روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

اٹھو مرنے کا حق استعمال کرو

اٹھو مرنے کا حق استعمال کرو

حبیب جالب

جینے کا حق سامراج نے چھین لیا
اٹھو مرنے کا حق استعمال کرو
ذلت کے جینے سے مرنا بہتر ہے
مٹ جاؤ یا قصر ستم پامال کرو
سامراج کے دوست ہمارے دشمن ہیں
انہی سے آنسو آہیں آنگن آنگن ہیں
انہی سے قتل عام ہوا آشاؤں کا
انہی سے ویراں امیدوں کا گلشن ہے
بھوک ننگ سب دین انہی کی ہے لوگو
بھول کے بھی مت ان سے عرض حال کرو
جینے کا حق سامراج نے چھین لیا
اٹھو مرنے کا حق استعمال کرو
صبح و شام فلسطیں میں خوں بہتا ہے
سایۂ مرگ میں کب سے انساں رہتا ہے
بند کرو یہ باوردی غنڈہ گردی
بات یہ اب تو ایک زمانہ کہتا ہے
ظلم کے ہوتے امن کہاں ممکن یارو
اسے مٹا کر جگ میں امن بحال کرو
جینے کا حق سامراج نے چھین لیا
اٹھو مرنے کا حق استعمال کرو

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں