روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

تین ماہ سے پولیس ریکارڈ نہ پیش کر سکی، علی وزیر کی ضمانت پھر نہ ہوئی

تین ماہ سے پولیس ریکارڈ نہ پیش کر سکی، علی وزیر کی ضمانت پھر نہ ہوئی

لاہور(جدوجہد رپورٹ) سندھ کے ضلع نواب شاہ کی انسداد دہشت گردی عدالت نے ایک بار پھر علی وزیر کی درخواست ضمانت پر سماعت اس لیے ملتوی کر دی ہے کہ پولیس ریکارڈ نہیں پیش کر سکی ہے۔ علی وزیر کو 11مارچ کو سابقہ مقدمہ میں ضمانت ملنے کے بعد نواب شاہ میں درج مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اس کیس میں متعدد سماعتیں ہو چکی ہیں، جن میں پولیس ریکارڈ پیش کرنے سے گریزاں ہے اور عدالت علی وزیر کو ضمانت دینے سے گریزاں ہے۔

جمعرات کو انسداد دہشت گردی عدالت نے علی وزیر کا کیس بے بنیاد قرار دے کر اور عدالت کی توہین قرار دیتے ہوئے پولیس کوواپس دے دیا۔ عدالت نے پچھلے تین ماہ کے دوران پولیس کو ریکارڈ پیش کرنے کے لیے بار بار موقع دیا، تاہم پولیس ریکارڈ پیش نہ کر سکی۔

ادھر خیبرپختونخوا حکومت نے علی وزیر کی مسلسل گرفتاری ، جھوٹے مقدمات اور علاج کی سہولت سے محرومی پر اظہار تشویش کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

وزیرستان کے قومی مشران نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ سابق رکن قومی اسمبلی علی وزیر کو فوری طور پر رہا کیا جائے، بصورت دیگر قومی مشران، جوانوں، سیاسی قائدین و رہنماؤں کے ساتھ مشاورت کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔ پریس کانفرنس میں قومی مشران کا کہنا تھا کہ 3 اگست 2024 کو علی وزیر کو عدالت میں پیش کیاگیا تھا ،جہاں معلوم ہواکہ اسلام آباد پولیس نے علی وزیر پر 3 ایف آئی آرز درج کی ہیں، جن میں ٹریفک حادثے کے ساتھ منشیات و پستول برآمدگی اور پولیس کے ساتھ مقابلے کی ایف آئی آر شامل تھی۔ تینوں ایف آئی آرز میں ضمانتیں ہوگئی مگر ڈپٹی کمشنر راولپنڈی نے انہیں 15 دنوں کے لیے نظر بند کردیا اور پھر یہ سلسلہ چل نکلا۔

یاد رہے کہ علی وزیر نواب شاہ میں ایک ایسے مقدمے میں گرفتار ہیں، جو ان کے جیل میں ہوتے ہوئے چند نامعلوم افراد کی جانب سے مبینہ طور پر ان کی ریکارڈ شدہ تقریرسننے کی وجہ سے ان کے خلاف درج کیا گیا ہے۔ اس سے قبل 5مارچ کو علی وزیر کے خلاف ایسا ہی ایک مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ نوشیرہ فیروز تھانے میں درج اس مقدمے میں پولیس نے الزام عائد کیا تھا کہ چند افراد ٹیبلٹ پر تقریر سن رہے تھے۔ یہ تقریر ملک دشمن تھی اور تقریر کرنے والا شخص علی وزیر تھا۔ تاہم پولیس تقریر سننے والے افرا دکو نہ گرفتار کر سکی اور نہ ہی ان کی شناخت کی جا سکی۔ تاہم علی وزیر کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔

یہ مقدمہ اس وقت درج کیا گیا تھا، جب علی وزیر کی ایک اور انسداد دہشت گردی کے مقدمے میں درخواست ضمانت عدالت نے منظور کر لی تھی۔ تاہم انہیں رہا کرنے کی بجائے نئے مقدمے میں گرفتاری ظاہر کر دی گئی تھی۔ 11مارچ کو علی وزیر کی اس مقدمے میں بھی درخواست ضمانت منظور ہوئی، لیکن پولیس نے پہلے ہی نامعلوم افراد کے تقریر سننے کی وجہ سے علی وزیر کے خلاف ایک اور انسداد دہشت گردی کا مقدمہ نواب شاہ میں درج کر رکھا تھا۔

واضح رہے کہ علی وزیر کو گزشتہ سال اگست میں اسلام آباد سے گرفتار کیا گیا تھا، جس کے بعد 16مقدمات میں ضمانتیں منظور ہونے کے باوجود ان کے خلاف 17واں مقدمہ درج کر کے انہیں جیل میں بند کیا گیا ہے۔ یوں علی وزیر گزشتہ 10ماہ سے رہائی کے منتظر ہیں۔ ان کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ علی وزیرمختلف امراض کا شکار ہیں، انہیں مناسب طبی امداد کی ضرورت ہے۔ تاہم انہیں جیل میں غیر انسانی حالات میں رکھا گیا ہے۔ ان کی صحت کا مناسب خیال نہیں رکھا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے ان کی صحت کی صورتحال مسلسل بگڑتی جا رہی ہے۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں