روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الخميس, 30 جولائی 2026

پیپلز پارٹی کا منافقانہ احتجاج: زرداری نے گزشتہ سال 6 نہروں کی منظوری دی تھی

پیپلز پارٹی کا منافقانہ احتجاج: زرداری  نے گزشتہ سال 6 نہروں کی منظوری دی تھی

لاہور(جدوجہد رپورٹ) صدر پاکستان آصف علی زرداری کی جانب سے دریائے سندھ سے نکالی جانے والی 6متنازع اسٹریٹیجک نہروں کی اصولی منصوری دیے جانے کا انکشاف ہوا ہے، جبکہ دوسری جانب پیپلزپارٹی کی قیادت پارلیمنٹ کے اندر اور باہر ان نہروں کے خلاف منافقانہ احتجاج بھی کر رہی ہے۔

’ڈان‘ کے مطابق 8جولائی2024کو صدر زرداری کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس کے منٹس حاصل کیے گئے ہیں۔

منٹس کے مطابق 8 جولائی 2024 کو صدرآصف علی زرداری کی زیرصدارت ایوان صدر میں گرین پاکستان انشیٹیو پر اجلاس ہوا تھا۔دوران اجلاس صدر مملکت کو 6 اسٹریٹجک نہروں کی اہمیت پر بریفنگ دی گئی تھی اور ان نہروں کی بیک وقت تعمیر کی ضرورت پر بریف کیا گیا تھا۔

صدر مملکت کو بریف کیا گیا تھا کہ یہ نہریں گرین پاکستان انیشی ایٹو کے تحت اہم حصہ ہیں اور ان نہروں کی تعمیر کو ملکی فوڈ سیکیورٹی بڑھانے اور زرعی ترقی کے لیے ضروری قرار دیا گیا تھا۔

اسٹریٹجک اہمیت کی حامل 6 نہروں میں تھر کینال، رینی کینال، چولستان کینال، گریٹر تھر کینال، کچھی کینال اور چشمہ رائٹ بینک کینال شامل ہیں۔

صدر آصف علی زرداری نے تمام اسٹریٹجک نہروں کی تعمیر پر بیک وقت عمل درآمد کی اصولی منظوری دیتے ہوئے نہروں کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مسلسل فنڈنگ پر زور دیا تھا۔

یاد رہے کہ 10 مارچ 2025 کو صدر آصف علی زرداری نے کہا تھا کہ کچھ یک طرفہ پالیسیاں وفاق پر شدید دباؤ کا باعث بن رہی ہیں، بطور صدر دریائے سندھ سے مزید نہریں نکالنے کے یک طرفہ حکومتی فیصلے کی حمایت نہیں کرسکتا۔

پارلیمانی سال کے آغاز پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں صدر زرداری نے کہا تھا کہ حکومت سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اس موجودہ تجویز کو ترک کردے اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر کام کیا جائے تاکہ وفاق کی اکائیوں کے درمیان متفقہ اتفاق رائے کی بنیاد پر قابل عمل، پائیدار حل نکالا جاسکے۔

یاد رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے دریائے سندھ پر 6 کینالوں کے منصوبے کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کرنے اور 25 مارچ کو سندھ بھر کے تمام ضلعی ہیڈ کوارٹرز میں احتجاج کا اعلان کیا تھا۔

25 مارچ کو کینالز کی تعمیر کے خلاف پیپلز پارٹی کی جانب سے سندھ کے مختلف شہروں میں مظاہرے کیے گئے تھے، احتجاج کے دوران گھوٹکی، تھرپارکر، شکارپور سمیت دیگر شہروں میں وفاقی حکومت کے خلاف نعرے بازی کی گئی تھی۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں