راولاکوٹ(پ ر)جموں کشمیر لبریشن فرنٹ ریاست جموں کشمیر کے کسی بھی حصے میں کسی بھی ایسی مسلح کاروائی کی مذمت کرتی ہے اور ایسے کسی بھی عمل کو دہشت گردی قرار دیتی ہے جس میں معصوم بے گناہ عوام کو نشانہ بنایا جائے۔ایسے اقدامات قابض ممالک کے توسیع پسندانہ عزائم اور ریاست جموں کشمیر پر ان کے غاصبانہ اور جابرانہ قبضے کو دوام بخشنے اور عالمی سامراجی قوتوں کے سٹریٹیجک مفادات کو تحفظ دینے کے لیے کیے جاتے ہیں۔ریاست جموں کشمیر دونوں ممالک کی پراکسی وار کا اکھاڑا بنا ہوا ہے،جس میں کچھ شرپسند عناصر اپنے مفادات اور مذموم مقاصد کے لیے عام شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں۔اس کا ریاست جموں کشمیر کی آزادی کی تحریک سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ یہ قابض قوتوں کے خلاف عوامی جدوجہد کو سبوتاژ کرنے کا ایک عمل ہے اور اس سازش کے پیچھے وہی ہاتھ کارفرما ہے جو ریاست جموں کشمیر کے عوام کی آزادی کا دشمن ہے۔
ان خیالات کا اظہار جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین سردار محمد صغیر خان ایڈووکیٹ نے گزشتہ روز پہلگام میں ہونے والے واقع پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی کاروائیاں ریاست جموں کشمیر کے کسی بھی حصے میں ہوں اور کسی بھی قابض ملک کی اپنی رچائی ہوئی خود ساختہ ہو یا کسی پراکسی وار کی صورت میں ہوں وہ قابل مذمت ہیں۔ ایسے اقدامات سامراجی طاقتوں کے عالمی مفادات کو تحفظ دینے کی راہ ہموار کرتے ہیں۔یہ کسی بھی طور پر نہ تو محکوم و مظلوم کشمیریوں کے مفاد میں ہیں اور نہ ہی خطے کے مسائل زدہ بے کس و بے بس عام انسانوں کے مفاد میں ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خطے کے با شعور عوام، انسانیت دوست اور آزادی پسند افراد،اقوام اور تنظیمیں اپنے حکمرانوں اور پالیسی ساز اداروں کو اپنے یا عالمی سامراجی ممالک کے مفادات کے تابع ایسے اقدامات کرنے سے باز رہنے پر مجبور کریں اور بے گناہ انسانوں کے خون بہانے کی بجائے ریاست جموں کشمیر کے لوگوں کے حق آزادی کو تسلیم کرتے ہوئے کشمیریوں کو آزادی دیں،تاکہ خطے کو عالمی سامراجی قوتوں کا اکھاڑہ بننے سے بچایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ پہلگام کے واقعہ میں بے گناہ انسانوں کی جانوں کا ضیاع ایک انسانیت سوز سانحہ ہے اس کواسی تناظر میں دیکھنا چاہیے لیکن اس سانحہ کو ہندوستان ریاست جموں کشمیر کے عوام کے خلاف استعمال کرکے ریاست جموں کشمیر پر اپنے جابرانہ قبضے کو مظبوط کرنے کے لئے روایتی ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کررہا جس سے ریاست جموں کشمیر کے عوام کی زندگی جو پہلے سے ہی اجیرن بنی ہوئی اس کو مزید جہنم کی طرف دھکیل دیا جائے گا۔
انہوں نے پاکستان اور ہندوستان کے عوام سے اپیل کی کہ وہ دونوں ممالک کے حکمران طبقات کی طرف سے اس سانحے پر ایک دوسرے پر الزامات لگانے اور اپنے اپنے عوام کو ملکی سلامتی کے نام پر جذباتی کر کے ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرنے کی سازش کو ناکام بنائیں اور حکمرانوں کو اس بات پر مجبور کریں کہ وہ ایسے کرداروں کو بے نے نقاب کریں جو ایسے اقدامات کر کے عوام کے درمیان نفرت کے بیج بوتے ہیں۔برصغیر کے عوام کی لڑائی ان حکمرانوں اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف مشترکہ لڑائی ہے جنھوں نے اس پورے خطے کے عوام کے حقوق غضب کئے ہوئے ہیں اور محکوم قومیتوں کا آزادی کا حق سلب کیا ہوا ہے،اور عوام ہر دو اطراف غربت،بے روزگاری جیسے بنیادی مسائل سے دوچار ہیں۔
سردار محمد صغیر خان ایڈووکیٹ نے پہلگام میں نہتے انسانوں کے قتل عام پر دکھ کا اظہار کیا اور متاثرہ خاندانوں سے اظہار ہمدردی اور اظہار بکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس سانحے میں قتل ہونے والے افراد کے لیے افسردہ ہیں اور ان کے خاندانوں کے ساتھ دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔