڈانی جیل میں قید کے دوران ہی ان پر گزشتہ سال 7دسمبر کو سکھر میں ایک اور مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ قبل ازیں بھی علی وزیر دو سال تک جیل میں رہے ہیں۔ ممبر قومی اسمبلی ہوتے ہوئے علی وزیر کو ایک کے بعد ایک مقدمے میں گرفتاری ظاہر کرنے کے اس سلسلے میں 24ماہ جیل میں گزارنے پڑے تھے۔

رہائی کے کچھ عرصے بعدہی انہیں دوبارہ ایک مقدمے میں اسلام آباد سے گرفتار کر لیا گیا تھا۔ اس کے بعد وہ چاروں صوبوں اور اسلام آباد کی مختلف عدالتوں سے ضمانت حاصل کر چکے ہیں۔ طویل عرصے کے بعد آج ان کی رہائی کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔ تاہم خدشہ ابھی بھی موجود ہے کہ علی وزیر کو ایک بار پھر کسی نئے مقدمے میں گرفتار کیا جا سکتا ہے۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں