روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الخميس, 30 جولائی 2026

قید تنہائی نے میرا حوصلہ نہیں توڑا: ماہ رنگ بلوچ کا گارڈین میں مضمون

قید تنہائی  نے میرا حوصلہ نہیں توڑا: ماہ رنگ بلوچ کا گارڈین میں مضمون

ماہ رنگ بلوچ

رات کے 9 بجے ہیں اور میں بلاک نمبر 9 کی اپنی کوٹھڑی میں اکیلی بیٹھی یہ سطریں لکھ رہی ہوں۔ مجھے قید تنہائی میں ایک سال ہو چکا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ میں نے اپنی 30ویں سالگرہ بھی یہیں گزاری۔ خاموشی کا بھی ایک وزن ہوتا ہے،ایسا بوجھ جو جتنا زیادہ طویل ہو، اتنا ہی گہرا ہو کر آپ کے اندر اترتا جاتا ہے۔

میرے ساتھ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے دو اور کارکن بھی ہیں ۔ یہ وہ تنظیم ہے جو میں نے بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف آواز بلند کرنے کے لیے قائم کی تھی۔ وہ دونوں میرے بالکل ساتھ والی کوٹھڑیوں میں ہیں۔ سینٹرل جیل ہدہ کوئٹہ کے اس بلاک میں 9 کوٹھڑیاں ہیں، لیکن ہمیں باقی خواتین قیدیوں سے الگ رکھا جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چونکہ ہم سیاسی قیدی ہیں، اس لیے ہمیں دوسروں سے بات چیت کی اجازت نہیں۔ شاید انہیں ڈر ہے کہیں ہم انہیں متاثر نہ کر دیں۔

میری 20 مربع میٹر کی کوٹھڑی بالکل خالی ہے ۔ صرف ایک چھوٹا سا پلنگ اور ایک کونے میں ٹوائلٹ ہے۔ قید تنہائی کو جتنا سخت بنایا جا سکتا ہے، اس کوٹھڑی کو ویسا ہی بنایا گیا ہے۔ کتابوں اور پچھلے اکتوبر تک باقاعدہ ورزش نے ہی مجھے ذہنی طور پر ٹوٹنے نہیں دیا۔ جون 2025 میں ایک ہفتے کی بھوک ہڑتال کے بعد ہمیں چند اخبارات اور کتابیں رکھنے کی اجازت ملی، مگر ٹی وی اب بھی ممنوع ہے۔ اکتوبر کے بعد سے شدید کمر اور جوڑوں کے درد نے مجھے ورزش سے بھی روک رکھا ہے۔

ایک ڈاکٹر ہونے کی حیثیت سے میں نے خود اپنا علاج کرنے کی کوشش کی۔تاہم جب فروری میں میری حالت بگڑی تو آخرکار مجھے ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں مجھے سلپ ڈسک اور ریڈیکیولوپیتھی ( یعنی ریڑھ کی ہڈی کے اعصاب دب جانے) کی تشخیص ہوئی۔

وقت کے ساتھ میں نے خود کو ایک ترتیب اور معمول پر مجبور کیا، تاکہ ذہنی استحکام برقرار رہے۔ میں صبح سویرے اٹھتی ہوں اور زیادہ تر وقت سیاسیات کا مطالعہ کرتی ہوں۔ کتابیں مجھے یاد دلاتی ہیں کہ ان دیواروں کے باہر بھی ایک دنیا ہے، مگر تنہائی انسان کو وقت سے کاٹ دیتی ہے ، گویا زندگی کہیں رک گئی ہو۔

ان سب کے باوجود سب سے بڑا اور تکلیف دہ زخم یہ ہے کہ میری سیاسی سرگرمی کی وجہ سے میرا خاندان مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔میرا کزن صلال بلوچ جبری طور پر لاپتہ کر لیا گیا۔اسی سال 12 مارچ کو میرا 19 سالہ کزن سیف اللہ بلوچ اٹھا لیا گیا اور اب تک لاپتہ ہے۔میرا بھائی فورتھ شیڈول میں ہے اور اسے مسلسل کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ ہراساں کرتا رہتا ہے۔ یہ ایک ایسی واچ لسٹ ہے جس میں تین سال تک سخت نگرانی، سفر پر پابندی، ہر وقت پولیس کو رپورٹ کرنے کی شرط، اور مالی پابندیاں عائد کی جاتی ہیں۔

جب بھی میری بہن ہماری رہائی کے لیے پریس کانفرنس کرتی ہے، اسے ہراساں کیا جاتا ہے، کئی بار اس پر مقدمے بھی قائم کیے گئے ہیں۔ یہ تمام ہتھکنڈے مجھے توڑنے، میرا حوصلہ پست کرنے، اور مجھے میری سیاسی جدوجہد سے پیچھے ہٹانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

ہماری پیشیاں جیل کے اندر ہی عموماً ہفتے کے دن ہوتی ہیں، جب کوئی باہر کا شخص شرکت نہیں کر سکتا۔ فون کالز پر پابندی ہے، حالانکہ جیل کے قواعد کے مطابق ہفتے میں دو کالز کی اجازت ہونی چاہیے۔ مجھے معلوم ہے کہ ہماری حراست ہمارے حقوق کے مطالبے کی سزا ہے۔تاہم اس نے میرے عزم کو کمزور نہیں کیا بلکہ مجھے اور مضبوط بنایا ہے، اور ہمارے موقف کی حقانیت ثابت کی ہے۔

گزشتہ سال مارچ میں ہماری گرفتاری کے بعد سے ہمیں توڑنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔ میری ساتھی بیبو بلوچ کو پشین جیل سے منتقل کرتے وقت تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ایک اور کارکن بیبرگ زہری اپنی کوٹھڑی کے ناقص حالات کی وجہ سے یوریتھرا کے تکلیف دہ مرض میں مبتلا ہوا، لیکن ہم میں سے کوئی بھی جھکا نہیں۔ شاید یہ ہماری سیاسی تربیت ہے، یا ہمارے نظریے کی طاقت جو ہمیں سہارا دیتی ہے۔ یا شاید یہ اپنے لوگوں پر ایمان ہے ، وہ لوگ جو ظلم کے باوجود بھی اپنی اخلاقی جرات نہیں کھوتے۔ یہی چیز میرے اندر فخر پیدا کرتی ہے۔

جس رات ہمیں گرفتار کیا گیا، پولیس نے ایک پرامن کارکن کو قتل کر دیا، دو راہگیروں کو مار ڈالا، اور کئی مظاہرین کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس واقعے نے مجھے سمجھا دیا کہ ہماری جدوجہد ذاتی نہیں ۔ یہ بلوچ عوام کے خلاف دہائیوں سے جاری ناانصافی کا حصہ ہے۔ یہ ہماری بقا کی لڑائی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ میرا مقصد بلوچ خاندانوں کے انصاف، سلامتی اور خوشحالی کے لیے جدوجہد کرنا ہے۔ یہی میری پکار ہے۔

ریاستی تشدد نے بلوچستان میں ہر گھر کو غیر محفوظ بنا دیا ہے۔ جبری گمشدگیاں عام ہیں، لوگوں کو جعلی مقابلوں میں قتل کر دیا جاتا ہے، عزیز و اقارب کو نشانہ بنایا جاتا ہے، اور اب تو خواتین بھی جبری طور پر لاپتہ کی جا رہی ہیں۔ جبری طور پر لاپتہ ہونے والی خواتین میں ماہ جبین بلوچ (ایک معذور طالبہ) اور ہانی بلوچ (دو بچوں کی ماں جو اس وقت حاملہ تھیں) شامل ہیں۔ صرف 2025 میں بلوچ یکجہتی کمیٹی نے 1200 سے زیادہ جبری گمشدگیوں کے کیسز دستاویزی شکل میں جمع کیے۔

میں نے سوچا ہے کہ آخر ہماری پرامن تحریکیں خطرہ کیوں سمجھی جاتی ہیں؟ جبکہ عدم تشدد پر مبنی سیاسی سرگرمی تو کسی بھی جمہوری سماج کی بنیاد ہوتی ہے۔ مزاحمت اکثر انصاف تک پہنچنے کا راستہ ہوتی ہے، اور ایسی تحریکوں کو دبایا نہیں جانا چاہیے۔ جب کوئی ریاست اپنی طاقت انسانی حقوق کے کارکنوں اور پرامن سیاسی عمل کے خلاف استعمال کرتی ہے، تو وہ اپنی طاقت نہیں بلکہ اپنی کمزوری ظاہر کر رہی ہوتی ہے۔

ہماری پرامن مزاحمت نے ہمارا پیغام دور تک پہنچایا ہے۔ باضمیر لوگ بلوچستان میں ہونے والے مظالم سے واقف ہو چکے ہیں، لیکن نسل کشی کے خاتمے کے لیے عالمی سطح پر کہیں زیادہ توجہ درکار ہے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ ایک مستقل بگاڑ کو درست کیا جائے۔ بلوچستان میں مسلح گروہوں کی موجودگی ایک ناقابل تردید حقیقت ہے، لیکن انہیں پرامن سیاسی تحریکوں کے ساتھ گڈ مڈ کرنا ایک سوچا سمجھا پروپیگنڈا ہے۔ انکار کے رویے کی بجائے ضروری ہے کہ ان محرکات کا ایماندارانہ جائزہ لیا جائے جو بلوچ نوجوانوں کو عسکریت کی طرف دھکیل رہی ہیں۔بلوچ یکجہتی کمیٹی ہمیشہ پاکستان کے آئین کے دائرے میں رہ کر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف پرامن سیاسی جدوجہد کرتی آئی ہے۔

کچھ لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ میں نے مسلح گروہوں سے خود کو کافی حد تک الگ نہیں کیا، خاص طور پر فروری میں عام شہریوں پر حملوں کے بعد۔ میں نے ہمیشہ بلوچستان میں ہونے والے ہر قسم کی تشدد کی مذمت کی ہے ، اور ہر اس گروہ کی بھی جو معصوم لوگوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔ ایسے الزامات صرف ریاستی کریک ڈاؤن کو جواز فراہم کرنے کے لیے گھڑے جاتے ہیں۔

قید میں یادداشت تیز ہو جاتی ہے۔ زندگی کے مختلف لمحے ناقابل برداشت وضاحت کے ساتھ ذہن میں لوٹ آتے ہیں۔ ان سب کے مرکز میں میرا پیارا بلوچستان ہوتا ہے۔ مجھے اپنے والد یاد آتے ہیں، وہ سب لوگ یاد آتے ہیں جو ہمارے دھرنوں میں شریک رہے ، خاص طور پر بہادر بلوچ خواتین یاد آتی ہیں۔یہ یادیں دکھ بھی دیتی ہیں اور طاقت بھی ، اور بالآخر مجھے ایک پرسکون یقین تک لے آتی ہیں کہ ریاستی تشدد اور اجتماعی سزا کے باوجود، بلوچ عوام اپنی پرامن مزاحمت جاری رکھے ہوئے ہیں۔

(بشکریہ: ’دی گارڈین‘، ترجمہ: حارث قدیر)

Mahrang Baloch
ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں