سٹاک ہولم (نامہ نگار، تصاویر: معظمہ بٹ) جدوجہد کے شریک مدیر فاروق سلہریا کی مدون کردہ نئی کتاب بعنوان ”میڈیا سب امپیریل ازم اینڈ دی رائز آف گلوبل ساوتھ“ کی تقریب رونمائی 20 جنوری کو سودر تورن یونیورسٹی سٹاک ہولم میں ڈیپارٹمنٹ آف میڈیا اینڈ کمیونیکیشن اسٹڈیز کے زیر اہتمام منعقد ہوئی۔
تقریب کی میزبانی کے فرائض پروفیسر یوران بولن (Goran Bolin) نے انجام دئیے۔ انہوں نے تقریب کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ فاروق سلہریا کی موجودہ کتاب در اصل ان کی پہلی کتاب”میڈیا امپیریلزم اِن انڈیا اینڈ پاکستان“ کا تسلسل ہے۔ انہوں نے کہا کہ فاروق سلہریا معروف میڈیا سکالر ہربرٹ شلر (Herbert Schiller) کی روایت کو آگے بڑھارہے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ گلوبل میڈیا پرپولیٹیکل اکانومی کے نقطہ نگاہ سے تحقیق کرنا ستر کی دہائی میں عام رواج تھا مگر پھر یہ روایت لگ بھگ غائب ہو گئی اور اب ایک مرتبہ پھر اس روایت کی بحالی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ان کا کہناتھا کہ فاروق سلہریا کی کتابیں اس ضمن میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ پروفیسر یوران سودرتورن یونیورسٹی کے ڈیپارٹمنٹ آف میڈیا اینڈ کمیونیکیشن اسٹڈیز میں پڑھاتے ہیں۔اسی ڈیپارٹمنٹ سے تعلق رکھنے والے ایسوسی ایٹ پرفیسر،پَر ستولبیری (Per Stahlberg)نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فاروق سلہریا کی تحقیقی دلچسپیوں پر روشنی ڈالی۔
اس موقع پراپنی کتاب کا تعارف کراتے ہوئے فاروق سلہریا نے کہا کہ گذشتہ لگ بھگ دو دہائیوں میں ترکی،ہندوستان، جنوبی کوریا،برازیل،جنوبی افریقہ اور میکسیکو عالمی سطح پر میڈیا کے اہم کھلاڑی بن کر سامنے آئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 2019 میں جنوبی کوریا کی فلم ”پیرا سائٹ“ نے آسکر انعام جیتا اور 2023 میں نیٹ فلکس پر چار سب سے زیادہ مقبول سیریلز جنوبی کوریا کی پروڈکشنز تھیں۔ انہوں نے پاکستان میں ترکی کے ڈراموں ”عشق ممنوع“ اور”ارتغرل“ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ترک ثقافتی اثرو نفوذ صرف ٹی وی اسکرین پر دکھائی نہیں دیتا بلکہ لاہور میں نساء سلطان جیسے ترک ریستوران، پاک ٹرک اسکول، پاکستانی یونیورسٹیوں کے ترک یونیورسٹیوں کے ساتھ ایکسچینج پروگرام بھی بڑھ رہے ہیں جبکہ لاہور میں چوک اور سڑکیں ترکی کے حوالے سے منسوب ہو رہی ہیں جو ترک سب امپیریل ازم کا ثقافتی اظہار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پرترکی میڈیا پروڈکشنز کے حوالے سے اب امریکہ کے بعد دوسرا بڑاایکسپورٹر بنتا جا رہا ہے۔
اسی طرح،فاروق سلہریا کے بقول، ہندوستان کا ”زی“، جسے 2023 میں سونی نے خرید لیا، عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنا ہوا تھا۔ ان کا کہنا تھا زی 172 ملکوں میں دیکھا جا سکتا ہے، اسکے 39 گلوبل چینل ہیں، جن میں سے 13 ایسی زبانوں میں ہیں جو ہندوستان میں نہیں بولی جاتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مشرقی ایشیا سے لے کر روسی اور جرمن زبان میں بھی زی کے چینل دیکھے جا سکتے ہیں۔فاروق سلہریا کے مطابق: ”ان تفصیلات کے پیش نظر بعض لبرل اور پوسٹ ماڈرن میڈیا سکالر یہ دعویٰ کرنے لگے کہ میڈیا مپیریل ازم ختم ہو گیا ہے بلکہ اب تو ریورس کرنٹس دیکھے جا سکتے ہیں جس سے مراد یہ تھی کہ سابقہ نو آبادیاتی ممالک کے ڈرامے اور فلمیں سابق استعماری ممالک میں دیکھے جا رہے ہیں جس کی ایک مثال یہ تھی کہ برازیل کے سوپ اُوپراپرتگال یا میکسیکو کے سیریل سپین میں دیکھے جا رہے ہیں۔ میڈیا سکالرز کے علاوہ بھی عام و خاص میں یہ تاثر ابھرا کہ جنوب کے بعض ممالک نے مغربی میڈیا کو چتاونی دے دی ہے۔کچھ سالوں پہلے ہیلری کلنٹن نے بطور وزیر خارجہ سینیٹ کی خارجہ امور کمیٹی کو الجزیرہ کے حوالے سے بتایا کہ امریکہ کو انفارمیشن وارفئیر کا سامنا ہے اور امریکہ یہ جنگ ہار رہا ہے“۔
فاروق سلہریا کا کہنا تھا کہ گلوبل ساوتھ سے تعلق رکھنے والے بعض بڑے میڈیا جائنٹس بلا شبہ عالمی سطح پر ایک اہم عنصر کے طور پر ابھرے ہیں اور گلوبل میڈیا کا منظر نامہ بدل گیا ہے جسے سمجھنے کے لئے کسی نئی تھیوری کی ضرورت تھی۔ان کا کہنا تھا کہ اسی ضرورت کے پیش نظر انہوں نے میڈیا سب امپیریل ازم کی تھیوری کو گلوبل میڈیا پر تحقیق کے لئے متعارف کرایا ہے۔
ان کا کہنا تھا:”میڈیا سب امپیریلازم کی تین خصوصیات ہیں۔ یہ میڈیا انڈسٹریز کسی حد تک سامراجی میڈیا کی مزاحمت کرتی ہیں اور کافی حد تک سامراجی میڈیا سے تعاون کرتی ہیں۔ اسی طرح، یہ کسی حد تک اپنی ٹیکنالوجی یا پروگرامنگ خود آزادانہ تیار کرتی ہیں اور کسی حد تک سامراج پر انحصار کرتی ہیں۔ تیسری خصوصیت یہ کہ میڈیا سب امیریل ازم اپنے خطے پر غلبہ رکھتی ہیں مگر اس کی اپنی مارکیٹ پر سامراج کا غلبہ ہوتا ہے“۔ انہوں نے ہندوستان کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان نے خبر کے شعبے میں،ابتدائی طور پر، غیر ملکی چینل نہیں آنے دئیے مگر جائنٹ وینچرز کی شکل میں سامراجی میڈیا سے تعاون کیا۔سیٹلائٹ،کانٹینٹ اور ڈسٹری بیوشن کے شعبے میں ہندوستان کسی پر انحصار نہیں کرتا مگر کلرٹی وی درآمد کئے جاتے ہیں۔گو بہت سے غریب ممالک کا میڈیا ہندوستان کے ہاتھ میں ہے مگر ہندوستان پر،زی خریدنے کے بعد سونی اور ڈزنی (جس نے سٹار نیٹ ورک خرید لیا ہے) کی اجارہ داری قائم ہو گئی ہے۔
انہوں نے تین سطحوں پر ہندوستان اور امریکہ کا موازنہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ”بی سی سی آئی“ ہندوستان کی سب سے بڑی میڈیا فرم ہے جس کا سالانہ ریونیو ایک ارب ڈالر جبکہ معروف امریکی فرم”نیوز کارپوریشن“ کا سالانہ ریونیو 23 ارب ڈالر ہے، بالی وڈ2 ارب ڈالر کی انڈسٹری ہے جبکہ ہالی وڈ کے پانچ بڑے اسٹوڈیوز 16 ارب ڈالر کا بزنس کرتے ہیں، اسی طرح 326 ارب ڈالر کی عالمی میڈیا مارکیٹ میں امریکہ کا حصہ 40 فیصد (133ارب ڈالر) جبکہ ہندوستان کا حصہ 7 فیصد (26 ارب ڈالر) ہے۔
فاروق سلہریا کے بقول 1999 تا 2025 کے عرصے میں ہندوستان کی میڈیا مارکیٹ میں سولہ گنا اضافہ ہوا جبکہ 1984 تا 2024 امریکہ کی میڈیا مارکیٹ میں اضافہ 8 فیصد تھا۔ ”لینن نے کہا تھا کہ سامراج کی ایک شکل یہ ہوتی ہے کہ وہ سرمایہ بر آمد کرتا ہے۔ جب سامراجی ممالک میں مارکیٹ over ripe ہو جائے اور مقامی مارکیٹ کی بجائے نو آبادیاتی ممالک میں سرمایہ کاری سے سوپر پرافٹ حاصل کیا جا سکے تو سر مایہ برآمد ہونے لگتا ہے۔ یہی عمل ہمیں گلوبل میڈیا اندسٹری میں دیکھنے کو ملا۔ جب امریکہ سرمائے کو امریکی مارکیٹ کی بجائے ہندوستانی مارکیٹ میں زیادہ منافع نظر آیا تو وہ ہندوستان چلا آیا۔ یوں سب امپیریل مارکیٹ عالمی سامراجی سرمائے میں اضافی کا ایک ذریعہ ہے۔“
انہوں نے کتاب میں شامل پروفیسر لی آرٹز کے باب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہیگمونی (hegemony) کے نقطہ نگاہ سے دیکھا جائے تو ہم دیکھیں گے کہ ترکی سے لے کر چین اور کوریا تک، سب ہالی وڈ کی پروڈکشن پریکٹسز، اداکاری کی تکنیک، جمالیات، خوبصورتی کے معیار، صنفی تعلقات، آئڈیالوجی، اور طبقاتی سوچ کو ہی ری پروڈیوس کرتے ہیں۔ ”اسی طرح،اس کتاب میں ہم نے ثابت کیا ہے کہ ہندوستان اورکوریا جیسے ممالک میں اظہار رائے کی آزادی کم ہوئی ہے جبکہ ترکی میں اگر میڈیا رجب طیب اردگان کی باندی ہے تو ہندوستان میں امبانی خاندان نے ہندوستانی میڈیا خرید کر نریندر مودی کی گود میں بٹھا دیا ہے۔یوں جمہوری نقطہ نگاہ سے بھی یہ نام نہاد گلوبل ساوتھ کے عالمی جائنٹس ہر جگہ مطلق العنانی کو فروغ دے رہے ہیں“۔
اپنی گفتگو کا اختتام کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا سب امپیریل ازم میڈیا امپیرل ازم کو ختم کرنے کی بجائے عالمی سطح پر نا ہمواری اور عدم مساوات میں اضافے کا سبب بنتے ہیں جبکہ محنت کشوں اور مظلوموں کے نقطہ نگاہ سے یہ نہ تو سامراجی میڈیا کا متبادل ہیں نہ ہی counter-hegemonic ہیں،الٹا یہ جمہوریت کی بجائے اتھاریٹیرین ازم کو فروغ دے رہے ہیں۔
فاروق سلہریا اعزازی طور پر سودر تورن یونیورسٹی سے بطور محقق منسلک ہیں۔ تقریب کے اختتام پر عشائیے کا اہتمام کیا گیا۔ اس ہائبرڈتقریب میں سودر تورن یونیورسٹی کے فیکلٹی ممبرز، پی ایچ ڈی سکالرز اور طلبہ کے علاوہ سویڈش پاکستانی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے ٹریڈ یونین ایکٹوسٹ اجمل بٹ اور معظمہ بٹ، نوجوان دانشور علی عصام، بیلا صبا سلہریا،راحمہ اسمعیل اور دیگر افراد نے بھی شرکت کی۔
فاروق سلہریا کی یہ کتاب اکیڈیمک کتابوں کے معروف عالمی ادارے پیلگریو میکملن(Palgrave Macmillan) کے زیرِ اہتمام، سنگاپور سے شائع ہو ئی ہے۔
”میڈیا سب امپیریل ازم اینڈ دی رائز ٓف گلوبل ساتھ“ میں افریقہ،یورپ، جنوبی و شمالی امریکہ اور ایشیا سمیت دنیا بھر کے میڈیا سکالرز نے ابواب تحریر کئے ہیں جن میں پروفیسر ٹوبی ملر،پروفیسر اولیور بائڈ بیرٹ اور پروفیسر لی آرٹز ایسے معروف عالمی میڈیا سکالرزبھی شامل ہیں۔
کتاب بارے مزید تفصیلات اس کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔
تقریب کی تصویری جھلکیاں







