روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

غربت زکات سے ختم ہو سکتی ہے نہ انکم ٹیکس سے

غربت زکات سے ختم ہو سکتی ہے نہ انکم ٹیکس سے

عمیر خورشید

پاکستان جیسے معاشروں میں ہر چند سال بعدجماعت اسلامی جیسی مذہب کے نام پر سیاست کرنے والی جماعتوں، بعض مذہبی مفکرین اور یہاں تک کے کچھ ترقی پسندی کا دعوی کرنے والے لوگ اکثر و بیشتر معاشی مسائل کے حل کے لیے سرمایہ داری کو مذہبی بنیادوں پر چلانے کا مشورہ دیتے ہوئے لوگوں کو امید دلاتے ہیں۔ اس سلسلے میں درمیانے طبقے کے کچھ حلقے سب سے زیادہ متحرک نظر آتے ہیں۔ دعویٰ یہ کیا جاتا ہے کہ اگر زکوۃ کو صحیح طریقے سے نافذ کیا جائے تو غربت ختم ہو جائے گی۔اس کی ایک متوازی صورت یہ بھی ہے کہ اگر ہم امیروں پر سخت ٹیکس لگا دیں،اور اگر حکومتیں موجودہ قوانین پر صحیح عملدرآمد کروائیں، تو سرمایہ داری انصاف کی طرف مائل ہو جائے گی۔ یہ دونوں خیالات دل کو بہلانے والے ہیں، اور دونوں غلط ہیں۔

زکوۃ قبل از سرمایہ دار ی عہد کا ایک طریقہ کار تھا۔ سرمایہ دارانہ نظام کی تباہی کو محض سوشلسٹ طریقہ کار اور اقدامات سے ہی روکا جا سکتا ہے۔ زکوۃ اور انکم ٹیکس سوشلسٹ اصول نہیں ہیں، اور نہ ہی ان میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ سرمایہ دارانہ نظام ملکیت کی بنیادی ساخت کو تبدیل کر سکیں۔ یہ دونوں نظام کو توڑنے کے نہیں بلکہ زیادہ سے زیادہ سرمائے کے بہاؤ کو قابو میں رکھنے کے آلات ہیں۔ یہ ایسے نظام کے اندر کام کرتے ہیں جہاں دولت کا بڑا حصہ ایک محدود طبقے کے ہاتھ میں مرتکز رہتا ہے، جبکہ عوام کو بغاوت سے روکنے کے لیے کچھ نقدی یا سہولیات تقسیم کی جاتی ہیں۔ مسئلہ ان کے نفاذ کا نہیں بلکہ ان کی نوعیت کا ہے، کہ یہ کیا ہیں، ان کا مقصد کیا تھا، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ یہ کس چیز کونقصان نہیں پہنچاسکتے۔

زکوۃ مخصوص اقسام کی دولت پر عائد ہوتی ہے، جس میں نقدی، سونا چاندی، تجارتی مال، زرعی پیداوار، اور مویشی وغیرہ شامل ہیں، یعنی وہ دولت جو مادی ہو، قابل پیمائش ہو، اور فوری دستیاب ہو۔ یہ جدید سرمایہ داری میں رائج بیشتر اثاثوں پر لاگو نہیں ہوتی۔ رہائشی جائیداد پر کوئی زکوۃ نہیں، زمین پر بھی نہیں (جب تک وہ فصل نہ دے)، گاڑیوں، اوزاروں، یا زیورات پر کوئی زکوۃ نہیں، سوائے احناف کے نزدیک، جو ذاتی سونا چاندی پر زکوۃ کو لازم سمجھتے ہیں۔

زکوۃ کسی شخص کی’خالص مالیت‘پر لاگو نہیں ہوتی۔ یہ کسی کی کوٹھی کی ممکنہ مارکیٹ ویلیو پر نہیں نکالی جاتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ زکوۃ اس چیز پر نہیں لی جا سکتی جس کو ناپا یا تبدیل نہ کیا جا سکے۔ اکثر لوگ جو زکوۃ کو سوشلسٹ اصول کے طور پر پیش کرتے ہیں، وہ اس بنیادی بات کو نظرانداز کرتے ہیں کہ اس کا مقصد طبقات کو برابر کرنا نہیں بلکہ پیسے کو گردش میں رکھنا ہے۔

زکوۃ اپنی اصل شکل میں ابتدائی زرعی و تجارتی معاشروں میں ذخیرہ اندوزی کے ایک مادی مسئلے کا حل تھی، جہاں دولت ہاتھ میں محسوس کی جا سکتی تھی اور اس کا حساب لگایا جا سکتا تھا۔ اس دور میں معیشت قیاسی مال کی بجائے زیادہ تر حقیقی مال پر مشتمل تھی۔ تاجر کی دولت اس کے مال میں، کسان کی دولت اناج میں، اور سوداگر کی دولت سکوں میں ہوتی تھی۔ زکوۃ موثر اس لیے تھی کہ یہ ان اشیاء پر لاگو ہوتی تھی جن کی اندرونی قدر اور فوری تبادلہ ممکن تھا۔

آپ زکوۃ کومحض شیئرز، بانڈز یا مالیاتی آلات جیسے نئے زمرے شامل کر کے جدید نہیں بنا سکتے۔ ایسا کرنا جدید دولت کی نوعیت کو نظرانداز کرنا ہے۔ یہ اثاثے مستحکم نہیں ہوتے، ان کی قدر ہر لمحے بدلتی ہے، اور انہیں اکثر نقصان کے بغیر نقد میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ مجرد اثاثوں پر زکوۃ دینا گویا سائے پر ٹیکس لگانا ہے۔ جب تک مالیاتی سرمایہ فروخت نہ ہو، اس وقت تک نہ کوئی نقدی ہے، نہ کوئی یقین، اور نہ ہی کوئی ٹھوس بنیاد جس پر 2.5 فیصد یا اس سے زیادہ زکوۃ لگائی جا سکے۔

یہی بات ہمیں انکم ٹیکس کی طرف لے جاتی ہے۔ یہاں بھی مسئلہ سیاسی عزم یا نفاذ کا نہیں ہے۔ موجودہ ٹیکس نظام ایسے ڈھانچے میں بنایا گیا ہے جو سطح سے کچھ کھینچ لیتا ہے مگر چوٹی کو نہیں چھوتا۔ آمدنی پر ٹیکس لگتا ہے، لیکن سرمایہ محفوظ رہتا ہے۔ آج کی دولت کا اصل انجن کہلانے والی قیاسی قدر عموماً تنہا چھوڑ دی جاتی ہے۔ ایلون مسک کی دولت 400 ارب ڈالر ہے، مگر وہ صرف اس دولت پر ٹیکس دیتا ہے جو آمدنی، منافع، یا فروخت شدہ اثاثوں کی صورت’حقیقتاً حاصل‘ ہوئی ہو۔ اس کی زیادہ تر دولت ’غیر مائع‘(غیر نقد پذیر) ہے اور اسٹاک میں پھنسی ہوئی ہے، جس کی قیمت تصوراتی، ردعمل پر مبنی، اور بیک وقت تبدیل نہ کیے جانے والی ہے۔ اگر وہ ایک ارب ڈالر کے ٹیسلا شیئرز فروخت کرے تو ان کی قیمت گر جائے گی اور قدر ختم ہو جائے گی۔ اس لیے اس پر ٹیکس نہیں لگتا، کیونکہ زکوۃ کی طرح، آپ اس چیز پر ٹیکس نہیں لگا سکتے جو عملی طور پر موجود نہ ہو۔

یہ مماثلت حیران کن ہے۔ زکوۃ اور انکم ٹیکس دونوں کا ہدف وہ دولت ہے جو قیاسی اثاثے یا اسٹرکچرل ملکیت کی بجائے قابل حصول اور نقد میں موجود ہو۔ یہ دونوں جدید دولت کی اس بڑی حد کو نہیں چھوتے جو مکمل طور پر مالیاتی، مجرد اور قیاسی نوعیت کی ہو چکی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام میں دولت اب سکوں کا صندوق یا سامان سے بھرا گودام نہیں بلکہ شیئرز، ڈیریویٹیوز، انڈیکسز، نجی ایکویٹی فنڈز، پراپرٹی اسپیکولیشن، علمی اثاثہ جات، اور ملکیتی دعوؤں پر مشتمل ایک جال ہے،جن کی حیثیت ہر لمحہ بدلتی ہے۔

آج کا ارب پتی وہ چیزیں نہیں ’رکھتا‘ جنہیں 1400 سال پرانے تاجر نے رکھا ہوتا تھا۔ وہ بہاؤ، حقوق، امکانات اور مستقبل کا مالک ہوتا ہے۔ اگر دولت کی بڑی مقدار تجریدی شکل میں موجود ہے، تو زکوۃ اور انکم ٹیکس جیسے وہ آلات جو شفافیت، استحکام اور قابل تبادلہ ہونے پر انحصارکرتے ہیں، ان تک رسائی حاصل نہیں کر سکتے۔ یہ محض علامتی اشارے بن کر رہ جاتے ہیں، جو مسائل کی جڑ کی بجائے صرف علامات پر وار کرتے ہیں۔

ہم ایک بنیادی غلط فہمی کی طرف واپس آتے ہیں۔ زکوۃ کبھی بھی دولت کی ازسرنو تقسیم کے لیے وضع نہیں کی گئی تھی۔ اسی طرح انکم ٹیکس بھی ریاستی آمدن کے لیے متعارف ہوا، نہ کہ نجی ملکیت پر سوال اٹھانے یا طبقاتی طاقت کو چیلنج کرنے کے لیے۔ جب یہ ’ترقی پسند‘ نظر آتا بھی ہے، تب بھی اس کی ساخت ایسی رکھی گئی ہے کہ سرمایہ کے بہاؤ کو جاری رکھا جائے، نہ کہ ان کے ماخذ کو چیلنج کیا جائے۔

ان دونوں میں ایک مشترکہ بات یہ ہے کہ یہ امیروں کے تعاون پر انحصار کرتے ہیں۔ زکوۃ رضاکارانہ طور پر دی جاتی ہے یا ریاستی نظام کے ذریعے، جو کم ہی احتساب کرتا ہے۔ ٹیکس وہی قانون ساز لکھتے ہیں، جنہیں ٹیکس دینا ہوتا ہے، اور وہی اس کے لیے فنڈنگ بھی کرتے ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی عدم مساوات کو اس کی جڑ سے حل کرنے کی صلاحیت یا اختیار نہیں رکھتا۔

حقیقی ازسرنو تقسیم صدقہ نہیں، ضبطی مانگتی ہے۔ اس کا تقاضا یہ ہے کہ پیداواری اثاثوں پر کنٹرول نجی ہاتھوں سے لے کر اجتماعی استعمال کے لیے منتقل کیا جائے۔ یہ نہ زکوۃ کا دائرہ ہے، نہ ٹیکس پالیسی کا ہدف۔ یہ ایک سیاسی منصوبہ ہے، مالیاتی نہیں۔

زکوۃ، انکم ٹیکس، اور تقسیم دولت کے سہانے خواب میں ایک مشترکہ کمزوری ہے۔ یہ عدم مساوات کو رویے کا مسئلہ سمجھتے ہیں، ساخت کا نہیں، مگر دراصل وہی ساخت دولت کی حفاظت کرتی ہے۔ وہی ساخت ملکیت کی تعریف طے کرتی ہے، اور اسی ساخت کو توڑنا ضروری ہے، نرم کرنا نہیں، تسلی دینا نہیں، بلکہ توڑنا۔ جب تک ایسا نہیں ہوتا، زکوۃ کچھ نقدی گردش میں رکھے گی، ٹیکس کچھ پروگراموں کو فنڈ دے گا، مگر سرمایہ جمع کرنے کی مشین وہی رہے گی، ان اصولوں سے غیرمتاثر جو اسے قابو میں لانے کا دعویٰ کرتے ہیں۔

Umair Khurshid

عمیر خورشیدجموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے ایڈیٹر عزم ہیں۔معاشیات اور ترجمہ علوم کے تعلیمی پس منظر کے ساتھ، سماجی و معاشی تاریخ کے سوالات پر لکھتے ہیں، بالخصوص منصوبہ بندی اور سیاسی معیشت پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں