لاہور(جدوجہد رپورٹ) گلگت بلتستان کی سوست ڈرائی پورٹ کے تاجروں نے تقریباً 54 دن سے جاری دھرنے کے بعد ایک معاہدے پر پہنچنے کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت پاکستان کی وفاقی حکومت نے متعدد ٹیکس چھوٹوں پر اتفاق کیا ہے۔ اس معاہدے پر گلگت بلتستان وپاکستان کی وفاقی حکومت اور تاجروں کی اعلیٰ کونسل نے مشترکہ طور پر دستخط کیے ہیں۔
تاجروں کا احتجاج جولائی 2025 کے اواخر میں اس وقت شروع ہوا، جب انہوں نے سوست ڈرائی پورٹ پر درآمدی سامان پر آمدنی ٹیکس، سیلز ٹیکس اور وفاقی ایکسائز ڈیوٹی کے نفاذ کی مخالفت کی۔
بدھ کے روز احتجاج کو تقریباً 54 دن ہو چکے تھے، جس میں دھرنا، سڑکیں بلاک کرنا شامل رہا۔احتجاج کے دوران کاروبار بند ہونے، شاہراہ قراقرم کی بندش اور چین سے آنے والے سامان کی روک ٹوک نے تجارت کو متاثر کیے رکھا۔ اس دھرنے کے باعث چین و پاکستان کے درمیان سامان کی منتقلی متاثر ہوئی، اور کئی کنسائنمنٹس پورٹ پر پھنس گئیں۔
حکومتوں اور تاجر نمائندوں کے مابین ہونے والے معاہدے کے مطابق پاکستان کی وفاقی حکومت نے اعلان کیا کہ سوست پر مقامی درآمدات پر سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی نہیں لی جائے گی، بشرطیکہ وہ مقامی کھپت کے لیے ہوں اور مقامی تاجروں کے نام پر رجسٹر ہوں۔دوسرے لفظوں میں گلگت بلتستان کے لوگ جو درآمدات کریں گے ان پر یہ ٹیکس نہیں لگیں گے۔
مجموعی ٹیکس معافی سالانہ 4ارب سے زائد نہیں ہوگی۔ کسٹم کلیئرنس کا عمل شفاف اور ذمہ دارانہ ہوگا، معاف ٹیکس کی سہولت صرف اس سامان پر ہوگی جو مقامی استعمال کے لیے ہو، اور غلط استعمال کی صورت میں رعایت منسوخ ہوگی۔سرحدی علاقوں خاص طور پر سب ڈویژن گوجال کی بنیادی ضروریات اور ترقی کے لیے مالی فنڈز مختص کرنے کا وعدہ بھی کیا گیا ہے۔
پاکستان کی وفاقی حکومت اور گلگت بلتستان حکومت مل کر ایسی مشینری وضع کریں گے، تاکہ معاہدے کی شقیں عملی طور پر نافذ ہو سکیں۔
معاہدے کے بعد پورٹ پر رکا ہوا سامان آہستہ آہستہ کلیئر کیا جائے گا اور بین الصوبائی تجارت بھی بحال کی جائے گی۔ حکومت پاکستان کے عہدیداروں نے اعلان کیا کہ اب کسٹم ڈیوٹی اور ضابطہ جاتی ڈیوٹیاں لاگو رہیں گی، مگر وہ سامان جو جی بی کے اندر استعمال ہوگا، اسے ٹیکس معاف کیا جائے گا۔
تاجر رہنماؤں نے اس مفاہمت کو ایک بڑی کامیابی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اگر معاہدے کی شقیں عمل میں نہ آئیں تو دوبارہ احتجاج کا امکان موجود ہے۔