روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

ریاستی جبر بند کرو! شوکت نواز میر سمیت تمام گرفتار سیاسی کارکنان کو فوری رہا کیا جائے!

ریاستی جبر بند کرو! شوکت نواز میر سمیت تمام گرفتار سیاسی کارکنان کو فوری رہا کیا جائے!
پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین
پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین (PTUDC) جموں و کشمیر عوامی حقوق تحریک کے مرکزی رہنما شوکت نواز میر کی گرفتاری، عوامی حقوق تحریک کے خلاف جاری ریاستی جبر، سیاسی انتقام، تشدد اور پرامن احتجاج کو طاقت کے ذریعے کچلنے کی پالیسی کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔
ہمیں اس بات پر گہری تشویش ہے کہ شوکت نواز میر کی گرفتاری کی اطلاعات سامنے آنے کے باوجود تاحال ان کی خیریت اور مقامِ حراست کے بارے میں کوئی واضح اور مستند سرکاری معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ مزید تشویشناک امر یہ ہے کہ جن سرکاری حکام نے ابتدا میں ان کی گرفتاری کی تصدیق کی، اب وہ خاموشی یا انکار کی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہیں، جو بنیادی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
شوکت نواز میر کوئی دہشت گرد یا مجرم نہیں بلکہ کشمیری عوام کے جائز سیاسی، معاشی اور جمہوری حقوق کی جدوجہد کرنے والے رہنما ہیں۔ ان کی گرفتاری کو مسلح تصادم کا رنگ دینا اور عوامی تحریک کو بدنام کرنے کی کوشش نہ صرف حقائق کے منافی بلکہ ریاستی جبر کو جواز فراہم کرنے کی ایک خطرناک روش ہے۔ اسی طرح کشمیر کی عوامی تحریک پر غیر ملکی سازشوں کے بے بنیاد الزامات عائد کرنا، غداری کے سرٹیفکیٹ تقسیم کرنا اور مین اسٹریم و سوشل میڈیا پر اس بارے زہریلا پروپیگنڈا کرنا قابلِ مذمت ہے۔ جس کا مقصد اس عوامی جدوجہد کو تنہا کرنا اور اس کے خلاف نفرت کو ہوا دینا ہے۔
پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین اس حقیقت پر زور دیتی ہے کہ بلوچستان سے کشمیر تک محنت کش عوام، نوجوان، طلبہ اور محکوم قومیں اپنے بنیادی سیاسی، معاشی اور سماجی حقوق کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں۔ ان تحریکوں کو طاقت، گرفتاریوں، جھوٹے مقدمات اور تشدد سے دبانے کی کوششیں مسائل کو حل نہیں کریں گی بلکہ نفرت، عدم استحکام اور سماجی بحران کو مزید گہرا کریں گی۔ متعلقہ حکومتوں اور ریاست کو چاہیے کہ جبر کا راستہ ترک کرتے ہوئے مذاکرات، مفاہمت اور عوام کے جائز مطالبات کی منظوری کی جانب پیش رفت کرے۔
یہ امر بھی قابلِ افسوس ہے کہ عوامی حقوق تحریک کے متعدد مطالبات کو ماضی میں تسلیم کرنے کے باوجود ان پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔ جبکہ اب انہی مطالبات کو اٹھانے والوں کے خلاف ریاستی طاقت استعمال کی جا رہی ہے۔ یہ طرزِ عمل کسی بھی انسانی معاشرے کے لیے ناقابلِ قبول ہے۔
اس موقع پر پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین اپنے گزشتہ موقف کا اعادہ کرتے ہوئے درج ذیل مطالبات پیش کرتی ہے:
– شوکت نواز میر کو فوری طور پر بازیاب کر کے رہا کیا جائے اور ان کی صحت اور مقامِ حراست کے بارے میں مکمل معلومات فراہم کی جائیں۔
– جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ واپس لیا جائے اور تحریک پر ہر قسم کی قانونی پابندیاں اٹھائی جائیں۔
– عوامی حقوق تحریک کے تمام گرفتار رہنماؤں اور کارکنان کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔
– کشمیری عوام کے خلاف جاری ریاستی جبر، گرفتاریاں، جھوٹے مقدمات اور انتقامی کارروائیاں فوری بند کی جائیں۔ سیاسی کارکنان پر گزشتہ عرصے میں قائم کیے گئے تمام مقدمات واپس لیے جائیں۔
– کشمیر میں خوراک، ادویات، ایندھن اور دیگر ضروریات زندگی کی بلا رکاوٹ ترسیل فوری بحال کی جائے۔
– انٹرنیٹ اور موبائل سروس بحال کی جائے۔
– کشمیر کی عوامی تحریک کے خلاف میڈیا اور سوشل میڈیا پر جاری زہریلا پروپیگنڈا اور غداری کے بے بنیاد الزامات کا سلسلہ بند کیا جائے۔
– پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں عوامی تحریک کے خلاف تعینات کی گئی پیراملٹری فورسز کو واپس بھیجا جائے۔ تاکہ مزید اشتعال انگیزی، تصادم اور انسانی جانوں کے ضیاع سے بچا جا سکے۔
– ریاست تصادم اور جبر کی روش ترک کرتے ہوئے تحریک کے ساتھ مذاکرات کا عمل فوراً بحال کرے۔
– کشمیری عوام کے سیاسی و معاشی مطالبات پر عملدرآمد کیا جائے۔تاکہ امن و امان بحال ہو اور صحتمند جمہوری سیاسی عمل کی راہ ہموار ہو سکے۔
– گراس روٹ سیاسی عمل، تنقید، آزادی اظہار اور تحریر و تقریر کی آزادیوں کو کچلنے کے لیے انگریز دور کے کالے قوانین سے بھی زیادہ بھیانک قدغنوں کو آئینی و قانونی حیثیت دینے کی کوششیں فوراً ترک کی جائیں۔ اس سلسلے میں پنجاب اسمبلی میں پیش کردہ عوام دشمن بِل واپس لیا جائے اور دیگر صوبوں یا خطوں میں ایسے اقدامات یا کوششیں بند کی جائیں۔
پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین ملک بھر کی ٹریڈ یونینوں، مزدور، کسان و طلبہ تنظیموں، وکلا برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں اور تمام ترقی پسند قوتوں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ کشمیر کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کریں اور سیاسی کارکنان کے خلاف جاری ریاستی جبر کے خلاف متحد ہو کر آواز بلند کریں۔
اس موقع پر ہم تحریک انصاف اور جماعت اسلامی سمیت اندرونِ و بیرونِ ملک موجود موقع پرست اور اشتعال انگیز عناصر کی بھی شدید مذمت کرتے ہیں جو عوامی حقوق کی اس مستند اور گراس روٹ تحریک کو اپنے مذموم مقاصد اور مفادات کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تحریک کو ’دوستوں‘ کے بھیس میں چھپے ان عوام دشمن عناصر سے چوکنا رہنے کی ضرورت ہے جنہیں کشمیری عوام کی زندگیوں اور مطالبات سے کوئی غرض نہیں ہے اور وہ عوامی حقوق کی اس تحریک کو اپنی تشہیر یا ریاست کیساتھ اپنے معاملات بہتر بنانے کے لیے ایک بارگیننگ چِپ کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ لہٰذا اس مرحلے پر تحریک کو انتہا پسندی، تشدد اور اشتعال انگیزی کی طرف دھکیلنے کی ہر سازش سے بچانے کی ضرورت ہے۔
اس موقع پر ہم ایک بار پھر یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ تحریک کی موجودہ قیادت کو ہم تنقید اور اصلاح سے ماورا نہیں سمجھتے۔ لیکن تحریک کی داخلی کمزوریاں اور مسائل کسی صورت ریاستی جبر کا جواز نہیں بن سکتے۔ ہم ایکشن کمیٹی کی قیادت سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ سیاسی بلوغت اور دور اندیشی کا مظاہرہ کرے اور تحریک کو مسلسل کنفیوژن و ہیجان کی کیفیت سے نکالنے کے لیے عوام کی مشاورت سے ٹھوس لائحہ عمل اور شفاف حکمت عملی تشکیل دے۔
جمہوری آزادیوں پر حملے بند کرو!
ریاستی جبر نامنظور!
شوکت نواز سمیت تمام گرفتار سیاسی کارکنان کو فوری رہا کیا جائے!
کشمیر کے عوام کے قومی، جمہوری، سیاسی اور معاشی حقوق تسلیم کیے جائیں!

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں