روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

تم ہی کہو کیا کرنا ہے

تم ہی کہو کیا کرنا ہے

فیض احمد فیض

جب دکھ کی ندیا میں ہم نے
جیون کی ناؤ ڈالی تھی
تھا کتنا کس بل بانہوں میں
لوہو میں کتنی لالی تھی
یوں لگتا تھا دو ہاتھ لگے
اور ناؤ پورم پار لگی
ایسا نہ ہوا، ہر دھارے میں
کچھ ان دیکھی منجدھاریں تھیں
کچھ مانجھی تھے انجان بہت
کچھ بے پرکھی پتواریں تھیں
اب جو بھی چاہو چھان کرو
اب جتنے چاہو دوش دھرو
ندیا تو وہی ہے ناؤ وہی
اب تم ہی کہو کیا کرنا ہے
اب کیسے پار اترنا ہے
جب اپنی چھاتی میں ہم نے
اس دیس کے گھاؤ دیکھے تھے
تھا ویدوں پر وشواش بہت
اور یاد بہت سے نسخے تھے
یوں لگتا تھا بس کچھ دن میں
ساری بپتا کٹ جائے گی
اور سب گھاؤ بھر جائیں گے
ایسا نہ ہوا کہ روگ اپنے
کچھ اتنے ڈھیر پرانے تھے
وید ان کی ٹوہ کو پا نہ سکے
اور ٹوٹکے سب بیکار گئے
اب جو بھی چاہو چھان کرو
اب جتنے چاہو دوش دھرو
چھاتی تو وہی ہے، گھاؤ وہی
اب تم ہی کہو کیا کرنا ہے
یہ گھاؤ کیسے بھرنا ہے

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں