روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

شٹر ڈاون کا 7 واں دن، خواتین کی تاریخی شمولیت، لانگ مارچ نے ریاست کو چکرا دیا - روزنامہ جدوجہد

شٹر ڈاون کا 7 واں دن، خواتین کی تاریخی شمولیت، لانگ مارچ نے ریاست کو چکرا دیا - روزنامہ جدوجہد

راولا کوٹ( جدوجہد رپورٹ)گذشتہ روز پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں شٹر ڈاون اور عام ہڑتال کا ساتواں دن ثابت ہوا۔ نہ صرف پوری ریاست میں بازار اور دکانیں بند رہیں بلکہ سڑکوں سے ٹریفک غائب تھی جبکہ ریاست کی جانب سے انٹرنیٹ پر پابندی جاری رہی۔عام ہڑتال نے زندگی مفلوج کر دیاور حالات کشیدگی کا شکار رہے۔

جمعرات کی شب کمشنر پونچھ کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ راولا کوٹ شہر کی سرحد پر، دریک کے مقام پر دیا گیا دھرنا منتشر کر دیا گیا ہے لیکن گذشتہ روز صبح دم، ہزاروں مظاہرین دھرنے کے مقام پر دوبارہ جمع ہو گئے۔یہ شرکاء در اصل اُس لانگ کا مارچ کا حصہ ہیں جس کا آغاز ۹ مارچ کو بھمبھر سے ہوا تھا۔

گوریلا حکمت عملی نے حکام کو چکرا کے رکھ دیا:

گو جمعرات کی شام ریاستی حکام چند مظاہرین کو گرفتار کرنے میں ضرور کامیاب ہو سکے لیکن دھرنے کے شرکاء بڑی تعداد میں، جمعرات کی شام، کامیابی سے پہاڑوں اور جنگلوں میں گوریلا انداز میں منتشر ہو گئے۔ جمعرات کے روز ، کالعدم قرار دی گئی جائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے دو مرکزی رہنماوں،عمر نزیر اور سردار امان نے بھی دریک میں دھرنے سے خطاب کیا۔ یاد رہے، ان دونوں کی گرفتاری یا مخبری پر ریاست نے ایک کروڑ روپے کے انعام کا اعلان کر رکھا ہے۔ ان دونوں کی تقاریر کے ویڈیو کلپ مسلسل سوشل میڈیا پر شئیر کئے جا رہے ہیں۔ تقاریر کے بعد، یہ دونوں رہنما روپوش ہو گئے۔ اسی طرح، جائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنما شوکت کشمیری بھی روپوش ہیں۔ ان کی مخبری پر بھی ایک کروڑ کی انعامی رقم کا اعلان کیا گیا ہے۔ قیادت کی دھرنے میں شرکت اور روپوشی یا دھرنے کا گوریلا انداز میں کامیابی سے منتشر ہونے کے بعد اگلی صبح مجتمع ہوناریاستی اداروں کے لئے ایک ایسا چیلنج بن گیا ہے جس نے حکام کو چکرا کے رکھ دیا ہے۔

خواتین کی دھرنے میں تاریخی شرکت:

گذشتہ روز،دریک میں جاری دھرنے میں خواتین نے بھی شرکت کی۔ سینکڑوں خواتین پر مشتمل ایک جلوس نے دھرنے کے مقام پر شمولیت اختیار کی۔ اس سے قبل، ریاست کے بعض قصبوں سے خواتین اور بچوں کے جلوس کی فوٹیج سوشل میڈیا پر گردش کر رہی تھی لیکن گذشتہ روز دھرنے میں باقاعدہ شمولیت کی ویڈیو فوٹیج اور تصاویر کو بڑے پیمانے پر شئیر کیا گیا۔

1990 کی دہائی کے بعد، پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں اس بڑے پیمانے پر عوامی موبلائزیشن دیکھنے میں آئی ہے لیکن عوامی اجتماعات میں خواتین کی ایسی شمولیت پہلی بار دیکھنے میں آئی ہے۔جموں کشمیر سے تعلق رکھنے والے عمیر خورشید اور جدوجہد کے مضمون نگار،عمیر خورشید نے دھرنے میں خواتین کی شرکت بارے بات کرتے ہوئے اپنے فیس بک پر لکھا:

’’تحریک میں خواتین کی شمولیت اسے مزید طاقت اوروسعت دے گی۔یہ بہت پہلے ہو جاتا تو بہتر تھا۔۔۔آبادی کے نصف حصے کو گھر میں رکھ کر آپ کوئی تحریک آگے نہیں بڑھا سکتے‘‘۔

ماخذ: jeddojehad.com

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں