روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

بحیرۂ روم: 10 دن میں 180 سے زائد افراد لاپتہ یا ہلاک، 2026ء میں اموات ایک ہزار کے قریب

بحیرۂ روم: 10 دن میں 180 سے زائد افراد لاپتہ یا ہلاک، 2026ء میں اموات ایک ہزار کے قریب

لاہور(جدوجہد رپورٹ)اقوامِ متحدہ کے مطابق گزشتہ 10دن میں بحیرہ روم میں پیش آنے والے متعدد بحری حادثات میں 180 سے زائد مہاجرین کے ہلاک یا لاپتہ ہونے کا خدشہ ہے، جس کے بعد 2026 کے آغاز سے اب تک ہلاکتوں کی مجموعی تعداد تقریباً ایک ہزار تک پہنچ گئی ہے۔ اقوام متحدہ کی ادارہ برائے ہجرت (آئی ایم او)کے مطابق صرف وسطی بحیرہ روم کے روٹ پر اب تک 765 اموات ریکارڈ کی گئیں، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 460 زیادہ ہیں۔

’الجزیرہ‘ کے مطابق آئی ایم اونے اپنے بیان میں کہا کہ سال کے آغاز کے صرف تین ماہ بعد یہ 2014 کے بعدسب سے مہلک ترین برس کی شروعات ثابت ہو رہا ہے، جب سے ادارہ یہ ڈیٹا جمع کر رہا ہے۔ 28 مارچ کے بعد سے کم از کم پانچ مختلف حادثات میں 181 افراد ہلاک یا لاپتہ ہوئے ہیں۔

تازہ ترین سانحہ اتوار کے روز پیش آیا، جب لیبیا کے علاقے تاجورہ سے تقریباً 120 افراد کو لے کر روانہ ہونے والی کشتی خراب موسم کے باعث الٹ گئی۔ 80 سے زائد افراد اب تک لاپتہ ہیں۔ 32 زندہ بچ جانے والوں کو ایک تجارتی جہاز اور ٹگ بوٹ نے ریسکیو کیا، جنہیں بعد ازاں اطالوی کوسٹ گارڈ لیمپیڈوسا لے گئی، جبکہ دو لاشیں برآمد کی گئیں۔

لیبیا گزشتہ کئی برسوں سے جنگ، غربت اور عدم استحکام کے شکار افریقی اور مشرق وسطیٰ کے مہاجرین کے لیے مرکزی گزرگاہ بنا ہوا ہے۔ 2011 میں معمرقذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد ملک شدید انتشار کا شکار ہے، جس سے انسانی اسمگلنگ میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

یکم اپریل کو پیش آنے والے ایک اور حادثے میں کم از کم 19 افراد مردہ حالت میں ایک کشتی سے ملے۔ 58 افراد کو زندہ بچایا گیا، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے اور کئی کی حالت تشویشناک بتائی گئی۔ بچ جانے والوں کے مطابق کشتی لیبیا کے شہر زوارہ سے 28 اور 29 مارچ کی درمیانی شب روانہ ہوئی تھی۔

آئی ایم او کی سربراہ ایمی پوپ نے کہا کہ یہ سانحات ثابت کرتے ہیں کہ’’اب بھی بہت زیادہ لوگ انتہائی خطرناک راستوں پر اپنی جانیں داؤ پر لگا رہے ہیں۔‘‘

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں