روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

شاعر بمقابلہ جنگی جنونی

شاعر بمقابلہ جنگی جنونی

(مندرجہ ذیل مضمون 2010 ء میں،بمبئی حملوں کے بعد وئیو پوائنٹ کے لئے لکھا۔ بدقسمتی سے ہندوستان پاکستان میں جنگی جنون ان ہندرہ سالوں میں کم ہونے کی بجائے بڑھ گیا ہے۔ کوئی فرق نہیں پڑا سوائے اس کے کہ اس بار اینکر پرسنز نے روایتی کھلاڑیوں کی جگہ لے لی: مدیر)۔

فاروق سلہریا

پاک بھارت جنگی جنون ایک چکرویوجیسا مظہر ہے جو ہر 5سے 8سال بعد دونوں ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ ممبئی پر نقاب پوش مسلح افراد کے حملوں نے ایک بار پھر دونوں ملکوں کو پاگل پن کے دہانے پر پہنچا دیا تھا۔ جب بھی یہ جنون دونوں ممالک پر طاری ہوتا ہے، ریاستیں ہوش کھو بیٹھتی ہیں اور عقل جلاوطنی اختیار کر لیتی ہے۔ داڑھی والے یا زعفرانی شدت پسند جنگی جنونی اپنے اپنے ملکوں میں مکمل غلبہ حاصل کر لیتے ہیں۔ بے معنی باتوں کی حکمرانی قائم ہو جاتی ہے۔

چونکہ دونوں ممالک کے پاس ایٹمی ہتھیار موجود ہیں، اس لیے آرپار کے قوم پرستوں کی باہمی برادری ایٹمی دھمکیاں دینا کبھی نہیں بھولتی۔ کارگل تنازعے کے دوران صرف تین مہینے میں دونوں ریاستوں نے کم از کم 13مرتبہ ایک دوسرے کو ایٹمی دھمکیاں دیں۔

بھارت میں ’پاکستان سے نفرت‘ایک زعفرانی مشن ہے جسے سنگھ پریوار نے اپنے ذمے لے رکھا ہے، جبکہ پاکستان میں ’ہندو‘بھارت سے نفرت سکھانا نصابی کتب کا حصہ ہے۔ اس طرح ریاست اپنے شہریوں کو ’ہندو‘بھارت سے نفرت پر قائل کرتی ہے۔ سیاستدان اپنی حب الوطنی کا ثبوت شدت پسندی کے ذریعے پیش کرتے ہیں۔ پاکستان کے قیام کے فوراً بعد وزیر اعظم بننے والے سرفیروز خان نون نے ایک ’خفیہ یادداشت‘امریکی سفیر سے ملاقات سے قبل تحریر کی، جو ریاستی سوچ کی عکاس ہے:

”پاکستان کے مسلمان کمیونزم کے خلاف ہیں۔ مسز پنڈت کی صورت میں ہندوؤں کا ماسکو میں سفیر موجود ہے، جو دہلی کے ہندو وزیر اعظم نہرو کی بہن ہیں، اور روسیوں کا بھی ہندو دارالحکومت دہلی میں سفیر موجود ہے۔ ہم پاکستانی مسلمانوں کا ماسکو میں کوئی سفیر نہیں اور نہ ہی ہمارے دارالحکومت کراچی میں ہے۔ اگر امریکہ پاکستان کو ایک مضبوط اور خودمختار ملک بننے میں مدد دیتا ہے۔۔۔تو پاکستان کے عوام کمیونزم کے خلاف اپنی آزادی اور طرز زندگی کے تحفظ کے لیے آخری دم تک لڑیں گے۔“

یہاں تک کہ ذولفقار علی بھٹو جنہیں پاکستان کا ذہین ترین اور عالمی معاملات پر نظر رکھنے والے سیاستدان سمجھا جاتا تھا،بھی بھارت سے متعلق خبط کا شکار تھے۔ اگرچہ وہ نہرو کی تصا نیف کے شائق قاری تھے، لیکن انہوں نے بھارت کے خلاف ’ہزار سالہ جنگ‘کا اعلان کیا۔ 1974 میں جب بھارت نے ایٹمی دھماکہ کیا تو بھٹو نے عہد کیا کہ ’گھاس کھائیں گے، ایٹم بم بنائیں گے!‘

اگر بھٹو جیسا لیڈر اس قدر خبط کا شکارتھا، تو نوازشریف جیسے سیاسی بونوں کو ایٹمی دھماکوں کی سالگرہ کے موقع پر ’یوم تکبیر‘ منانے پر معاف کیا جا سکتا ہے۔

جب جنگی جنون وقتی طور پر تھم بھی جائے، تب بھی جنگ کی تبلیغ کرنے والے میڈیا اور مساجد سے نجات ممکن نہیں۔ یہ دونوں ’ہندو‘بھارت کو شیطانی رنگ میں پیش کرنے کی دوڑ میں مصروف ہوتے ہیں۔

چلیے، مثال کے طور پر راولپنڈی کی جامع مسجد غوثیہ کا رخ کرتے ہیں۔ وہاں حسبِ معمول حافظ محمد سعید کی ایک پرجوش تقریر کشمیر ڈے کے موقع پر اونچی آواز والے لاؤڈ اسپیکروں پر نشر ہو رہی ہے:

”زمین کا سب سے مقدس خطہ پاکستان ہے، اور ہم نینسی پاول جیسے ناپاک وجود کو اپنی مقدس سرزمین پر برداشت نہیں کر سکتے۔ اس کی موجودگی ہمیں اللہ کی رحمتوں سے دور رکھتی ہے۔ پاکستان کو اس ناپاک وجود سے خود کو پاک کرنا چاہیے۔۔۔ اللہ نے ہمیں ایٹم بم بنانے کا حکم دیا ہے، اور امریکہ ہمیں اس سے روک رہا ہے۔ اے مسلمانو! ہمیں کس کی بات ماننی چاہیے، اللہ کی یا امریکہ کی؟ کشمیر نہ تو مذاکرات سے حل ہوگا، نہ امریکی ثالثی سے، نہ ہی تقسیم سے، بلکہ صرف جہاد، جہاداور جہاد سے۔۔۔ ہندو کل بھی دہشت گرد تھے، آج بھی دہشت گرد ہیں، اور کل بھی دہشت گرد رہیں گے۔ ہم ان شیطان کی اولادوں سے بدلہ لینے میں حق بجانب ہیں۔“

مسجد چونکہ مولویوں کا علاقہ ہے، اس لیے یہ لہجہ وہاں قابلِ فہم ہے، لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ یہی شدت پسندانہ طرز فکر پاکستانی میڈیا، خاص طور پر اردو صحافت پر بھی غالب ہے۔ اشتعال انگیز بیانات صفحہ اول کی سرخی بن جاتے ہیں، ذاتی کالموں میں جگہ پاتے ہیں، اور اداریوں کا حصہ بن جاتے ہیں۔ اردو صحافت پر خاص طور پر جماعت اسلامی کا غلبہ ہے، اور کالم نگار عبدالقادر حسن حسن جیسے لوگ فخر سے خود کو ’مولانا مودودی کے پاؤں کی خاک‘کہتے ہیں۔ اس لیے کوئی تعجب نہیں اگر جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد چار کالموں پر محیط بیان میں یہ اعلان کریں کہ ’مسلمانوں کو اُس وقت تک سکون سے نہیں بیٹھنا چاہیے جب تک ہم امریکہ اور بھارت کو تباہ نہ کر دیں۔‘

اگرچہ پاکستان کی مساجد اور میڈیا پر حافظوں اور قاضیوں کا غلبہ رہا، تاہم خوش قسمتی سے پاکستان کے عام لوگوں کے دل و دماغ ہمیشہ درویش شاعروں کے گرویدہ رہے، جن میں فیض، دامن، جالب اور ایازجیسے شاعر شامل ہیں۔

ملتے ہیں امن کے شاعروں سے

فیض احمد فیض کو 1962 میں لینن امن انعام سے نوازا گیا۔ وہ ایسی عظیم المرتبت شخصیت بن چکے ہیں کہ آج جماعت اسلامی کے پوسٹرز پر بھی اُن کے اشعار چھپتے ہیں، اور دائیں بازو کا اخبار نوائے وقت اُن کی سالگرہ پر خصوصی اشاعت نکالتا ہے حالانکہ ان کی زندگی میں ان سے ایسا کوئی سلوک نہ تھا! وہ ہمیشہ حکمرانوں کے لیے ایک مستقل اذیت کا باعث رہے۔ اسی لیے انہیں بار بار قید کیا گیا اور جلاوطنی پر مجبور ہونا پڑا۔ عوام میں اُن کی بے پناہ مقبولیت کے باعث ریاست نے انہیں ساتھ ملانے کی کوشش کی، لیکن فیض کا انسان دوستی پر مبنی نظریہ اور امن سے وابستگی اس منصوبے سے ہم آہنگ نہ ہو سکی،جو مذہبی ریاست بنانے پر مبنی تھا۔ جمہوری عمل کے ذریعے اتحاد پیدا کرنے سے قاصر اوربندوق کی نوک پر اقتدار قائم رکھنے والے حکمران اندرونی اختلافات کو مٹانے کے لیے بیرونی دشمن، یعنی ’ہندو بھارت‘کو تراش رہے تھے۔ فیض نے اس قوم پرستی پر مبنی منصوبے کا حصہ بننے سے صاف انکار کر دیا چنانچہ جب پاکستان نے 1965 یا 1971 میں بھارت سے جنگ کی تو اس وقت فیض نے امن کا پرچم تھامے رکھا اور محب وطن نعروں کی دوڑ میں شامل نہ ہوئے۔

ان دونوں جنگوں کو یاد کرتے ہوئے فیض نے بعد میں کہا:

”یہ دونوں میرے لیے سخت ادوار تھے کیونکہ مجھ پر جنگی ترانے لکھنے کا شدید دباؤ تھا۔تاہم میں نے صاف کہہ دیاکہ ’دیکھو بھئی، میں کوئی جنگی ترانہ نہیں لکھوں گا!‘ وہ بولے: ’کیوں نہیں؟ یہ تمہارا قومی فریضہ ہے۔‘ میں نے کہا: ’اول تو میں ان جنگوں کو انسانی جانوں کے بے فائدہ ضیاع سے تعبیر کرتا ہوں اور دوم، مجھے معلوم ہے کہ پاکستان کو ان جنگوں سے کچھ حاصل نہیں ہونے والا۔ اس لیے میں جنگی ترانے نہیں لکھوں گا‘۔“

فیض نے ان دونوں جنگوں کے دوران امن کے لیے نظمیں ضرور لکھیں۔ 1965ء کی جنگ کے دوران انہوں نے ایک شہید فوجی کے لیے مرثیہ لکھی، اور ساتھ ہی ’اندھیرا‘بھی:

”اندھیرا
جب سے چراغ بجھے ہیں،
آنکھوں میں اجالا لانے کی تدبیر کر رہا ہوں،
مگر میری آنکھیں،
خدا جانے کہاں کھو گئی ہیں۔
جو مجھے جانتے ہو، بتاؤ
میں کون ہوں؟
کون دوست ہے؟
کون دشمن؟
میرے رگ و پے میں
ایک خونی دریا جاری ہے،
اور اس میں صرف نفرت بہتی ہے۔
ذرا صبر کرو،
دور کہیں اور سے
ایک چمک آئے گی
جیسے موسیٰ کے ہاتھ کی سفید روشنی،
میری آنکھوں کے ساتھ،
میرے کھوئے ہوئے ہیرے واپس لائے گی“

دوسری جنگ (1971ء) کے دوران انہوں نے’مجھ سے دور رہو‘اور ’نفرت کی دھول میری آنکھوں میں‘جیسی نظمیں لکھیں۔ یہ آخری نظم مشرقی پاکستان کے نقطہ نظر سے لکھی گئی تھی (جو بعد میں آزاد ہو کر بنگلہ دیش بن گیا)، جہاں خاکی وردی والے، جماعت اسلامی کی ملیشیاؤں کی مدد سے ایک منصوبہ بند نسل کشی میں مصروف تھے۔ مغربی پاکستان سے تعلق رکھنے والے فیض احمد فیض نے اس قتل عام کو اپنے نام پر قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے کہا:

”سجے تو کیسے سجے قتل عام کا میلہ
کسے لبھائے گا میرے لہو کا واویلا
مرے نزار بدن میں لہو ہی کتنا ہے
چراغ ہو کوئی روشن نہ کوئی جام بھرے
نہ اس سے آگ ہی بھڑکے نہ اس سے پیاس بجھے
مرے فگار بدن میں لہو ہی کتنا ہے
مگر وہ زہر ہلاہل بھرا ہے نس نس میں
جسے بھی چھیدو ہر اک بوند قہر افعی ہے
ہر اک کشید ہے صدیوں کے درد و حسرت کی
ہر اک میں مہر بلب غیظ و غم کی گرمی ہے
حذر کرو مرے تن سے یہ سم کا دریا ہے
حذر کرو کہ مرا تن وہ چوب صحرا ہے
جسے جلاؤ تو صحن چمن میں دہکیں گے
بجائے سرو و سمن میری ہڈیوں کے ببول
اسے بکھیرا تو دشت و دمن میں بکھرے گی
بجائے مشک صبا میری جان زار کی دھول
حذر کرو کہ مرا دل لہو کا پیاسا ہے“

فیض کے اپنے الفاظ میں:”ظاہر ہے اس بات نے ان لوگوں کو اور بھی غضب ناک کر دیا چنانچہ کچھ دنوں کے لیے مجھے سندھ میں روپوش ہونا پڑا تاکہ اپنے محب وطن دوستوں کے قہر سے بچ سکوں۔“

فیض صرف سندھ میں پناہ نہیں لے رہے تھے۔ شیخ ایاز کو بھی وہاں روپوش ہونا پڑا۔ جدید دور کے سب سے بڑے سندھی زبان کے شاعر سمجھے جانے والے شیخ ایاز نے بھی جنگ کے نعروں میں شامل ہونے سے انکار کر دیا۔ اس کی بجائے انہوں نے بھارت کے پار رہنے والے اپنے ہندو دوست اور سندھی شاعر نرائن شیام سے مخاطب ہو سندھی میں جو نظم لکھی اس کا اردو ترجمہ درج ذیل ہے:

”یہ جنگ! میرے سامنے نرائن شام ہے!
اس کے اور میرے قول ایک جیسے ہیں، وعدے ایک جیسے
وہ شاعری کا بادشاہ ہے، مگر میرے خوابوں کے رنگ بھی ویسے ہی ہیں
ظلم بھی وہی، دکھ بھی وہی، دل بھی وہی، درد بھی وہی
تو پھر اس پر بندوق کیسے اٹھا سکتا ہوں!
میں اس پر گولی کیسے چلا سکتا ہوں!
کیسے چلا سکتا ہوں! کیسے چلا سکتا ہوں! کیسے چلا سکتا ہوں!“
لاہوری پنجابی استاد دامن انڈین نیشنل کانگریس کے رکن تھے۔ نہرو کی دعوت کے باوجود وہ بھارت منتقل نہ ہوئے۔ وہ اپنے خطرناک اشعار کی وجہ سے خاکی وردی والوں اور جمہوری طور پر منتخب بھٹو دونوں کے ہاتھوں قید بھی ہوئے۔ ان کی شاعری پاکستان بھر میں سنی جاتی تھی:
”واہگے نال اٹاری دی نئیں ٹکر
نہ گیتا نال قرآن دی اے
نہ کفر اسلام دا کوئی جھگڑا
ساری گل اے نفع نقصان دی اے“

خوش قسمتی سے واہگہ کے اس پار بھارت میں ساحر لدھیانوی (جو لینن امن ایوارڈیافتہ بھی تھے) نے دامن، فیض اور ایاز کے جذبات کی ترجمانی کی:

”خون اپنا ہو یا پرایا ہو
نسلِ آدم کا خون ہے آخر
جنگ مشرق میں ہو کہ مغرب میں
امنِ عالم کا خون ہے آخر
بم گھروں پر گریں کہ سرحد پر
روحِ تعمیر زخم کھاتی ہے
کھیت اپنے جلیں کہ اوروں کے
زیست فاقوں سے تلملاتی ہے
ٹینک آگے بڑھیں کہ پیچھے ہٹیں
کوکھ دھرتی کی بانجھ ہوتی ہے
فتح کا جشن ہو کہ ہار کا سوگ
زندگی میّتوں پہ روتی ہے
جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے
جنگ کیا مسئلوں کا حل دے گی
آگ اور خون آج بخشے گی
بھوک اور احتیاج کل دے گی
اس لئے اے شریف انسانو!
جنگ ٹلتی رہے تو بہتر ہے
آپ اور ہم سبھی کے آنگن میں
شمع جلتی رہے تو بہتر ہے
برتری کے ثبوت کی خاطر
خوں بہانا ہی کیا ضروری ہے
گھر کی تاریکیاں مٹانے کو
گھر جلانا ہی کیا ضروری ہے
جنگ کے اور بھی تو میداں ہیں
صرف میدانِ کشت وخوں ہی نہیں
حاصلِ زندگی خِرد بھی ہے
حاصلِ زندگی جنوں ہی نہیں
آؤ اس تیرہ بخت دنیا میں
فکر کی روشنی کو عام کریں
امن کو جن سے تقویت پہنچے
ایسی جنگوں کا اہتمام کریں
جنگ، وحشت سے بربریّت سے
امن، تہذیب و ارتقا کے لئے
جنگ، مرگ آفریں سیاست سے
امن، انسان کی بقا کے لئے
جنگ، افلاس اور غلامی سے
امن، بہتر نظام کی خاطر
جنگ، بھٹکی ہوئی قیادت سے
امن، بے بس عوام کی خاطر
جنگ، سرمائے کے تسلّط سے
امن، جمہور کی خوشی کے لئے
جنگ، جنگوں کے فلسفے کے خلاف
امن، پُر امن زندگی کے لئے“

(ترجمہ: حارث قدیر)

Farooq Sulehria

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں