لاہور(جدوجہد رپورٹ)انڈونیشیائی ادبی و تاریخی شعور کے ستون سمجھے جانے والے پرمویدیاانانتاتور (Pramoedya Ananta Toer) کی صد سالہ سالگرہ کے موقع پر جرمنی میں 16دسمبر کو ایک خصوصی عالمی آن لائن تقریب منعقد کی جا رہی ہے، جس میں ان کی ادبی و آزادی پسند فکر کو خراج تحسین پیش کیا جائے گا۔ یہ پروگرام جرمنی میں انڈونیشیائی کمیونٹی ایسوسی ایشن نے یونیورسٹی آف ہیمبرگ کے ایشیاافریقہ انسٹی ٹیوٹ کے شعبہ جنوب مشرقی ایشیائی زبان وثقافت کے تعاون سے ترتیب دیاگیا ہے۔
تقریب دو حصوں پر مشتمل ہوگی۔ پہلے ایک آن لائن مکالمہ، اور اس کے بعد ایک دستاویزی فلم کی نمائش۔
آن لائن گفتگو ’ادبی مزاحمت اور تاریخ نگاری میں پرام کا کردار‘ کے عنوان پر کی جائے گی۔ یہ آن لائن نشست 4بجے سے شام 6بجے تک سنٹرل یورپین ٹائم کے مطابق منعقد ہوگی، جس میں ممتاز محققین اور فنکارشرکت کریں گے۔
مقررین میں SOASیونیورسٹی آف لندن میں سینئرلیکچرر، شاعرہ، ناول نگار اور معروف موسیقار سوجن مارچنگ، برلن اور جکارتہ میں مقیم فلم آرکائیوسٹ اور سکول آف ویمنز تھاٹ کی بانی لیسا بونارحمان، انڈونیشیائی ادب اور تاریخ کے ممتاز محقق تھومس ریگراور یونیورسٹی آف ہیمبرگ و یونیورسٹی آف میلبورن سے منسلک سکالر عبدالمغیث مدھوفیرشامل ہونگے، جبکہ موڈریٹر کے فرائض بھی عبدالمغیث مدھوفیر سرانجام دیں گے۔
شام 6بجے سے ساڑھے 6بجے تک ایک خصوصی دستاویزی فلم دکھائی جائے گی، جسے ستمبر2025میں جرمنی میں انڈونیشیائی کمیونٹی ایسوسی ایشن نے تیار کیا۔ فلم کی زبان انڈونیشی اور جرمن ہے، جبکہ انگریزی سب ٹائٹلز بھی شامل ہیں۔
اس سیمینار میں اس لنک کے ذریعے شرکت کی جا سکتی ہے۔
دستاویزی فلم دیکھنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں۔