عمیر خورشید
آپ بلوچ عوام کی حمایت بھی کریں اور ساتھ ہی ’بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو‘(بی آر آئی) کی حمایت بھی کریں۔ یہ دراصل سامراج کی حمایت کرنا ہی ہے، بس اب کی بار وہ چینی زبان میں لپٹا ہوا ہے۔
چین کا بلوچستان میں کردار مغربی غلبے کا کوئی متبادل نہیں ہے۔یہ ’چینی خصوصیات کے ساتھ سامراج‘ ہے۔ آپ محض ’ترقی کا لیبل لگا کر اس کی حقیقت کو چھپا نہیں سکتے۔
سامراجیت صرف وسائل کے لیے ملکوں پر قبضہ کرنے کا نام نہیں ہے۔ یہ سرمایہ کاری، تجارتی معاہدوں اور قرض کے جال( Debt Diplomacy) کی شکل میں بھی آسکتی ہے۔آج بھی لوگ عراق کو وسائل کی جنگ کی ایک مثال کے طور پر پیش کرتے ہیں، حالانکہ امریکہ کو ’آئل فار فوڈ‘پروگرام کی وجہ سے پہلے ہی تیل دستیاب تھا۔ اس کے علاوہ صدام حسین کو مغرب کے سوا کسی کو خام تیل بیچنے کی اجازت نہیں تھی۔ جارحیت نے وسائل کومحفوظ نہیں کیا بلکہ انہیں تباہ کر دیا ہے، جس سے ان کا حصول مزید مشکل ہو گیا ہے۔
لیبیا میں بھی یہی کچھ ہوا۔ قذافی نیٹو کے آنے سے پہلے یورپی یونین کو اپنا زیادہ تر تیل فروخت کررہے تھے۔ ان کے اطالوی وزیراعظم برلسکونی کے ساتھ تیل اور مہاجرین کے کنٹرول کے معاہدے تھے۔ پھر نیٹو آتا ہے، ریاست بکھر جاتی ہے اور تیل کی پیداوار سست پڑ جاتی ہے۔
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ براہ راست فوجی مداخلت، بغاوتیں اور پراکسی جنگیں سامراجی حکمرانی کو نافذ کرنے کے ذرائع ہوتے ہیں، خود سامراج نہیں۔ یہ ہدف کے حصول کے ذرائع ہیں اور یہ ذرائع وقت اور حالات کے مطابق بدلتے رہتے ہیں۔
وسائل کی جنگ کا نظریہ اس پورے عمل کو مکمل طور پر غلط انداز میں پیش کرتا ہے کہ سامراج کس طرح کمزور ریاستوں اور معیشتوں پر سیاسی و اقتصادی غلبہ حاصل کرتا ہے۔ ترقی پذیر ملکوں کو مغرب کی منڈیوں کی کہیں زیادہ ضرورت ہوتی ہے، بمقابلہ اس کے کہ مغرب کو ان کی۔
وینزویلا امریکہ کو تیل اس لیے بیچتا ہے کیونکہ اسے بیچنا پڑتا ہے(یہاں تک کہ ٹرمپ کے حالیہ معطلی والے دور تک)۔ کیوبا یورپ سے تجارت کرتا ہے کیونکہ اس کے پاس اور کوئی راستہ نہیں ہے۔
اس کے علاوہ ٹیکنالوجی سے مالا مال اور سرمایہ دار ممالک کو ہمیشہ خام مال کی ضرورت نہیں رہتی۔ وہ مصنوعی متبادل ایجاد کر لیتے ہیں۔ چلی کی گوآنو(Guano) سلطنت ہیبر بوش عمل(Haber Bosch Process) کی بدولت ایک دم ختم ہو گئی۔ یہی معاملہ ربڑ، رنگ، ہیروں اور دواسازی کے ساتھ ہوا۔
یہ اس لیے ہوتا ہے کیونکہ غریب ملکوں سے امیر ملکوں کی طرف قدر کی منتقلی ایک غیر مساوی تبادلے کا نتیجہ ہے اور یہ سرمایہ دارانہ سیاسی معیشت کے تحت کام کرتا ہے۔ یہ نظام صرف ’کمپراڈور‘ (خارجی آقاؤں کی وفادار) قسم کی حکومتوں پر لاگو نہیں ہوتا بلکہ بائیں بازو کی حکومتوں کو بھی اسی شکنجے میں رکھتا ہے۔ ترقی پذیر ملک غریب اس لیے رہتے ہیں کیونکہ وہ کم پیداوار والی، بیرونی انحصار پر مبنی معیشتوں کے حامل ہیں، اور اکثر اپنے وسائل خود نکالنے کے قابل بھی نہیں ہوتے۔ انہیں اس مقصد کے لیے غیر ملکی کمپنیوں کو بلانا پڑتا ہے۔ پاکستان میں بھی یہی کچھ ہو رہا ہے اور ریکوڈک اس کی ایک واضح مثال ہے۔
یہ ساختی انحصار(Structural Dependence) صرف اس بات پر نہیں ہوتا کہ کس پر حملہ ہوا، بلکہ یہ اس بات پر ہے کہ قدر کس طرف جاتی ہے اور پیداوار و تبادلے کے ذرائع پر کس کا کنٹرول ہوتا ہے۔ تاہم اگر ہم سامراج کو صرف فوجی جارحیت یا زبردستی تک محدود کریں گے تو ہمیں یہ معیار ہر جگہ یکساں طور پر لاگو کرنا ہوگا۔
مثال کے طور پر چین نے تبت پر قبضہ کیا(اگرچہ چین سے قبل تبت کوئی جنت نہیں تھا بلکہ ایک ظالمانہ مذہبی اشرافیہ کے زیر تسلط تھا)، چین نے ویتنام پر حملہ کیا جبکہ خمیر روج کی حمایت کی۔ اس کے علاوہ مجاہدین کو بھی سی آئی اے کے ساتھ مل کر فنڈ کیا۔ وہ ’ڈالر جہاد‘ میں بھی مکمل طور پر شریک تھا۔
دو چیزیں ایک ساتھ بری ہو سکتی ہیں۔ اسے تسلیم کرنا مایوسی نہیں بلکہ حقیقت پسندی ہے۔
