سئیا موریتا
ذیل میں روس کے مارکس وادی انقلابی لیون ٹراٹسکی کی کتاب ’’روز مرہ کے مسائل‘‘ کے جاپانی ایڈیشن کے لئے لکھے گئے دیباچے کا ترجمہ پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ دیباچہ ٹراٹسکی نے1925 میں لکھنا شروع کیا مگرٹراٹسکی اسے مکمل نہیں کر سکا۔1925 میں اس کتاب کے دو جاپانی ایڈیشن شائع ہوئے۔ایک ترجمہ انگریزی سے کیا گیا۔دوسرا براہِ راست روسی زبان سے کیا گیا۔
قیاس کیا جا سکتا ہے کہ ان دو مترجمین میں سے کسی نے 1925 کے پہلے نصف میں ٹراٹسکی کو سویت یونین میں خط لکھا ہو گا اور جاپانی ایڈیشن کے لئے دیباچہ لکھنے کی درخواست کی ہو گی۔ٹراٹسکی نے فوراََ حامی بھر لی، دیباچہ لکھنا شروع کیا مگر کسی وجہ سے مکمل نہ کر سکا۔یہ تحریر ادھوری رہی۔ بعد ازاں یہ ہارورڈ یونیورسٹی کی ٹراٹسکی لائبریری میں محفوظ ہو گیا۔میرے علم کے مطابق ،ٹراٹسکی نے کسی بھی جاپانی ایڈیشن کے لئے اگر کبھی دیباچہ لکھا تو یہی ایک مثال ملتی ہے۔1927 میں ،سوئے اتفاق ، ’’روزمرہ کے مسائل‘‘ کا تیسری بار ترجمہ شائع ہوا۔گویا دوسری جنگ عظیم سے پہلے،جاپان میں اس کتاب کے تین ترجمے شائع ہوئے۔
عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ قبل از جنگ کا جاپان ایک مطلق العنان ریاست تھی جہاں عنانِ اقتدار میکاڈو پیشوائیت اور فوج کے ہاتھ میں تھی۔ یہ تاثر غلط نہیں مگر اس آمرانہ ماحول میں بھی نومولود مارکس وادیوں اور بورژوا دانشوروں نے کارل مارکس، فریڈرک اینگلز، ولادیمیر لینن، کارل کاتسکی،روزا لکسمبرگ، جوزف سٹالن، نکولائی بخارن اور دیگر مارکس وادیوں کو ترجمہ کیا اور اسے شائع کیا۔
سویت روس سے باہر جس ملک میں سب سے زیادہ مارکس وادی ادب شائع ہوا، وہ جاپان تھا۔ مارکس اور اینگلز کی جنم بھومی جرمنی میں بھی اتنا مارکس وادی ادب شائع نہیں ہوا۔ 1917 سے قبل چند ہی مارکس وادی کتابیں جاپانی زبان میں شائع ہوئی تھیں۔ اگلے دس سال میں، 1927 تک،230 مارکس وادی کتابوں اور کتابچوں کے جاپانی تراجم شائع ہو چکے تھے۔ 1941 تک 2,300 تراجم شائع ہو چکے تھے (ان میں جریدوں میں شائع ہونے والے مضامین کے تراجم کو شمار نہیں کیا گیا)۔1941 کے بعد یہ کام ممکن نہ رہا۔
جب مارکس وادی ادب کے تراجم دھڑا دھڑ شائع ہو رہے تھے، ٹراٹسکی کی تحریروں کا بھی ترجمہ کر کے انہیں شائع کیا گیا۔ ٹراٹسکی کی دو سو تحریریں ترجمہ ہوئیں (بشمول 30 کتابوں کے، جبکہ 170 مضامین ترجمہ ہوئے)۔1941 تک ٹراٹسکی کی ترجمہ ہونے والی کتابوں میں ’’انقلاب سے غداری‘‘ بھی شامل تھی۔اس کے تین تراجم شائع ہوئے۔تینوں 1937 میں شائع ہوئے۔ ترجمہ ہونے والی کتابوں میں ’’روزمرہ کے مسائل ‘‘ بھی شامل تھی جو 1925 میں شائع ہوئی۔ اِ سی سال ٹراٹسکی کی کتاب ’’ادب اور انقلاب ‘‘ بھی شائع ہوئی۔ادب اور ثقافت پر ٹراٹسکی کے خیالات کو مار کس وادی اور لبرل دانشوروں نے بخوشی قبول کیا ۔ ان پر ٹراٹسکی کے نظریات کی چھاپ واضح تھی۔دوسری عالمی جنگ سے پہلے جاپان میں نہ تو کوئی ٹراٹسکی اسٹ تھا نہ ہی کوئی ٹراٹسکی اسٹ جماعت (دیگر ایشیائی ممالک کے برعکس یہ بالکل ایک منفرد بات تھی)۔بہر حال، قبل از جنگ ٹراٹسکی کی کتابیں، کتابچے اور مضامین جاپان میں ترجمہ ہو کرمنظم انداز میں شائع ہوتے رہے۔ یہ بات نہ صرف اس عرصے کے لئے کی جا سکتی ہے جب ٹراٹسکی سویت یونین کا رہنما تھا بلکہ اس دور کے لئے بھی درست ہے جب اسے غدار قرار دے کر ملک بدر کر دیا گیا۔
دسمبر 1941 کے بعد، جب امریکہ جاپان جنگ شروع ہو گئی تو مارکس وادی ادب شائع کرنا ممکن نہ رہا۔ 1945 میں جنگ کے خاتمے کے بہت سالوں بعد تک، جاپان کے بائیں بازو پر سٹالن واد کا غلبہ رہا اور یوں قبل از جنگ والے جاپان میں ٹراٹسکی کے اثر و نفوذ کو بھی بھلا دیا گیا اور ٹراٹسکی وادیوں نے بھی کبھی اس پر تحقیق کی کوشش نہیں کی۔ذیل میں شائع کئے جا رہے ادھورے دیباچے کو ٹراٹسکی کی جاپان کے ماضی سے وابستہ مبہم یاد کوتازہ کرنے کی ایک کوشش ہے۔
آخر میں ، اس نا مکمل دیباچے بابت چند الفاظ ۔ اس مختصر سی تحریر میں ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ٹراٹسکی ’’ایک نئے انسان کی بیداری‘‘ پر زور دے رہا ہے۔ سرمایہ داری انسانوں میں شخصیت کی بیداری کا ایک عمومی رجحان تو پیدا کرتی ہے مگر اس بیداری کو حقیقت کا روپ دینے کے لئے منطقی معاشرہ تشکیل نہیں دے پاتی۔ٹراٹسکی نے یہیں تک لکھ کر چھوڑ دیا مگر ٹراٹسکی جو کہنا چاہتا تھا وہ یہ تھا کہ سرمایہ داری جو کام نہیں کر پاتی، سوشلزم وہ سر انجام دے سکتا ہے۔
ٹراٹسکی شائد کہنا چاہتا تھا کہ جاپانیوں کو سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان میں ’’شخصیت بیدار‘‘ ہو۔اس مقصد کے حصول کے لئے جاپان کو انقلابِ مسلسل کے راستے پر چلنا ہو گا۔ حقیقت یہ ہے کہ شخصیت کی بیداری ٹراٹسکی کے نظریات میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے جو اس کی تحریروں مین ہمیشہ موجود رہا۔ اس نے شخصیت کی بیداری پر اپنے دورِ جوانی میں بھی زور دیا جب وہ ادب اور انقلاب بارے لکھ رہا تھا۔ اُس نے اِس بابت اپنی زندگی کے آخری سالوں میں بھی زور دیا جب وہ سٹالن ازم اور فاشزم کے خلاف بر سرِ پیکار تھا۔ اکثر لوگ ، بشمو ل بہت سے ٹراٹسکی اسٹ اس بات کو نہیں سمجھ سکے (گرامشی نے کسی حد تک سمجھا)۔گو جو دیباچہ میں نے ترجمہ کیا ہے، وہ بہت مختصر ہے بلکہ اس کے اختصار کے باعث ہی یہ نقطہ نظر واضح ہو کر سامنے آتا ہے۔
’روز مرہ کے مسائل‘: جاپانی ایڈیشن کا دیباچہ (نا مکمل) از ٹراٹسکی
یہ خبر سن کر مجھے بے حد خوشی ہوئی کہ میری کتاب ’روز مرہ کے مسائل ‘کا جاپانی ترجمہ شائع کیا جا رہا ہے۔یہ بات واضح ہے کہ اس کتاب میں شامل ہر بات اہل جاپان کے لئے موزوں نہیں ہے۔ روس اور جاپان کے سماجی حالات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ میں نے روز مرہ کی زندگی کے مسائل پر جو لکھا، اپنے انقلابی معاشرے کے حقائق اور ضروریات کے براہ راست دباو کے تحت لکھا۔ نہ صرف بڑے بڑے مسائل پر قلم اٹھایا بلکہ روز مرہ زندگی کے عمومی مسائل پر بھی بات کی۔ میرے کتابچے میں بہت سی باتیں ہوں گی جو شائد ایک جاپانی قاری کے لئے باعثِ دلچسپی نہ ہوں ،اور بعض باتیں ہوں گی جو اُن کے لئے مبہم ہوں گی۔ لیکن مجھے امید ہے کہ روز مرہ کے مسائل کی جانب، اس کتابچے میں جو عمومی اپروچ ہے ، وہ جاپان ے حالات میں بھی قابلِ عمل ہو سکتی ہے۔
پرانے جاگیردارانہ سماج میں روز مرہ کے مسائل بطور سوال موجود نہ تھے۔جاگیرداری کے سماجی و مقامی حالات نے صدیوں میں تشکیل پائی۔جاپان میں تاریخ کے اسی دور میں جاگیردارانہ و عسکری جاپانی سلطنت سامنے آئی، [جاگیرداروں کی فوقیت پر مبنی]شوگانتے نظام قائم ہوا۔ یہ دور، ہزار سال پر محیط تھا۔بلا شبہ ،اِس دور میں بھی تبدیلیاں تورونما ہوئیں۔جاپانی معاشرہ کا ڈھانچہ بھی بدلا۔ فرد اور خاندان کے تعلق میں بھی تبدیلی آئی۔یہ تبدیلی مگر اتنی سست رو ہوتی کہ ایک نسل اِس کا اندازہ ہی نہ لگا پاتی۔بغیر رد و بدل کے،زندگی اسی شکل میں اگلی نسل کو منتقل ہو جاتی جیسے شہد کی مکھیوں کی ایک نسل اپنی اگلی نسل کوچھتہ بنانے کا ہنر منتقل کر دیتی ہے۔
اندریں حالات ، فرد بطور شخصیت ابھی وجود میں نہیں آیا۔ وہ ہنوز روایات،رسوم و رواج اور ذات پات کا قیدی ہے۔اس طرح کا سماجی ماحول انتہائی قدامت پرست ہوتا ہے لہذا تمام بیرونی اثرات سے بیر رکھتا ہے۔ سخت گیر، ٹھوس اور قدامت پرست جاپان نے امریکی ویورپی خیالات و رجحانات کو، انیسویں صدی کے دوسرے نصف تک خوش آمدید نہیں کہا۔
1868 بڑی تبدیلیوں کا سال مانا جاتا ہے۔یہ سیاسی بحران امریکہ اور یورپ میں بیک وقت آتا ہے اور زندگی ایک نیا موڑ لیتی ہے۔ریاستہائے متحدہ امریکہ میں غلامی کے خاتمے کے لئے شمال اور جنوب میں جنگ (1861-65) ہوتی ہے۔1861 میں روس دیہی غلامی (سرف ڈم ) کا خاتمہ کر دیتا ہے۔اٹلی اپنی قومی ریاست کی تشکیل کے لئے تلوار اٹھاتا ہے۔ جاپان میں ’’عظیم تبدیلی‘‘ کا آغاز ہوتا ہے اور جاپان بورژوا خیالات و تعلقات کی نئی دنیا سے آشنا ہوتا ہے۔ جاپان کی سماجی زندگی پرانے جاگیردارانہ نظام اور نئے سرمایہ دارانہ نظام کے مابین سمجھوتے والا راستہ اپناتی ہے۔سمجھوتے والا یہ راستہ جاپان کے نظامِ ریاست، معاشی و نجی زندگی میں دکھائی دیتا ہے۔
سرمایہ دارانہ نظام کے طبقاتی رشتے پرانے جاگیردارانہ سماج کے طبقاتی رشتوں کو بدل دیتے ہیں۔ یہ تبدیلی انسانی شخصیت کو بیدار کرنے لگتی ہے۔یہ بیداری مختلف طبقوں میں مختلف شکلیں اختیار کرتی ہے۔بورژوا سماج کے مختلف طبقوں میں بہر حال یہ بات مشترکہ ہوتی ہے کہ ہر طبقے کا فرد روایات کا بوجھ اتار پھینکنا چاہتا ہے اور اپنے لئے نت نئے نصب العین اور مقاصد کا تعین کرتا ہے۔سرمایہ دار معاشرے کی بنیاد پر مقامی حالات پر تنقید جنم لیتی ہے اور معاشرے کوفہم و فراست کے ساتھ از سر نو تشکیل دینے کی خواہش جنم لیتی ہے۔ گو سرمایہ داری اس خواہش کو تو جنم دیتی ہے لیکن اس خواہش کی تکمیل کے لئے درکار مواقع سے لوگوں کو محروم کر دیتی ہے (نا مکمل)۔
(بشکریہ: لنکس۔Links سڈنی سے شائع ہونے والا سوشلسٹ جریدہ ہے۔ترجمہ : فاروق سلہریا)