روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

تنہائی کے ایک سو گھنٹے

تنہائی کے ایک سو گھنٹے

فاروق سلہریا

(یہ مضمون آسٹریلین جریدے لنکس کے لئے لکھا گیا: ترجمہ: حارث قدیر)

منگل کے روز میرے تین لیکچرز ہوتے ہیں، کیونکہ کچھ اضافی آمدن کے لیے میں نے یونیورسٹی میں اضافی کورس پڑھانے کا فیصلہ کیاتھا۔ اس کے علاوہ روزمرہ کی مصروفیات اس کے علاوہ ہیں۔ روزنامہ ’جدوجہد‘ کی اشاعت کرنا ہوتی ہے، جو ایک آن لائن سوشلسٹ پلیٹ فارم ہے۔ یہ 6مئی کی بات ہے کہ میں گھر پہنچتے ہی شام 9بجے تک اپنے صوفے پر ہی سو گیا۔ سونے سے قبل میں نے اپنا موبائل سائلنٹ موڈ پر ڈال دیا تھا۔

اگلی صبح جب آنکھ کھلی تو میرا واٹس ایپ خیریت معلوم کرنے والے پیغامات سے بھرا ہوا تھا۔ بھارتی حملے کی توقع توتھی، مگر یہ توقع نہیں تھی کہ یہ حملہ لاہور پر بھی ہوگا۔ 1971کے بعد سے اب تک ہمیشہ میرا بدنصیب آبائی علاقہ، جموں کشمیر‘ ہی میدان جنگ بنتا آیا ہے۔ میں نے فوراً بی بی سی اردو پر خبر تلاش کی۔ واقعی لاہورپر حملہ ہو چکا تھا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جو پہلا وائس نوٹ میں نے سنا، وہ میرے بھتیجے کا تھا۔

چاچو، انڈیا نے لاہور پر حملہ کر دیا ہے۔ آپ ٹھیک تو ہیں نا؟
میں نے مذاقاً جواب دیا:
”میں شہید ہو چکا ہوں۔ جنت سے سلام بھیج رہا ہوں۔ مولویوں کی باتوں پر یقین نہ کرنا۔۔۔ جنت اتنی حسین نہیں جتنی وہ بیان کرتے ہیں۔“

میرا بھتیجا اسلام آباد کی قائداعظم یونیورسٹی میں پڑھتا ہے۔ اسے جواب دیتے ہوئے میں مسکرایا اور تھوڑی مسرت بھی ہوئی کہ شاید میرا جواب اس کی مذہبی حساسیت کو بھی چھڑنے کا باعث بنا۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ اگلے تین دن تک یہ میری آخری کھل کر ہنسی ہوگی۔ بطور ایک امن پسند انسان میری 100گھنٹوں کی تنہائی کا آغاز ہو چکا تھا۔

دوستوں اور رشتہ داروں کی طرف سے خیریت دریافت کرنے والے پیغامات اور ای میلوں کا جواب دینے کے بعد میں نے موبائل اسکرین پر نیچے سکرول کرنا شروع کیا۔ پاکستان میں سوشل میڈیا صارفین بھارت کے خلاف زہر اُگل رہے تھے۔ بھارتی بھی جواب میں کچھ کم نہ تھے۔ میں نے گھر میں جان بوجھ کر ٹی وی نہیں رکھا تاکہ پاکستانی نیوز چینلوں سے محفوظ رہ سکوں۔ جنگی کوریج کو دیکھ کر میرا یقین اور پختہ ہوگیا ہے کہ جب تک ان چینلز پر پابندی نہیں لگتی، ٹی وی نہ رکھنا ہی بہتر ہے۔

فیس بک پر بھارتی نیوز چینلوں کی کوریج کے چند کلپ دیکھ کر مجھے یہ یقین بھی ہو گیا کہ بھارت پر حکمرانی کرنے والے ہندو طالبان نے میڈیا پر ہر قسم کی شائستگی کا جنازہ ہی نکال دیا ہے۔ ایسے میں مجھے فہمیدہ ریاض یاد آئیں، جو ایک مارکس وادی، فیمن اسٹ شاعرہ تھیں۔

جب پاکستان میں جنرل ضیاء الحق کی آمریت کے تحت فہمیدہ ریاض کے لیے زندگی ناقابل برداشت ہو گئی، تو وہ جلاوطنی میں دہلی چلی گئیں۔ 1980 کی دہائی میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) ایک ہندو بنیاد پرست جماعت کے طور پر ابھر رہی تھی۔ تاہم انڈین نیشنل کانگریس، جو اب نہرواورگاندھی خاندان کے گرد گھومنے والی خاندانی سیاست تک محدود ہو چکی تھی، پہلے ہی ’سافٹ ہندوتوا‘کی پالیسی پر گامزن تھی۔مجھے اپنے پی ایچ ڈی کے فیلڈ ورک کے دوران دہلی میں اعجاز احمد سے ملنے اور انہیں سننے کا شرف حاصل ہوا۔ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو) میں ایک سیمینار کے دوران، جہاں ہال طلبہ سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا، انہوں نے ایک جملہ کہا جو پورے ہال میں قہقہوں کی گونج پیدا کر گیا:”بی جے پی نظریاتی (programmatically)طور پر ہندو بنیاد پرست ہے، جبکہ کانگریس عملی (pragmatically)طور پر ہندو بنیاد پرست ہے۔“

انڈین نیشنل کانگریس کے جعلی سیکولرازم سے مایوس اور ہندوتوا کے بڑھتے ہوئے رجحان سے پریشان ہو کر فہمیدہ ریاض نے ایک لازوال نظم لکھی۔ پاکستان میں امن کے خواہاں لوگ یہ نظم بھارت میں اپنے ہم خیال ساتھیوں کو اُس وقت بھیجتے ہیں جب ہندوتوا کے علمبردار وہاں کی مذہبی اقلیتوں پر کوئی نیا ظلم ڈھاتے ہیں۔ نظم کے چند اشعار درج ذیل ہیں:

تم بالکل ہم جیسے نکلے
اب تک کہاں چھپے تھے بھائی!
وہ مورکھتا، وہ گھامڑ پن، جس میں ہم نے ایک صدی گنوائی
ارے پہنچی دوار تمہارے، ارے بدھائی بہت بدھائی
۔
۔
۔
اب جس نرک میں جاؤ وہاں سے
چٹھی وٹھی ڈالتے رہنا

قسمت اچھی تھی کہ واٹس ایپ بند نہیں ہوا تھا۔ میں نے کولکتہ میں مقیم اپنے دوست سوشووان دھرسے بات کی۔ انہوں نے بتایا کہ پورے بھارت میں ایک جنگی جنون کی کیفیت ہے۔ ہم دونوں نے ’جیکوبن‘ کے لیے ایک مشترکہ مضمون لکھنے پر اتفاق کیا، اور اس بات پر بھی ہمارا اتفاق ہوا کہ جنگ طویل نہیں چلے گی۔ تاہم میں جانتا تھا کہ جب تک جنگ جاری رہے گی امن پسند افراد شدید تنہائی، حاشیہ بندی، آن لائن تضحیک اور بیگانگی کا شکار رہیں گے۔ سونے پر سہاگہ بائیں بازو کی طرف سے اس تنہائی کو شدید تر بنا دیا گیا!

کامریڈ! یوٹو؟

سچ کہوں تو میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا(سی پی آئی)اور کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسسٹ(سی پی آئی ایم) کی طرف سے جنگ پر ایک مبہم اور گول مول سے موقف کی توقع کر رہا تھا۔ یہ حقیقت سب کو معلوم ہے کہ سی پی آئی اور سی پی آئی ایم کی سیاست بڑی حد تک انتخابی سیاست تک محدود ہو چکی ہے، اور اس میں انقلابی روح اب باقی نہیں رہی ہے۔ اس لیے یہ بات قابل فہم بھی تھی کہ وہ ہندوتوا کو آنے والے انتخابات میں کوئی بہانہ دینے کی بجائے محتاط رہیں گے۔میری توقعات لیکن بری طرح غلط ثابت ہوئیں۔ بھارت میں بائیں بازو کی مین سٹریم جماعتوں کا موقف مبہم نہیں رہا۔ انہوں نے کھل کر پاکستان کے خلاف جنگ کی حمایت کی اور وہ حمایت بھی ’وار آن ٹیرر‘ جیسے بے حد بور اور گھسے پٹے بہانے کے تحت کی گئی۔

تاہم مجھے ذاتی طور پر جس چیز نے سب سے زیادہ دکھی کیا، وہ بھارتی بائیں بازو کا رویہ نہیں تھا، جس کے لیے میں ذہنی طور پر تیار بھی تھا۔ حیران کن بات یہ تھی کہ پاکستان ا کے اندر بھی کچھ گروپ جنگی جنون میں مبتلا ہو گئے۔ ان میں سے ایک گروپ کے ’جنرل سیکرٹری‘(مجھے کبھی سمجھ نہیں آیا کہ پاکستان میں ’جنرل سیکرٹری‘کا خطاب کیوں اتنا مقبول ہے) نے بیان دیا:’پیار اور احترام ان پاک فضائیہ کے افسران کے لیے جو اس وقت ہندتوا صہیونی فسطائیت کے خلاف جنوب ایشیا میں براہ راست مزاحمت کرنے والی واحد قوت ہیں۔تاریخ ان مردوخواتین کی مقروض ہوگی، جو ہمارے دور کے ’جالوت‘ (مذہبی سکرپٹ میں طاقتور جنگجو)کے سامنے سینہ سپر ہوئے۔“

ایسے ہی کئی بیانات کے ساتھ ساتھ بہت سے نامور ’برگر لیفٹسٹ‘ ٹی وی سکرینوں پر موجود روایتی جنگی جنونیوں سے بڑھ کر جارحانہ موقف اختیار کرتے دکھائی دیے۔

مایوسی کے عالم میں 8مئی کو (جنگ کے تیسرے دن) میں نے اپنی فیس بک پر ”سرحدی جھڑپوں نے ’انقلابیوں‘ کو ننگا کردیا“ کے عنوان سے درج ذیل تحریر لکھی:

”جنگیں چاہے عالمی جنگوں جتنی طویل اور تباہ کن ہی کیوں نہ ہوں، بالآخر ختم ہو جاتی ہیں۔ بطور سوشلسٹ ہمیں لینن، روزا لگسمبرگ،کارل لیبکنیخت اور ٹراٹسکی جیسے انقلابیوں کی بین الاقوامیت پر مبنی فکر کے ساتھ کھڑا رہنا چاہیے۔ یہ ایک ناگزیر اصول ہے۔ ممکن ہے جنگ کے دوران بمباری میں آپ کی موت واقع ہو جائے، لیکن جو موقف آپ اپناتے ہیں وہ مرنے کے بعدبھی آپ کا پیچھا نہیں چھوڑتا۔ زیادہ امکان ہے کہ پاکستان اوربھارت شایدسرحدی جھڑپوں سے آگے نہ جائیں۔ افسوس! صرف چند میزائلوں کے تبادلے سے ہی بعض’انقلابیوں‘ کے اندر چھپی دوسری انٹرنیشنل بے نقاب ہو گئی ہے۔“

میں نے سوشل میڈیا پر وقت ضائع کرنا بند کر دیا اور میکسم گورکی کی سوانح عمری پڑھنا شروع کر دی۔ برسوں سے یہ شاہکار میرے بیڈ سائیڈ ٹیبل پر پڑا تھا، جو آدھا پڑھنے کے بعد ادھورا رہ گیا تھا اور میں اسے کبھی مکمل نہیں کر پایاتھا۔کچھ وقت امن کے موضوع پر شاعری تلاش کرنے میں صرف کیا۔ مجھے اچانک یاد آیا کہ میں نے شاعر بمقابلہ جنگی جنونی‘ کے عنوان سے ایک مضمون لکھا تھا۔ میں نے گوگل پر تلاش کرنا شروع کردیا۔جلد وہ مضمون مل گیا اور اسے ’جدوجہد‘کے لیے اردوترجمہ کر دیا۔ ’دی لنکس‘ کے مدیر فیڈریکو فوئنٹس نے بھی اسے شائع کرنے میں دلچسپی ظاہر کی۔ یہ مضمون 2010میں لکھا گیا تھا۔ اس وقت ممبئی پر دہشت گرد حملے کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک جنگی صورتحال پیدا ہو گئی تھی۔ تاہم اس وقت دونوں طرف کے بائیں بازو نے باوقار رویہ اختیار کیا تھا۔

یہ درست ہے کہ پاکستان میں بایاں بازو عملی طور پر کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتا۔ وہ واقعی ایک حاشیے پر موجود قوت ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ سب سے بڑے رجحان، یعنی پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کیمپین(پی ٹی یو ڈی سی) نے اس چار روزہ جنگ کے دوران اصولی موقف اختیار کیا۔ تاہم جو بائیں بازو کے سرکردہ افراد پاکستان میں حقیقی طور پر بائیں بازو کی نمائندگی کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو انگریزی زبان میں لکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، بین الاقوامی سطح پر جڑے ہوئے ہیں اور شہرے درمیانے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کی تعلیم مغربی یونیورسٹیوں سے ہے۔ یہ لوگ پی ٹی یو ڈی سی یا ان بے شمار افراد سے کہیں زیادہ نمایاں ہیں۔ یہ گروہ کسی آکسبرچ یا آئیوی لیگ سے فارغ التحصیل شخصیت کے گرد گھومتے ہیں۔ عالمی بائیں بازو کا میڈیا انہی لوگوں کو نمائندہ سمجھ کر جگہ دیتا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر یہ ’برگر بایاں بازو‘ احتیاط سے موقف اپناتا ہے، لیکن ملکی سطح پر، خاص طور پر اردو تحریروں میں وہ پوری طرح ریاستی جنگی جنون کی نظریاتی حمایت کر رہے ہوتے ہیں۔ اس کی مثالیں اتنی زیادہ ہیں کہ گنوانا ممکن نہیں۔

بائیں بازو کی کوتاہ بینی
بھارت میں بائیں بازو کے کردار کا تنقیدی تجزیہ بہتر معلومات رکھنے والے بھارتی کامریڈز اور امن پسندوں کا فرض ہے۔ اس لیے میں یہاں سرحد کے اس پار(پاکستان میں) موجود ’انقلابیوں‘کا ذکر کرنا چاہوں گا۔پاکستان کی حمایت کو درج ذیل بنیادوں پر جائز قرار دیا گیا:

اوّل: بھارت جارح ہے۔دلچسپ بات یہ کہ یہی ’انقلابی‘جب یوکرین پر روس نے حملہ کیا، تو پوتن کی بھرپور حمایت کر رہے تھے۔

دوم: فاشسٹ بھارت، صہیونی اسرائیل کے ساتھ مل کر سازش کر رہا ہے۔ثبوت؟ بھارت پاکستان پر اسرائیلی ڈرونز فائر کر رہا ہے۔مضحکہ خیز طور پر اس موقف کو سامراجی رنگ دیتے ہوئے بھارت کو امریکہ کا اتحادی اور پاکستان کو ایک ’علاقائی داؤد‘ کے طور پر پیش کیا گیا، جسے ایک ’مہربان عالمی جالوت‘یعنی چین کی سرپرستی حاصل ہے۔

یہ حقیقت کسی بھی ’انقلابی‘ کو پریشان نہیں کر سکی کہ چین کا اسرائیل کے ساتھ 24 ارب ڈالر کا تجارتی حجم ہے، یا یہ کہ چین اسرائیل کو غیر قانونی بستیوں کی تعمیر میں مدد دے رہا ہے۔سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ پاکستانی ریاست کے ہر جرم کو چھپایا جا رہا تھا۔یہ درست ہے کہ بھارت نے سفارت کاری کے بجائے جارحیت کا راستہ اپنایا۔قابل ذکربات ہے کہ خود بھارت کے بائیں بازو میں بھی بی جے پی کو ’فسطائی‘ کہنے پر اتفاق رائے نہیں ہے۔ تاہم اگر مان بھی لیں کہ بی جے پی ’فسطائی‘ ہے، تب بھی پاکستانی بائیں بازو کا پہلا فرض یہ تھا کہ وہ پہلے اپنی ریاست کو جواب دہ بناتے، اور اس کے بعد دہلی کی طرف انگلی اٹھاتے۔

درج ذیل باتیں بھی یاد رکھی چاہئیں:

پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کم از کم پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں جہادی تنظیموں کی پشت پناہی کر رہی تھی۔ دوسرا، بھارت کا یہ جذباتی رد عمل دراصل پاکستان کی داخلی طور پر محصور’ہائبرڈ رجیم‘ کے لیے فائدہ مند ہے اور فوج اپنی گرتی ہوئی مقبولیت دوبارہ حاصل کر رہی ہے۔

جہاد کی واپسی

’ملٹری انک‘نامی کتاب کی اشاعت کے بعد جلاوطنی کی زندگی گزارنے والی، لندن میں مقیم عائشہ صدیقہ پاکستان کی عسکری اسٹیبلشمنٹ کی ایک معروف ماہر مانی جاتی ہیں۔ انہوں نے فروری 2025 میں بھارتی آن لائن جریدے دی پرنٹ (جو پاکستان میں وی پی این کے بغیر قابل رسائی نہیں) میں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں لکھا:”اسلام آباد میں ایک باخبر ذریعے نے بتایا کہ راولپنڈی، سردیوں کے بعد نسبتاً کم مگر قابل توجہ سطح پر عسکریت پسندی دوبارہ شروع کرنے کی تیاری کر رہا ہے، تاکہ بھارت کو بلوچستان پر مذاکرات پر مجبور کیا جا سکے۔“

پاکستان بلوچستان میں ایک مسلح علیحدگی پسند تحریک کا سامنا کر رہا ہے۔ بلوچستان پاکستان کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے، جو ایران اور افغانستان کی سرحدوں سے متصل ہے۔ یہاں چین نے گوادر کے مقام پر ایک بڑی بندرگاہ تعمیر کی ہے۔ مزید برآں بلوچستان چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) میں ایک کلیدی کڑی کی حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستان بارہا بھارت پر بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کو اسلحہ اور تربیت فراہم کرنے کا الزام لگاتا رہا ہے۔ یہ وہ عسکری تنظیم ہے جو بلوچستان میں سکیورٹی تنصیبات اور چینی کارکنوں پر متعدد گوریلا حملوں کی ذمہ دار سمجھی جاتی ہے۔

عائشہ صدیقہ کے مطابق موجودہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر، اپنے پیشرو جنرل باجوہ کی بھارت سے ’مفاہمتی‘پالیسی کو ترک کر رہے ہیں۔ وہ لکھتی ہیں:

”بات صرف یہ نہیں کہ عاصم منیر بھارت کے بارے میں روایتی طور پر زیادہ سخت گیر مؤقف رکھتے ہیں، بلکہ انہیں اپنی ثابت قدمی کی شبیہہ قائم کرنی ہے،تاکہ وہ اپنے ان سپاہیوں اور افسران میں مقبول ہو سکیں جو عمران خان فیکٹر کی وجہ سے منتشر ہو چکے ہیں۔ اگرچہ ملک کا عدالتی نظام، سول بیوروکریسی، میڈیا اور سیاسی ڈھانچہ مکمل طور پر عاصم منیر کے زیر اثر آ چکا ہے، پھر بھی وہ مقبولیت حاصل نہیں کر سکے جس کا انہیں گمان تھا۔“

جب تک کوئی قابل تصدیق شواہد موجود نہ ہوں، یہ بات یقین سے کہنا مشکل ہے کہ پاکستان نے پہلگام حملے کی سرپرستی کی یا نہیں۔اسی طرح عائشہ صدیقہ کے دعوؤں کی بھی فی الوقت تصدیق یا تردید ممکن نہیں۔ تاہم 2024 سے پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں ریاستی سرپرستی کے تحت جہادی پروپیگنڈے کی واپسی واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔

ابتدائی طور پر کچھ جہادی تنظیمیں اور بنیاد پرست گروہ اس عوامی تحریک کی قیادت کو کمزورکرنے کے لیے استعمال کیے گئے جو 2023-24میں پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں مہنگی بجلی اور دیگر مسائل کے خلاف اٹھی تھی۔ ماہرین اس عوامی تحریک کو ’اینٹی نیولبرل انتفادہ‘ قرار دیتے ہیں۔ یہ اتنی موثر ثابت ہوئی کہ ریاست کو بجلی کے نرخوں میں کمی کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔تاہم یوٹیلیٹی بلوں کے خلاف اس تحریک میں سوشلسٹوں اور سیکولر قوم پرستوں کی قیادت کو دبانے کی کوششوں کے بعد بھی یہ جہادی گروہ منظر عام پر موجود رہے۔

2024کے موسم خزاں کے بعد سے ان کی عوامی موجودگی ایک بار پھرنمایاں ہو گئی تھی، حالانکہ یہ پچھلے کچھ سالوں سے نسبتاً غیر فعال تھے۔ ان کے اسلحہ بردار کارکنان عوامی ریلیوں میں کھلے عام شرکت کر رہے تھے، باوجود اس کے کہ ہتھیاروں کی نمائش پر قانونی پابندی موجود ہے۔ اسی دوران رواں برس پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے وزیراعظم انوارالحق نے متعدد بار ’جہاد کی بحالی‘ کی تجویز دی۔ ایک بار 5جنوری کو منعقدہ ایک سرکاری تقریب میں خطاب کے دوران انہوں نے جہادی کلچر کو بحال کرنے کا اعلان کیا۔ اس کے بعد ایک دوسرے درجے کے چینل (اے بی این) کو دیئے گئے انٹرویو میں اور پھر 5فروری کو ’یوم یکجہتی کشمیر‘ کے موقع پر مظفرآباد میں بھی انہوں نے یہی گفتگو اس وقت کی جب پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر بھی مظفرآباد میں موجود تھے۔

یاد رہے ’یوم یکجہتی کشمیر‘ ہر سال 5فروری کو اسلام آباد کی نگرانی میں منایا جاتا ہے۔ ماضی میں یہ سرگرمی اسلام آباد اور مظفرآباد تک مرکوز ہوتی تھی، تاکہ غیر ملکی سفارتخانوں کی توجہ حاصل کی جا سکے۔ تاہم رواں سال مظفرآباد میں اسمبلی کے مشترکہ سیشن کے علاوہ خوبصورت شہر راولاکوٹ کو اس کا مرکز بنایا گیا تھا۔

انوارالحق کی جہاد کی اپیل کو پاکستان کے مرکزی ٹی وی چینلوں پر نہیں دکھایا گیا۔ اسی طرح پاکستان کے مین سٹریم میڈیا میں ’یوم یکجہتی کشمیر اور طوفان الاقصیٰ کانفرنس‘ کا ذکر بھی نہیں کیا گیا۔ بظاہر یہ کانفرنس (نامعلوم) ’راولاکوٹ سول سوسائٹی‘ کی سرپرستی میں منعقد ہوئی، جس میں حماس کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ راولاکوٹ ریڈیکل سیاست کا مرکز ہے، جہاں مارکس وادی اور سیکولر قوم پرست سٹریٹ اور طلبہ سیاست پر غالب رہے ہیں۔

’یوم یکجہتی کشمیر اور طوفان الاقصیٰ کانفرنس‘ کی حمایت کے لیے طلحہ السیف کے نام پر عوامی مہم چلائی گئی۔ طلحہ السیف جیش محمدکے بانی مسعود اظہر کا چھوٹا بھائی ہے۔6مئی کو بھارتی میزائلوں کے حملے میں بہاولپور میں جیش محمد کی حدود کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے میں جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کو اپنے خاندان کے 10افراد کے ساتھ ساتھ 4جنگجو ساتھیوں کا بھی نقصان ہوا۔ اسی طرح لشکرطیبہ(جو اب جماعۃ الدعوۃ کے نام سے مشہور ہے) اور سپاہ صحابہ کے کمانڈر بھی صابر شہید سٹیڈیم راولاکوٹ میں منعقدہ کانفرنس کے لیے کھلے عام مہم چلا رہے تھے۔

سونے پہ سہاگہ یہ کہ 16اپریل کو اسلام آباد میں پاکستانی تارکین وطن کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جنرل عاصم منیر نے مشہور’دو قومی نظریے‘ کو یاد کیا، یعنی ہندو اور مسلمان ہمیشہ کے دشمن ہیں۔ ’دو قومی نظریہ‘ کو پاکستان کے حکمران طبقات نے 1947میں پاکستان کے قیام کے جواز کے طور پر استعمال کیا تھا۔ ان کا یہ خطاب بلاشبہ زہر آلود اور نہایت متنازع تھا، جس نے بھارتی میڈیا کے شدت پسند حلقوں میں سخت ناپسندیدگی اور تنقید کو جنم دیا۔ مختصراً تصادم کے خطرناک اشارے ہونے لگے تھے، خواہ وہ جان بوجھ کر نہ بھی ہوں۔ بدقسمتی سے اس ’پوسٹ ٹروتھ‘ دور میں حقائق کا کوئی خاص وزن نہیں، یہاں تک کہ ایسے وقت میں ’انقلابیوں‘ نے بھی انٹرنیچنل ازم کو دھوکہ دے دیا ہے۔

جنگی جنون نے وقتی طور پر تنہائی کو ختم کیا

جنگ کے دوسرے دن، مجھے ایک مزدور سے بات کرنے کا موقع ملا جسے میں کئی سالوں سے جانتا ہوں۔ جب بھی میں اس کے کام کی خدمات لینے اس کے کام کی جگہ جاتا ہوں، وہ اکثر اپنی معاشی مشکلات کا ذکر کرتا ہے۔ وہ پیرہیزگاری اور ایمانداری کا ایک نمونہ ہے۔ دیگر افراد کی طرح اس نے بھی بھارت پاکستان جنگ پر بات چھیڑی اور کچھ قوم پرستانہ گفتگو کی۔ میں نے اس کے دلائل کا جواب دیا۔ اگلے ہی لمحے وہ اس ’قیادت‘پر تنقید کرنے لگا جس نے پاکستان کے عوام پر یہ جنگ مسلط کی۔ اسے یہ بھی معلوم تھا کہ جنگ کے بعد کا دور معاشی حالات کو مزید خراب کر دے گا۔

جب میں اُس مزدور کی جگہ سے واپس آیا تو میں نے سوچنا شروع کیا:

”یہ بات ایک عرصہ سے معلوم اور جانی مانی ہے کہ جنگ کے آغاز میں قوم پرستانہ جنون لوگوں پر حاوی ہو جاتا ہے، مگر یہ حکمت صرف مسئلے کے خدو خال ہی بیان کرتی ہے۔ اس مرحلے پر قوم پرستی مزدوروں اور محروم طبقے کو سرمایہ داری کی وجہ سے پیدا ہونے والی تنہائی اور اجنبیت سے کچھ حد تک نجات دلاتی ہے۔ سرمایہ داری انہیں منتشر کر دیتی ہے، خاص طور پر پاکستان جیسے ملک میں جہاں مزدوروں کی تنظیمیں تقریباً نہ ہونے کے برابر ہیں۔ سرمایہ دار مالک،جنہیں مزدورخود ہی تخلیق کرتے ہیں اور ایک ساتھ ہی ان سے خوف بھی کھاتے ہیں، جنگ کے آغاز میں وہ ایک ہم وطن کی طرح دکھائی دیتے ہیں۔ کچھ دیر کے لیے سب مزدور اور مالک، فوجی جنرل اور سپاہی بظاہر ایک متحد مجموعہ بن جاتے ہیں۔ یہ وہ وہم ہے،جس کی حقیقیت شاید مزدوروں اور سپاہیوں کو معلوم ہوتی ہے، مگر اپنے باسز پر عمر بھر کا جمع شدہ غصہ دشمن کے خلاف نکالا جاتا ہے۔ ایک قسم کا نفسیاتی ریلیف ہوتا ہے جو معلق اجنبیت اور بیگانگی کے احساس کو کچھ حد تک کم کرتا ہے۔“

9 مئی کی صبح مجھے ایک دھماکہ سنائی دیا۔ یہ زیادہ قریب نہیں تھا، مگر میرے گھر میں لگی شیشے کی کھڑکیاں ہل گئیں! کیا یہ میزائل تھا؟ کوئی ڈرون؟ میں لرز گیا۔ کیا اگلا بھی آئے گا؟ میں کچھ دیر کے لیے جسمانی اور ذہنی طور پر جم گیا۔ پھر میں نے فیصلہ کیا کہ میں دفتر جاؤں گا، حالانکہ یونیورسٹی آن لائن چلی گئی تھی۔ ’جو بھی ہو، میں جاؤں گا‘، یہ سوچ کر میں نے کافی بنانی شروع کی۔ ایسے حالات میں قسمت پر یقین ہی آخری پناہ ہوتی ہے۔ دفتر جاتے ہوئے میں نے غزہ کا سوچا اور پھراپنے بارے میں ’کیا تم محفوظ ہو‘ کے پیغامات اور خود اپنے خوفزدہ ہونے پر شرمندگی محسوس کی، وہ خوف جو بس ایک دھماکے کی آواز سے پیدا ہوا تھا۔ اگلے دن جنگ بندی کے بعد میں نے اپنے طلبہ سے پوچھا کہ وہ ان 100 گھنٹوں پر مبنی پاگل پن کے دوران کیا سوچ رہے تھے۔ میں یہ بھی جاننا چاہتا تھا کہ میری تدریس کا ان پر کوئی اثر بھی ہوتا ہے یا نہیں۔ مجھے بتایا گیا کہ وہ سب بھی غزہ کے بارے میں سوچ رہے تھے!

اب جب جنگ بظاہر ختم ہو چکی ہے، پر امن کارکنوں کے لیے جنگ ابھی جاری ہے۔ اگلے مہینے پاکستان اپنا فوجی بجٹ 13فیصد بڑھائے گا۔ پہلے ہی قرضوں کی ادائیگی (پاکستان دیوالیہ ہونے کے دہانے پر ہے) اور فوجی اخراجات بجٹ کا بڑا حصہ کھا جاتے ہیں۔ نیوز چینل اور سوشل میڈیا صارفین بھارت پر فتح کی تعریف میں مصروف ہیں، مگر میرے’جدوجہد‘کے ساتھی حارث قدیر کوپولیس کی طرف سے ہراسانی کا سامنا ہے۔ چار لمبے دنوں کے دوران انہیں دو بار گرفتار اور پھر جلد ہی رہا کر دیا گیا۔ وہ پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے شہر راولا کوٹ میں مقیم ہیں۔ وہاں کی سول سوسائٹی اور صحافیوں کی مداخلت کے باعث ہی انہیں رہا کیا گیا۔ ان کی گرفتاری اور ہراسانی ایک ناانصافی پر مبنی نام نہاد قانون کی خلاف ورزی تھی۔ حارث امن اور سوشلزم کے علمبردار ہیں۔ وہ ہمارے علاقے کے بہترین صحافیوں میں سے ایک ہیں۔ وہ پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں ’اینٹی نیولبرل‘عوامی تحریک میں بھی فعال تھے۔ چند سال قبل ان کے قائم کردہ روزنامہ ’مجادلہ‘کو ریاست نے بند کر دیا تھا۔ ان کی گرفتاری اور ہراسانی کے دوران ہم ’جدوجہد‘کے مستقبل کے بارے میں سوچنے لگے کیونکہ ’مجادلہ‘کی یادیں ابھی تک تازہ تھیں۔

بھارت اورپاکستان کی جنگ زیادہ دیر نہیں چلتی، مگر دونوں ریاستیں اپنی اپنی عوام پر جنگ کبھی ختم نہیں کرتیں۔ ’جدوجہد‘کا مستقبل بھارت پاکستان کی جنگ پر منحصر نہیں جو چند برس بعد پھر آئے گی۔’جدوجہد‘کی قسمت، جس سے میں اور حارث جنون کی حد تک وابستہ ہیں، کا فیصلہ پاکستان میں آزادی اظہار رائے پر جاری نہ ختم ہونے والی جنگ کرے گی۔ ہم دونوں کو امید ہے کہ ’جدوجہد‘ قائم رہے گی۔ ہم یہ بھی یقین رکھتے ہیں کہ اگر ہم اس بار ناکام بھی ہوجائیں، تو ’جدوجہد‘ کو اگلی نسل کے امن پسند کارکن دوبارہ بحال کریں گے۔ ’جدوجہد‘ جاری ہے۔

Farooq Sulehria

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں