جدوجہد رپورٹ
جدوجہد کے شریک مدیر فاروق سلہریا کی مدون کردہ نئی کتاب بعنوان ”میڈیا سب امپیریل ازم اینڈ دی رائز آف گلوبل ساتھ“ کی تقریب رونمائی کل(20 جنوری،بروز منگل) سودر تورن یونیورسٹی سٹاک ہولم میں ہو گی۔
یہ تقریب سویڈش وقت تین بجے شروع ہو کر،پانچ بجے اختتام پزیر ہو گی۔ اس ہائبرڈ تقریب کی تفصیلات سودرتورن یونیورسٹی کی ویب سائٹ پر موجود ہیں۔
یہ ہائبرڈ تقریب ہو گی۔بذریعہ زوم لنک، آن لائن شرکت بھی ممکن ہے۔
تفصیلات:
Tuesday, 20 January, 15:00 – 16:00 CET
Zoom: https://sh-se.zoom.us/j/61663353302?pwd=IzO8YhRsxhooGBBznoI7KW1iafvaW7.1
Passcode: 918273
فاروق سلہریا اعزازی طور پر سودر تورن یونیورسٹی سے بطور محقق منسلک ہیں۔
ان کی حالیہ کتاب اکیڈیمک کتابوں کے معروف عالمی ادارے پیلگریو میکملن(Palgrave Macmillan) کے زیر اہتمام، سنگاپور سے شائع ہو ئی ہے۔
اس کتاب میں گلوبل میڈیا پر تحقیق کے لئے فاروق سلہریا نے میڈیا سب امپیریل ازم کی تھیوری متعارف کرائی ہے۔ اس تھیوری کا مقصد گلوبل ساوتھ کی ایسی میڈیا انڈسٹیرز کا مارکسی تجزیہ کرنا ہے جن کا تعلق برازیل، بھارت،ترکی،جنوبی کوریا،میکسیکو،جنوبی افریقہ یا اسرائیل جیسے نیم سامراجی ممالک سے ہے۔
گذشتہ تین دہائیوں سے گلوبل ساوتھ کے مندرجہ بالابعض ممالک میں میڈیا اندسٹری نے زبردست ترقی کی ہے۔ان میڈیا انڈسٹریز کے ابھار کی بنیاد پر بعض لبرل اور پوسٹ ماڈرن اسٹ میڈیا سکالر یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ دنیا سے میڈیا امپیریل ازم کا خاتمہ ہو گیا ہے۔
فاروق سلہریا نے اپنے پی ایچ ڈی مقالے،جو بعد ازاں رٹلیج کے زہر اہتمام ”میڈیا امپیریل ازم ان انڈیا اینڈ پاکستان“ کے عنوان سے شائع ہوا، میں اس دعویٰ کی نفی کی کہ میڈیا امپیریل ازم ختم ہو گیا ہے۔ ان کی تحقیق الٹا یہ ثابت کرتی ہے کہ میڈیا امپیریل ازم مزید بڑھ گیا ہے۔
ان کی موجودہ کتاب میں دی گئی،میڈیا سب امپیریل ازم کی تھیوری،ان کی میڈیا سامراج بارے تھیوری کو آگے بڑھاتے ہوئے یہ ثابت کرتی ہے کہ گلوبل ساوتھ میں ابھرنے والی ترکی،برازیل،میکسیکو،یا جنوبی کوریا جیسی میڈیا انڈسٹریز میڈیا امپیریل ازم کو چیلنج کرنے کی بجائے،اس میں اضافے کا باعث ہیں۔
”میڈیا سب امپیریل ازم اینڈ دی رائز ٓف گلوبل ساتھ“ میں افریقہ،یورپ، جنوبی و شمالی امریکہ اور ایشیا سمیت دنیا بھر کے میڈیا سکالرز نے ابواب تحریر کئے ہیں جن میں پروفیسر ٹوبی ملر،پروفیسر اولیور بائڈ بیرٹ اور پروفیسر لی آرٹز ایسے معروف عالمی میڈیا سکالرزبھی شامل ہیں۔
کتاب بارے مزید تفصیلات اس کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔