روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

علی وزیر کے خلاف دوسرا مقدمہ خارج کرنے کی درخواست پر سماعت 31 مارچ کو ہو گی

علی وزیر کے خلاف دوسرا مقدمہ خارج کرنے کی درخواست پر سماعت 31 مارچ کو ہو گی

لاہور(جدوجہد رپورٹ)سابق رکن قومی اسمبلی علی وزیر کی قانونی ٹیم نے ہفتے کے روز سندھ ہائی کورٹ کے حیدرآباد سرکٹ بینچ میں ایک آئینی درخواست دائر کی ہے، جس میں دادوپولیس کی جانب سے درج کی گئی دوسری ایف آئی آر کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔

’وائس پی کے‘ کے مطابق علی وزیر کے وکیل امداد حیدر سولنگی نے بتایا کہ جسٹس ریاضت سحر اور جسٹس عدنان اقبال چوہدری پر مشتمل بینچ 31 مارچ کو اس درخواست پر سماعت کرے گا۔ اس سے قبل پہلی ایف آئی آر کی منسوخی سے متعلق علیحدہ درخواست 30 مارچ کو ایک اور بینچ کے روبرو سنی جائے گی۔

دوسری ایف آئی آر 17 مارچ کو تھانہ بی سیکشن دادو میں درج کی گئی۔ اس میں الزام ہے کہ علی وزیر نے پولیس پر مسلح حملہ کروانے اور سرکاری کام میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے اپنے کارکنوں کو اکسانے کی ہدایت کی۔ ایف آئی آر کے مطابق پولیس نے 25 سے 27 افراد کو پی ٹی ایم کے جھنڈے اٹھائے، چہرے ڈھانپے، سڑک بند کیے اور حکومت مخالف نعرے لگاتے دیکھا، جو علی وزیر کی رہائی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ پولیس کے منتشر ہونے کے کہنے پر مبینہ طور پر مظاہرین نے جواب دیا کہ انہیں وزیر نے ہدایت دی ہے کہ گڑبڑ پیدا کریں اور آئندہ گرفتاری کی کوشش کی مزاحمت کریں۔ ایف آئی آر کے مطابق اضافی نفری پہنچنے پر مظاہرین نے پولیس پر فائرنگ کی جس کے جواب میں پولیس نے جوابی کارروائی کی اور بعد ازاں ملزمان فرار ہو گئے۔

پہلی ایف آئی آر اے ایس آئی نذر علی لغاری نے 16 مارچ کی رات ساڑھے 9 بجے بجے تھانہ اے سیکشن دادو میں درج کرائی۔ یہ وہی دن تھا جب سندھ ہائی کورٹ کے حکم پر علی وزیر کو سکھر سینٹرل جیل سے رہا کیا گیا تھا۔ اس مقدمے میں سیکشن 123A، 124A، 124B تعزیرات پاکستان اور انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعات 6 اور 7 شامل کی گئیں۔ الزام یہ ہے کہ وزیر کے کہنے پر ایک گروہ نے سڑک بلاک کی، پی ٹی ایم کے جھنڈے اور اسلحہ اٹھایا، ریاست اور پاک فوج مخالف نعرے لگائے اور پولیس پر فائرنگ کر کے فرار ہو گیا۔

علی وزیر پہلے ہی 26 مارچ کو سکھر بینچ میں اس ایف آئی آر کے خلاف آئینی درخواست دائر کر چکے ہیں۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ تازہ ایف آئی آر بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے جسے وزیر کی قانونی ٹیم ”جوڈیشلی انجینئرڈ ڈٹینشن“ قرار دیتی ہے۔

2014 سے علی وزیر کے خلاف سندھ کے مختلف اضلاع میں دہشت گردی اور بغاوت کے متعدد مقدمات دائر کیے گئے، جبکہ پنجاب، سندھ، اسلام آباد اور بلوچستان میں ایم پی او کے تحت کم از کم تین نظر بندی کے احکامات بھی جاری کیے گئے۔ وکلا کے مطابق جب بھی ایک عدالت ضمانت دیتی یا نظر بندی کالعدم کرتی، فوراً کسی دوسرے ضلع سے نیا حکم جاری کر دیا جاتا۔

علی وزیر کو سکھر جیل میں دادو، سکھر، نوشہرو فیروز اور نوابشاہ میں درج متعدد دہشت گردی کے مقدمات میں قید رکھا گیا تھا۔انسداد دہشت گردی کی عدالت سکھر نے اگست اور ستمبر 2025 میں دو مقدمات میں انہیں بری کر دیا۔تیسری ایف آئی آر نوشہرو فیروز میں عدالت نے دہشت گردی کی شرط پوری نہ ہونے پر منسوخ کر دی۔

چوتھا مقدمہ پیکا کے تحت نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے تفتیش کے بعد 3 مارچ 2026 کو یہ قرار دیا کہ وزیر نے کوئی جرم نہیں کیا۔اس کے بعد سندھ ہائی کورٹ نے 10 مارچ 2026 کو ان کی رہائی کا حکم دیا۔ درخواست میں الزام ہے کہ 16 مارچ کی شام رہائی کے فوراً بعد علی وزیر گھر پہنچے ہی تھے کہ ساڑھے9 سے 10 بجے کے درمیان پولیس اور سادہ لباس اہلکار بڑی تعداد میں سرکاری گاڑیوں میں آئے، انہیں زبردستی اٹھا کر لے گئے، موبائل فون قبضے میں لیے، موجود افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا، اور اہل خانہ کو عدالت جانے سے باز رہنے کی دھمکیاں دیں۔

ان کی گمشدگی دو روز تک برقرار رہی، جب تک 18 مارچ کو سکھر کی ضلعی عدالت میں درخواست دائر نہ کی گئی۔ اگلے دن سندھ ہائی کورٹ میں بھی آئینی درخواست جمع کروائی گئی۔ 19 مارچ کو انہیں نوشہرو فیروز کی انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کیا گیا۔

امداد حیدر سولنگی کے مطابق دادو ڈسٹرکٹ جیل میں ملاقات کے دوران علی وزیر نے حوصلہ برقرار رکھا ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ”طویل اور ناجائز قید کے باوجود میں نے انہیں پرسکون، ثابت قدم اور مضبوط پایا۔ان کا حوصلہ کمزور نہیں ہوا۔“ تاہم ان کا کہنا تھا کہ وزیر کی صحت بگڑ رہی ہے اور جیل میں مناسب طبی سہولیات کی کمی آئین کے آرٹیکل 9 (حق زندگی) کی خلاف ورزی کے زمرے میں آ سکتی ہے۔

آئینی درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ ایف آئی آر نمبر 40/2026 کو کالعدم قرار دیا جائے،تفتیشی افسر کو چالان جمع کرانے سے روکا جائے،اور آئی جی سندھ کو حکم دیا جائے کہ ماتحت پولیس اہلکار آئندہ بلاجواز نئی ایف آئی آر درج نہ کریں۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں