روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

عوامی ٹربیونل کا آئی ایم ایف اور عالمی بینک کی نقصان دہ پالیسیاں فوری روکنے کا مطالبہ

عوامی ٹربیونل کا آئی ایم ایف اور عالمی بینک کی نقصان دہ پالیسیاں فوری روکنے کا مطالبہ

کھٹمنڈو(پ ر)بین الاقوامی عوامی ٹربیونل بمقابلہ عالمی بینک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے اپنی تیسری سماعت مکمل کی، جس میں آئی ایم ایف اور عالمی بینک کی نقصان دہ پالیسیوں کو روکنے کا مطالبہ کیا گیا۔ 15 اور 16 مارچ کو منعقد ہونے والے دو روزہ ٹربیونل میں گواہوں نے ان اداروں کی دہائیوں پر محیط تباہ کاریوں کی گواہی دی اور ان کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔

عالمی بینک کے خلاف دس الزامات میں بنیادی خدمات جیسے تعلیم کے حق کی خلاف ورزی شامل تھی، کیونکہ یہ نجکاری کو فروغ دیتا ہے۔ مزید برآں، عوامی مفاد کی بجائے کارپوریٹ اور منافع پر مبنی ترجیحات کو فوقیت دینا، حکومتوں پر کفایت شعاری اور قرضے کی سخت شرائط عائد کرنا، فوسل فیول منصوبوں کے لیے قرضے فراہم کر کے ماحولیاتی بحران کو بڑھاوا دینا، عدم مساوات کو مزید گہرا کرنا اور گلوبل ساؤتھ کے لیے مزید قرضوں کا بوجھ بڑھانا بھی شامل تھا۔

بنگلہ دیش، سری لنکا، پاکستان، بھارت، نیپال اور انڈونیشیا کے وکلاء اور گواہوں نے آئی ایم ایف اور عالمی بینک کو ان الزامات کا جوابدہ ٹھہرایا۔ تاہم بار بار نوٹس دیے جانے کے باوجود آئی ایم ایف اور عالمی بینک حاضر نہ ہوئے۔

300 سے زائد عوامی تحریکوں کے رہنما، انسانی حقوق کے کارکن، کسان، تجارتی یونینز، قانونی ماہرین، ماحولیاتی انصاف کے حامی، مقامی کمیونٹی رہنما اور نوجوان نمائندے نیپال، بھارت، بنگلہ دیش، پاکستان، سری لنکا، فلپائن، انڈونیشیا اور ملائیشیا سے عوامی ٹربیونل میں شریک ہوئے۔

یہ عوامی ٹریبیونل آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے خلاف منعقد ہونے والے سلسلے کی تیسری سماعت تھی، جو پہلے فلپائن کے شہر منیلا اور بھارت کے شہر کولکتہ میں منعقد ہوچکی ہے۔ کھٹمنڈومیں ہونے والی سماعت کی صدارت کرنے والے ججز میں ڈاکٹر بیلا بھاٹیا (بھارت، انسانی حقوق کی کارکن)، ڈاکٹر روی شرما آریال (نیپال، سابق ہائی کورٹ جج)، ڈاکٹر امالی چمنڈیکا ویڈیگیڈارا (سری لنکا، انسانی حقوق کی کارکن)، محمد شاہ جہاں صدیقی (بنگلہ دیش، قانونی ماہر معاشیات)، ایڈووکیٹ حیدر علی بٹ (پاکستان) اور موہنا انصاری (نیپال، سابق ممبر انسانی حقوق کمیشن) شامل تھے، جبکہ بین الاقوامی ججز نے آن لائن شرکت کی۔

دو روزہ عوامی ٹربیونل سے قبل 200 سے زائد افراد نے عالمی بینک، نیپال کے دفتر تک مارچ کیا اور خطے کے عوامی تحریکوں کے رہنماؤں نے ’بین الاقوامی مالیاتی فنڈ/عالمی بینک کے خلاف مطالباتی خط‘ کاٹھمنڈو میں عالمی بینک کے ایڈمنسٹریٹو افسر کے حوالے کیا۔

بین الاقوامی عوامی ٹربیونل بمقابلہ عالمی بینک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا یہ عمل عوامی تحریکوں، تجارتی یونینوں، کسانوں، خواتین کے گروہوں اور سول سوسائٹی تنظیموں (CSOs) کی جانب سے شروع کیا گیا ہے، جسے ایشین پیپلز موومنٹ آن ڈیٹ اینڈ ڈیولپمنٹ (APMDD) کی قیادت حاصل ہے، جو قرض اور تباہی کے 80 سال مکمل ہونے پر عمل میں آیا۔

جیوری نے اپنے کلیدی مشاہدات میں کہا کہ آئی ایم ایف اور عالمی بینک کی نیولبرل پالیسیوں، جیسے نجکاری اور تجارتی آزادی، نے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی ہے، عدم مساوات کو بڑھایا ہے، جھوٹے حل تجویز کیے ہیں، ماحولیاتی بحران کو مزید شدید کیا ہے اور کارپوریٹ منافع کو فروغ دیا ہے۔ ان کی پالیسیاں اور قرضوں کی شرائط گلوبل ساؤتھ میں خواتین اور پسماندہ کمیونٹیز کے لیے شدید نقصان دہ ثابت ہوئی ہیں۔

کھٹمنڈوو ہب میں بین الاقوامی عوامی ٹربیونل بمقابلہ عالمی بینک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا حتمی فیصلہ منیلا فلپائن اور کولکتہ بھارت میں ہونے والے عوامی ٹربیونلز کے فیصلوں کے ساتھ مل کر اکتوبر 2025 میں واشنگٹن ڈی سی امریکہ میں ان اداروں کی سالانہ میٹنگز کے دوران سنایا جائے گا۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں