روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

در امید کے دریوزہ گر

در امید کے دریوزہ گر

فیض احمد فیض

پھر پھریرے بن کے میرے تن بدن کی دھجیاں
شہر کے دیوار و در کو رنگ پہنانے لگیں
پھر کف آلودہ زبانیں مدح و ذم کی قمچیاں
میرے ذہن و گوش کے زخموں پہ برسانے لگیں
پھر نکل آئے ہوسناکوں کے رقصاں طائفے
دردمند عشق پر ٹھٹھے لگانے کے لیے
پھر دہل کرنے لگے تشہیر اخلاص و وفا
کشتہئ صدق و صفا کا دل جلانے کے لیے
ہم کہ ہیں کب سے در امید کے دریوزہ گر
یہ گھڑی گزری تو پھر دست طلب پھیلائیں گے
کوچہ و بازار سے پھر چن کے ریزہ ریزہ خواب
ہم یونہی پہلے کی صورت جوڑنے لگ جائیں گے

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں