روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

شریک مدیر جدوجہد حارث قدیر کو پولیس نے پھر محبوس رکھنے کے بعد رہا کر دیا

شریک مدیر جدوجہد حارث قدیر کو پولیس نے پھر محبوس رکھنے کے بعد رہا کر دیا

گذشتہ روز جدوجہد کے شریک مدیر حارث قدیر کو راولا کوٹ میں مقامی پولیس نے ایک ریستوران میں دو گھنٹے محبوس رکھا۔ ان سے پوچھ گچھ کی گئی اور جب مقامی سول سوسائٹی کے علاوہ سیاسی رہنماوں نے مداخلت کی تو اس دھمکی کے بعد انہیں جانے کی اجازت دی گئی کہ ان کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے گا۔

حارث قدیر کو گذشتہ بدھ،راولاکوٹ سے گرفتار کر لیا گیا تھا مگر چند گھنٹے بعد رہا کر دیا گیا۔ حارث قدیر جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے سابق ترجمان اور عوامی حقوق تحریک کے چارٹر آف ڈیمانڈ کے خالق بھی ہیں۔راولا کوٹ کی سول سوسائٹی اور صحافی برادری کی مداخلت اور زبردست احتجاج کے بعد، انہیں رہا کر دیا گیا۔ اپنی رہائی کے بعد، انہوں نے اپنے فیس بک پر لکھا:

”گرفتاری کے خلاف احتجاج ریکارڈ کروانے، رہائی کا مطالبہ کرنے اور یکجہتی کا اظہار کرنے والے تمام بزرگوں،دوستوں، ساتھیوں اور عزیزوں کا بے حد شکریہ۔ آپ سب کی کاوش ہی تھی کہ چند گھنٹوں میں ہی مجھے غیر مشروط رہا کر دیا گیا۔

بغیر ایف آئی آر اور کسی ٹھوس وجہ کے چار گھنٹے گرفتار کر کے حبس بے جا میں رکھنے کا عمل غیر قانونی اور غیر آئینی تھا۔ کسی کے پاس کوئی ٹھوس وجہ نہیں تھی۔ جن سوشل میڈیا پوسٹوں کو وجہ بنایا گیا تھا، وہ نہ میں نے کیں اور نہ پولیس افسران نے ان سے متعلق کوئی ریکارڈ دیا۔ البتہ یہ کوشش کی گئی کہ میں یہ لکھ کر دوں کہ میں آئندہ سوشل میڈیا پر ایسی تحریریں نہیں لکھوں گا۔ تاہم یہ نہیں بتایا جارہا تھا کہ کیسی تحریریں نہیں لکھنی ہیں۔ اس لیے ہم نے کچھ لکھ کر دینے سے انکار کیا۔

دھونس اور دباؤ کی وجہ سے خبر، تجزیے اور تبصرے سے باز رکھنے کی کوشش نہ پہلے تسلیم کی نہ آئندہ ایسا کوئی پروگرام ہے۔ غیر قانونی گرفتاری اور ماورائے قانون حبس بے جا میں رکھے جانے کے پس پردہ مقاصد کو سامنے لایا جائے۔ اس اقدام کے ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کی جائے۔ انتظامیہ اور پولیس کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرنے والے عناصر بھی اپنی اداؤں پر غور کریں۔“

وہ گزشتہ دو دہائیوں سے ریاستی جبر، معاشی ناانصافی، محکوم قومیتوں، طلبہ اور محنت کش طبقے کے مسائل پر مسلسل لکھتے اور آواز بلند کرتے آ رہے ہیں۔ ان کی تحریریں اور تجزیے مختلف قومی و بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر شائع ہوتے رہے ہیں۔

ان کی گرفتاری کے فوری بعد،صحافتی و سماجی حلقوں نے حارث قدیر کی گرفتاری کو آزادیِ صحافت پر حملہ قرار دیتے ہوئے فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست اختلاف رائے کو برداشت کرنے کی بجائے دبانے کی کوشش کر رہی ہے، اور حارث قدیر کی گرفتاری اسی پالیسی کا تسلسل ہے۔

ان حلقوں کا کہنا تھا کہ سچ بولنے والوں کو خاموش کر دینا مسئلے کا حل نہیں بلکہ مزید عوامی بیچینی اور جمہوری اداروں پر سوالات کو جنم دیتا ہے۔ حارث قدیر کی گرفتاری سے نہ صرف صحافی برادری میں غم و غصہ پایا گیا بلکہ انسانی حقوق کے کارکنان بھی اس اقدام پر شدید نکتہ چینی کی۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں