روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

جیل میں قید کرد رہنما کی ہتھیار پھینکنے کی اپیل: کیا فرق پڑے گا؟

جیل میں قید کرد رہنما کی ہتھیار پھینکنے کی اپیل: کیا فرق پڑے گا؟

لاہور(جدوجہد رپورٹ) کردستان ورکرز پارٹی(پی کے کے) کے جیل میں بند رہنما نے ہتھیار پھینکنے اور پارٹی کو تحلیل کرنے کی اپیل کر دی ہے۔ گزشتہ26سال سے ترکی کی جیل میں قید عبداللہ اوکلان نے ایک خط کے ذریعے اپنے ساتھیوں سے خود کو غیر مسلح کرنے کی اپیل کی ہے۔ عبداللہ اوکلان 1999سے بحیرہ مرمرہ میں واقع جزیرہ امرالی میں قید تنہائی میں موجود ہیں۔

’گارڈین‘ کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق عبداللہ اوکلان کے اس اعلان سے عسکریت پسند کرد گروپوں اور ترک ریاست کے درمیان 40سال سے جاری تنازع کے خاتمے کی راہ ہموار ہو گی۔ اس اقدام کے بقیہ مشرق وسطیٰ کے لیے بھی دور رس اثرات مرتب ہونگے۔

استنبول میں سیاسی اتحادیوں کی طرف سے پڑھے گئے عبداللہ اوکلان کے خط میں کہا گیا ہے کہ ’میں ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کر رہا ہوں اور میں اس کال کی تاریخی ذمہ داری قبول کرتا ہوں۔ تمام گروہوں کو اپنے ہتھیار ڈالنے چاہئیں اور پی کے کے کو خود کو تحلیل کردینا چاہیے۔‘

یہ اعلان گزشتہ سال اکتوبر میں ترک صدر رجب طیب اردگان کے سخت گیر قوم پرست اتحاد ڈیولٹ باہیلی کی جانب سے اوکلان کے لیے حیرت انگیز امن کے اشارے کے بعد کیا گیا ہے۔

کردستان ورکرز پارٹی(پی کے کے) کیا ہے؟

پہلی عالمی جنگ کے بعد جب سلطنت عثمانیہ کا خاتمہ ہوا تو ایک آزاد کرد ریاست بنانے کی کوششیں ہو گئیں۔ کرد ترکی، ایران، عراق، شام اور آرمینیامیں اقلیتی آبادی میں تبدیل ہو گئے۔

ترکی میں کردوں کے حقوق کو اس قدر دبایا گیا کہ کئی دہائیوں تک ریاست نے نسلی گروہ کے وجود سے ہی یکسر انکار کیا۔ کردستان ورکرز پارٹی 1978میں قائم کی گئی ایک بائیں بازو کی گوریلا تحریک تھی۔ پارٹی کے قیام کا مقصد جنوب مشرقی ترکی کو ایک آزاد کردستان بنانا تھا۔

چار دہائیوں تک چلنے والی اس لڑائی میں کم از کم 40ہزار لوگ مار گئے اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔ وقفے وقفے سے جاری یہ لڑائی خطے کے دیگر حصوں میں بھی پھیل گئی ہے۔

1990کی دہائی میں کردستان ورکرز پارٹی نے آزادی کا مطالبہ ترک کر دیا تھا اور اس کی بجائے ترکی کی سرحدوں کے اندر زیادہ خودمختاری کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ کردستان ورکرز پارٹی کو آج بھی ترکی، برطانیہ، یورپی یونین اور امریکہ دہشت گرد تنظیم تصور کرتے ہیں۔

عبداللہ اوکلان کون ہے؟

76سالہ عبداللہ اوکلان کردستان ورکرز پارٹی کے بانی اراکین میں سے ایک ہیں۔ وہ جنوبی ترکی کے شہر سانلیورفامیں پیدا ہوئے اور اس گروپ کی تشکیل کے بعد وہ شام فرار ہو گئے تھے۔

دمشق چھوڑنے پر مجبور ہونے کے بعد انہیں 1999میں کینیا میں ترک انٹیلی جنس ایجنٹوں نے گرفتار کیا اور عمر قید کی سزا سنا کر استنبول کے ساحل سے دور جزیرہ امرالی پر قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔

اوکلان نے 1993سے تنازع کے سیاسی حل کی وکالت کی ہے۔ انہوں نے جیل سے کتابیں لکھنا جاری رکھا ہے اور امن مذاکرات کے پچھلے ادوار میں بھی وہ شامل رہے ہیں۔

اب اعلان کیوں ہوا؟

گزشتہ سال خزاں میں کردستان ورکرز پارٹی کے قید رہنما عبداللہ اوکلان سے کردنواز پیپلزایکویلٹی اینڈ ڈیموکریسی(ڈی ای ایم) پارٹی کے اراکین ترک حکومت کی جانب سے تین ملاقاتیں کر چکے ہیں۔

ڈی ای ایم کے شریک چیئرپرسن تونسر باقرہان نے رواں ماہ کے آغاز میں کہا تھا کہ اوکلان کا پیغام’کرد مسئلے کے جمہوری حل کے لیے ایک روڈ میپ ہوگا، جو اسے تشدد کے میدان سے سیاست، قانون اور جمہوریت میں سے کسی ایک کی طرف لے جائے گا۔‘

بڑے پیمانے پر خیال کیا جارہا ہے کہ اردگان کردستان ورکرز پارٹی کے ساتھ امن عمل کو دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، کیونکہ یہ ووٹرز میں مقبول ہے۔

اس کے علاوہ کردوں کا سوال غزہ میں جنگ، شام میں بشارالاسد حکومت کے خاتمے، اور اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی دشمنی کی وجہ سے پیدا ہونے والی جغرافیائی سیاسی کشیدگی سے بھی جڑا ہوا ہے۔

ترکی، شام اور باقی خطے کے لیے اس کا کیا مطلب ہوگا؟

اردگان حکومت اور کردستان ورکرز پارٹی کے درمیان 2013میں ہونے والے آخری امن معاہدے کو پورے ملک میں بھرپور پذیرائی ملی تھی، تاہم دو سال بعد یہ دشمنی دوبارہ شروع ہو گئی تھی۔

تاہم ابھی ایک بڑا سوال یہ بھی ہے کہ اوکلان کا پیغام کردستان ورکرز پارٹی کے عسکری ونگ کے ان رہنماؤں کو کیسے ملے گا،جو زیادہ تر شمالی عراق کے پہاڑوں میں مقیم ہیں۔ اس علاقے پر ترک فضائیہ کئی سالوں سے شدید بمباری کر رہی ہے۔

شام میں کردستان ورکرزپارٹی کی شاخ ’وائی پی جی‘، یا ’پیپلز پروٹیکشن یونٹس‘ کو امریکہ کی حمایت یافتہ سیریئن ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف)کی ریڈھ کی ہڈی کی حیثیت قرار دیا جاتا ہے۔

ایس ڈی ایف کا ملک کے شمال مشرق پر کنٹرول ہے اور وہ برسوں سے ترک فوج اور ترکی کے حمایت یافتہ شامی عرب گروپوں کے خلاف برسرپیکار ہے۔ یہ خیال بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر کردستان ورکرز پارٹی ہتھیار ڈال دیتی ہے تو خودمختار کرد انتظامیہ اور ترکی کی حمایت یافتہ عبوری شامی حکومت کے درمیان معاہدہ آسان ہو جائے گا۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں