روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الخميس, 30 جولائی 2026

کشمیر عوامی حقوق تحریک پر ریاستی جبر نامنظور!

کشمیر عوامی حقوق تحریک پر ریاستی جبر نامنظور!

لاہور (پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین) پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں جاری عوامی حقوق تحریک کی مرکزی قیادت میں شامل عمر نذیر اور دیگر پر 5 جون 2026ء کی شب راولاکوٹ کے نواح میں پاکستان اور زیر انتظام کشمیر کے ریاستی اداروں نے قاتلانہ حملہ کیا ہے۔ اس حملے میں مقامی رہنما شاہزیب حبیب جان کی بازی ہار گئے جبکہ عمر نذیر اپنے چار دیگر ساتھیوں کے ہمراہ بری طرح زخمی ہو گئے۔

یہ حملہ پاکستان زیر انتظام جموں کشمیر کے وزیراعظم فیصل راٹھور کی کھلی دھمکی کے بعد کیا گیا ہے۔ اس سے قبل سامراجی ریاستی اداروں کی ایما پر عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دیا گیا اور پاکستان بھر سے مسلح اہلکار جموں کشمیر میں لا کر احتجاجی تحریک کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

مظفرآباد سے بھمبر تک چھاپہ مار کارروائیاں جاری ہیں اور سینکڑوں سرگرم کارکنان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ یوں ایک پر امن عوامی تحریک کے مطالبات کو بار بار ریاست و حکومت نے تسلیم کیا لیکن اب عملدرآمد کی بجائے جبر کا راستہ اختیار کیا جا رہا ہے۔ اس ساری سامراجی بربریت کو سیاسی چھتری مہیا کرنے کے عوض پیپلز پارٹی (جو ”جمہوریت ہماری سیاست“ کی دعویدار ہے!) سے تعلق رکھنے والے وزیر اعظم فیصل راٹھور کو مزید چند ماہ غیر آئینی و غیر جمہوری طریقے سے اقتدار برقرار رکھنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔

ہم اس ریاستی طرز عمل کی بھرپور مذمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ جبر و تشدد کے اس سلسلے کو فی الفور روکا جائے اور ان انتقامی کاروائیوں میں ملوث تمام حکمرانوں اور ریاستی ذمہ داران کے خلاف قتل، اقدامِ قتل اور دہشت گردی کے مقدمات قائم کیے جائیں۔

ہمارا مطالبہ ہے کہ فیصل راٹھور فوراً اپنی وزارت عظمیٰ سے مستعفی ہوں۔ مہاجرین جموں کشمیر مقیم پاکستان کی 12 نشستوں کے خاتمے سمیت تحریک کے دیگر مطالبات تسلیم کیے جائیں اور ان پر جلد از جلد عملدرآمد کے شفاف اقدامات اٹھائے جائیں۔ ریاست اس بحران کو طاقت اور جبر کی بجائے سیاسی گفت و شنید اور نیک نیتی سے حل کرنے کا راستہ اختیار کرے۔ بصورت دیگر عوامی غم و غصے کے نتیجے میں حالات بگڑنے کی تمام ذمہ داری حکومت اور ریاست پر عائد ہو گی۔ تمام گرفتار شدگان کو رہا کیا جائے اور آئین ساز اسمبلی کے انتخابات کی راہ ہموار کی جائے۔ تاکہ جموں کشمیر و ملحقہ خطوں کے عوام کے حق خود ارادیت (جسے پاکستان بھی کم از کم زبانی طور پر بین الاقوامی سطح پر تسلیم کرتا ہے) کے حصول کی طرف پیش رفت ممکن ہو سکے اور عوام کے حقیقی و مستند منتخب نمائندے اس خطے کا انتظام و انصرام عوام کی امنگوں اور خواہشات کے مطابق چلا سکیں۔

اس موقع پر ہم کارپوریٹ میڈیا و سوشل میڈیا پر سرکاری کاسہ لیسوں اور گماشتوں کی جانب سے کشمیر کی عوامی حقوق تحریک کے خلاف بے بنیاد اور زہریلے پراپیگنڈے کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ مٹھی بھر تخریب کار اور اشتعال انگیز عناصر ہر عوامی تحریک میں موجود ہو سکتے ہیں۔ بلکہ تحریکوں کی بدنام کرنے کے لئے حکمرانوں کی طرف سے شامل کروائے جاتے ہیں۔ لیکن پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے دسیوں لاکھ طلبہ، محنت کشوں، خواتین اور دوسرے محکوم لوگوں کی حمایت اور شمولیت سے ابھرنے والی یہ تحریک نہ تو کوئی غیر ملکی سازش ہے‘ نہ اس کا مقصد اور منشا خطے کی دیگر قوموں کے خلاف نفرت اور تعصب کو ہوا دینا ہے۔ اس حوالے سے ہم پاکستان اور جنوب ایشیا سمیت دنیا بھر کے محنت کشوں، محکوموں، انقلابیوں اور اوورسیز کشمیریوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس تحریک کی حمایت اور ریاستی جبر و تشدد کی مخالفت کریں۔ اس سلسلے میں حالات و واقعات اور ضرورت کے مطابق دنیا بھر میں پاکستان کے سفارت خانوں کے سامنے احتجاج بھی منظم کیے جا سکتے ہیں۔

عوامی حقوق تحریک کی موجودہ قیادت کو ہم تنقید اور اصلاح سے ماورا نہیں سمجھتے۔ قیادت کی سیاسی و نظریاتی کمزوریاں اور کنفیوژن عوامی تحریکوں کے لئے ناقابل تلافی نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔ لیکن ہمارے نزدیک تحریک کے یہ داخلی تضادات اور مسائل کسی صورت ریاستی جبر کو جواز فراہم نہیں کر سکتے۔

سستی بجلی سے لے کے بنیادی جمہوری حقوق اور حق خود ارادیت تک کے مطالبات کی یہ جدوجہد صرف جموں کشمیر کے عوام کی نہیں بلکہ پاکستان بھر کے محنت کشوں اور مظلوموں کی جدوجہد ہے۔ جس کا بنیادی ہدف وہ نیولبرل سامراجی سرمایہ دارانہ نظام ہے جو جنوب ایشیا سمیت پوری دنیا میں کروڑوں اربوں انسانوں کا لہو دن رات نچوڑ رہا ہے۔ پوری دنیا کے محکوم اور مظلوم طبقات باہمی یکجہتی اور اتحاد کی بنیاد پر ہی اس جدوجہد کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔

سچے جذبوں کی قسم جیت محنت کشوں، محکوموں اور مظلوموں کی ہو گی!

 

 

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں