روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الخميس, 30 جولائی 2026

غزہ میں 57 بچے بھوک سے ہلاک، ہزاروں غذائی قلت کا شکار

غزہ میں 57 بچے بھوک سے ہلاک، ہزاروں غذائی قلت کا شکار

لاہور (جدوجہد رپورٹ)غزہ میں جاری اسرائیلی محاصرے کے باعث انسانی بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک کم از کم 57 بچے بھوک سے ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف کا کہنا ہے کہ 9,000 سے زائد بچے شدید غذائی قلت کے باعث طبی امداد حاصل کر رہے ہیں۔ تین ماہ سے جاری مکمل محاصرے نے خوراک اور انسانی امداد کی ترسیل کو تقریباً ناممکن بنا دیا ہے۔

’ڈیموکریسی ناؤ‘ کے مطابق اسرائیلی سکیورٹی کابینہ نے غزہ پر حملوں میں مزید توسیع کی منظوری دے دی ہے اور دسیوں ہزار ریزرو فوجیوں کو متحرک کر دیا گیا ہے۔ اسرائیلی منصوبے کے تحت غزہ کے علاقوں پر قبضہ اور وہاں مستقل فوجی موجودگی قائم کرنے کی حکمت عملی بنائی گئی ہے۔

مارچ میں اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی توڑنے کے بعد سے اب تک مزید 2,400 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جب کہ مجموعی طور پر گزشتہ 18 ماہ میں 52,000 فلسطینی مارے گئے، جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔

اسرائیل کی جانب سے پیش کردہ تجویز، جس میں امدادی ترسیل پر مکمل اسرائیلی کنٹرول اور امریکی سیکیورٹی کنٹریکٹرز کی نگرانی شامل ہے، کو امدادی تنظیموں نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ناروے ریفیوجی کونسل کے سربراہ یان ایگلینڈ کا کہنا ہے کہ: ”وہ امداد کو ایک ہتھیار بنانا چاہتے ہیں، تاکہ سویلین کی زندگیوں پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔ یہ انسانی ہمدردی کے اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔”

اس دوران اسرائیلی فضائی حملے بھی جاری ہیں۔ خان یونس میں ایک حملے میں نوبیاہتا جوڑا علاء ابو العنّین اور ہالہ زوروب اپنی شادی کے اگلے ہی دن شہید ہو گئے۔ حملے میں کئی دیگر شہری بھی مارے گئے۔

ایک مقامی شہری جہاد سرحان نے کہاکہ ’میری آواز پوری دنیا تک پہنچنی چاہیے، ہم مظلوم ہیں، ہمارے بچے بھوک سے مرتے ہیں، ہمیں صرف لاشیں اٹھانے کا کام دیا گیا ہے۔‘

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں