فاروق سلہریا
عالمی جنوب(گلوبل ساوتھ)کے بعض ممالک جیسے بھارت ، برازیل، ترکی اور جنوبی کوریا گلوبل میڈیا کے میدان میں بڑی طاقتوں کے طور پر ابھرے ہیں۔ ان کے عروج نے سے میڈیاسکالرز، سیاست دانوں اور عام لوگوں سب کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔ قطر (الجزیرہ) اور جنوبی افریقہ بھی بین الاقوامی میڈیا کے منظرنامے پر اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
اگرایک طرف اگر مغربی یونیورسٹیوں میں مقیم لبرل اور پوسٹ مارڈرن اکیڈمکس نے ان میڈیا جائنٹس کے ابھار کو میڈیا امپریل ازم کے خاتمے کا نام دیا، وہیں عالمی شمال کے سیاست دانوں نے اس رجحان کو خوف پھیلانے کا ذریعہ بنایا ہے۔ مثال کے طور پر 2011 میں اس وقت کی امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے سینیٹ کی فارن ریلیشنز کمیٹی کو الجزیرہ کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے کہا تھاکہ ’’امریکہ ایک انفارمیشن وار فیئر کا سامنا کر رہا ہے۔۔۔اور ہم یہ جنگ ہار رہے ہیں۔‘‘
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ کچھ سب امپیریل ریاستوں نے بہت بڑے میڈیا ادارے کھڑے کیے ہیں۔ زی (بھارت)، گلوبو (برازیل)، ٹیلیویسا (میکسیکو) اور شو میکس (جنوبی افریقہ) فوراً ذہن میں آتے ہیں۔ ترک ٹی وی سیریلز نے مسلم دنیا کو مسحور کر رکھا ہے، جبکہ عالمی سطح پر ناظرین کے دل کورین پاپ اور’ کے ویو‘(K-wave) فلموں نے جیت لیے ہیں۔ بونگ جون ہو کی آسکر یافتہ فلم پیراسائٹ(2019) سے لے کر نیٹ فلکس کی سکوئڈ گیم(2019) تک، جنوبی کوریا کی میڈیائی تخلیقات دنیا بھر کے ناظرین کو اپنی گرفت میں لے رہی ہیں۔
2023 میں نیٹ فلکس کی 10 سب سے زیادہ دیکھی جانے والی غیر انگریزی سیریز میں سے 4 جنوبی کوریا کی تھیں۔ اسی دوران، شو میکس افریقی میڈیا مارکیٹوں اور ناظرین کو اپنی گرفت میں لے رہا ہے۔سب امپیریل میڈیا کارپوریشنوں کے معاشی، سیاسی اور نظریاتی کردار کا جائزہ لینے سے پہلے یہ ضروری ہے کہ ہم برکس میڈیا اور میڈیا سب امپیریل ازم میں فرق کریں۔
برکس ایسے ممالک پر مشتمل ہے جن میں سامراجی طاقتیں (جیسا کہ چین اور روس)، ذیلی سامراجی یاسب امپیریل طاقتیں ( جیسا کہ برازیل، جنوبی افریقہ اور بھارت)، اور مضبوط مضافاتی ممالک (مصر اور ایران) شامل ہیں۔ یعنی برکس کوئی یکساں اور ایک ہی جیسی حیثیت رکھنے والے ملکوں پر مشتمل نہیں ہے۔ اس کے برعکس، سب امپیریل ازم،اور اسی سے وابستہ’’ میڈیا سب امپیریل ازم‘‘ کا تصور ایک واضح اصطلاح ہے جو عالمی درجہ بندی میں کچھ مخصوص ریاستوں کی پوزیشن کی نشاندہی کرتی ہے۔
۱۔سب امپیریل میڈیا کی تین خصوصیات ہیں:وہ سامراجی میڈیا کی مزاحمت بھی کرتے ہیں اور اس کے ساتھ تعاون بھی۔
۲۔سامراجی میڈیا ان پر جزوی طور پر غالب ہیں، لیکن یہ خود بھی اپنے خطوں میں غالب(dominate) نظر آتے ہیں۔
۳۔یہ تکنیکی اور مواد کے اعتبار سے جزوی طور پر آزاد ہوتے ہیں، مگر مجموعی طور پر سامراجی میڈیا پر انحصار بھی رکھتے ہیں۔
معاشی طور پر سب امپیریل میڈیا اپنی مقامی (اور اپنے اردگرد کے کمزور خطوں کی) مارکیٹوں کو اس انداز میں قابو کرتے ہیں کہ اس کا فائدہ بالآخر سامراجی میڈیا کو پہنچتا ہے۔ وہ سرمائے کے عالمی بہاؤ میں میٹروپولیٹن مراکز کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کرتے ہیں۔ بھارت کی مثال لے لیجیے۔
’زی (Zee)‘ بھارت کا پہلا نجی ٹی وی چینل تھا، جسے بھارتی میڈیا کے میدان میں مایہ ناز شخصیت بنا کر پیش کی جانے والی شخصیت،سبھاش چندرا، نے قائم کیا ۔ زی بھارت میں، 1990 کی دہائی میں، نیو لبرازم اور گلوبلائزیشن کی علامت بنا کر پیش کیا جاتا تھا۔ ’زی‘ نے نیو لبرل گلوبلائزیشن کے ایک ماڈل کے طور پر عالمی میڈیا کے ایک اہم گرو روپرٹ مرڈوک (Rupert Murdoch)کے بھارت میں داخلے کی راہ ہموار کی۔ یہ سلسلہ جائنٹ وینچرز کے ذریعے ہوا۔ کچھ عرصے بعد دونوں کے راستے الگ ہو گئے، مگر 2010 کی دہائی تک زی اور اسٹار (مرڈوک کی نیوز کارپوریشن کا بھارتی بازو) بھارت کے ابھرتے ہوئے ٹی وی بازار پر قبضہ کرنے والے پانچ بڑے میڈیا اجارہ داروں میں شامل تھے۔ باقی تین،ڈزنی، ویاکوم اور سونی بھی ہالی ووڈ کی بڑی کمپنیاں تھیں۔
سامراجی میڈیا کارپوریشنیں عام طور پر مقامی میڈیا ہاوسزکے ساتھ مشترکہ منصوبوں کے ذریعے بھارت آتی تھیں، جہاں بھارتی ادارے جونیئر پارٹنر ہوا کرتے تھے۔ دونوں کو فائدہ پہنچتا تھا: بھارتی کمپنیوں کو قلیل مدتی، جبکہ عالمی کارپوریشنوں کو طویل مدتی۔ ’زی‘ کی مثال لے لیجیے۔ یہ 172 ممالک میں دستیاب تھا، اور 39 عالمی چینل پیش کرتا تھا (جن میں سے 13 غیر بھارتی زبانوں میں تھے)۔ اس نے خلیجی اور افریقی خطے میں خاصی جگہ بنا لی تھی۔
2021 میں ’زی‘ کو سونی نے خرید لیا (2023 میں قانونی طور پر یہ ڈیل مکمل ہوئی)۔ ادھر اسٹار کو ڈزنی نے خرید لیا۔ یوں آج بھارتی ٹیلی ویژن (اور کسی حد تک فلم صنعت) دراصل ہالی ووڈ کی ہی توسیع ہے،اگرچہ ہندوستان میں ہالی وڈ ہندی اور دوسری مقامی زبانیں بولتا ہے۔ یعنی چہرہ بھارتی ہے، لیکن سیاسی معیشت امریکی ہے۔
سیاسی طور پرسب امپیریل میڈیا مارکیٹوں میں قائم نئی میڈیا کارپوریشنیں اپنے اپنے ملکوں میں آمرانہ حکومتوں کی حمایت کرتی رہی ہیں۔ رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز (آر ایس ایف) لگ بھگ پچیس سال سے عالمی فریڈم انڈیکس کی درجہ بندی جاری کر رہا ہے۔ ذیل میں چند منتخب مثالیں دیکھی جا سکتی ہیں کہ سب امپیریل ممالک میں میڈیا آزادیوں کی کیا حالت بنی ہے:
