روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الخميس, 30 جولائی 2026

پی آئی اے کی نجکاری: آمدن عارف حبیب کی، خساروں کا بوجھ عوام پر

پی آئی اے کی نجکاری: آمدن عارف حبیب کی، خساروں کا بوجھ عوام پر

لاہور(جدوجہد رپورٹ)پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کی نجکاری کا عمل 23 دسمبر کو مکمل ہوگیا، جس میں آرف حبیب کنسورشیم نے 135 ارب روپے کی سب سے بڑی بولی دے کر پاکستان کی قومی ایئرلائن کے 75 فیصد شیئرز حاصل کرلیے۔ یہ تقریباً 20 سال بعد ملک کی سب سے بڑی نجکاری ہے۔ بولی کا عمل سرکاری ٹی وی اور سوشل میڈیا پر براہ راست نشر کیا گیا۔

پی آئی اے کے اثاثوں کی اصل مالیت 150 سے 190 ارب روپے کے درمیان ہے، جبکہ اس کے منافع بخش بین الاقوامی روٹس، ہوٹل اثاثے اور 600-800 ملین روپے یومیہ آمدنی اس قدر سے کہیں زیادہ ہیں۔ یاد رہے کہ صرف 6 ماہ (جنوری تاجون 2025) میں ایئرلائن کی آمدنی 112 ارب روپے رہی تھی۔

پی آئی اے کے امریکہ اور فرانس میں موجود تاریخی ہوٹل روزویلٹ (نیویارک) اور سکرائب (پیرس) پہلے ہی الگ کمپنی میں منتقل کیے جا چکے تھے،تاکہ ایئرلائن کو ”صاف“ کر کے نجکاری کے قابل بنایا جا سکے۔

’ڈان‘کے مطابق پہلے راؤنڈ میں آرف حبیب نے 115 ارب، لکی سیمنٹ نے 101.5 ارب، ایئر بلیو نے 26.5 ارب روپے، جبکہ دوسرے مرحلے میں لکی سیمنٹ نے بولی بڑھا کر 134 ارب کی، جس پر آرف حبیب گروپ نے 135 ارب روپے کی حتمی پیشکش دے کر نیلامی جیت لی۔

فی الحال پی آئی اے کے پاس 34 طیاروں کا بیڑا (بوئنگ 777، ایئربس، اے ٹی آر)ہے،جن میں سے صرف 18 جہاز آپریشنل ہیں۔روزانہ 70 پروازیں (45 انٹرنیشنل، 25 ڈومیسٹک)، 18 انٹرنیشنل اور 13 ڈومیسٹک روٹس ہیں، جبکہ لندن اور برمنگھم کے لیے پروازوں کی جلد بحالی متوقع ہے۔

نجکاری سے پہلے حکومت نے پی آئی اے کے پرانے قرضے، سودی ادائیگیاں اور ہیوی خسارے اپنی تحویل میں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اثاثے نجی کمپنیوں کو منتقل ہو جائیں گے،جبکہ قرضے اور نقصان عوامی خزانے سے ادا ہوں گے۔یہ ریاست کے منافع بخش حصے نجی سرمایہ داروں کو دینے اور قرضے عوام پر ڈالنے کی کلاسیکی مثال ہے۔

نجکاری کمیشن کے مطابق خریدار کنسورشیم نے ایک سال تک ملازمین کو نہ نکالنے کی یقین دہانی کر دی ہے، لیکن تین سال تک نوکریوں کو محفوظ رکھنے کی شرط ماننے سے انکارکیا ہے۔

پی آئی اے کے پاس اس وقت 9ہزار500 ملازمین موجود ہیں، جن میں 6ہزار500 مستقل اور باقی کنٹریکٹ/ڈیلی ویجز پر ہیں۔

یوں یہ واضح ہے کہ ہوائی سفر مزید مہنگا ہوگا، ملازمین بے روزگار ہوں گے، قومی خودمختاری کا ایک اور شعبہ نجی سرمائے کے زیر اثر چلا جائے گا۔پی آئی اے کے قیمتی اثاثے، عالمی روٹس، اربوں کی آمدنی، اور اسٹریٹجک اہمیت کے باوجود، نجکاری کے اس ماڈل میں اس کے قرضے عوام ادا کریں گے جبکہ ادارے کا کنٹرول سرمایہ دار کنسورشیم کے پاس چلا جائے گا۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں